ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں خبروں کی دنیا میں مایوسی بیچنا سب سے آسان کام ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرینوں اور اخبارات کی شہ سرخیوں پر نظر ڈالیں تو پیٹرولیم کے نرخ، روزمرہ اشیا کے اتار چڑھاو¿ اور سیاسی گرما گرمی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ عام آدمی صبح کا آغاز کرتا ہے تو مہنگائی کا بوجھ اس کے ذہن پر سوار ہوتا ہے اور بیروزگاری کا خوف اس کے قدموں کو زنجیر کرنے لگتا ہے۔ ایسی تیز رفتار اور بدلتی دنیا میں وہی قومیں اور افراد باقی رہتے ہیں جو بحران کے بیچ میں سے نئے راستے تراشنا جانتے ہیں۔ اگر ہم محض روایتی شکووں کے دائرے سے باہر نکل کر ملک اور دنیا میں جاری حقیقی تبدیلیوں کا مطالعہ کریں تو سمجھ آتا ہے کہ حالات اتنے تاریک بھی نہیں جتنا ہم انہیں خود پر طاری کر لیتے ہیں۔ اس وقت زمین پر خاموشی سے ایسی تبدیلیاں جنم لے رہی ہیں جو باہمت نوجوانوں کے لیے امکانات کے نئے در کھول رہی ہیں۔
ملکی معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھیں تو مثبت پیش رفت کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ پاکستان کے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور مالیاتی استحکام کے جو اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں وہ معمولی بات نہیں۔ سٹاک مارکیٹ میں کاروباری اعتماد کی بحالی اور توانائی کے شعبے میں طویل المدتی منصوبے دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اب محض وقتی فیصلوں پر نہیں بلکہ دیرپا ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے۔ چشمہ کے جوہری توانائی کے منصوبوں پر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ پیش رفت ہو یا چین کے ساتھ صنعتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے معاہدات ہوں یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان توانائی میں خودکفالت کے ساتھ ساتھ صنعتی پیداواری صلاحیت کو ایک نئی سمت دینے جا رہا ہے۔
عالمی منظرنامے پر اگر نگاہ دوڑائیں تو صورتحال محض جنگی تنازعات اور جیو پولیٹیکل کشمکش تک محدود نہیں۔ دنیا اس وقت صنعت کے چوتھے بلکہ پانچویں انقلاب کے دہانے پر کھڑی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس اور خودکار نظاموں نے پیداوار کے تمام روایتی طریقے یکسر بدل کر رکھ دیے ہیں۔ جہاں ایک طرف عالمی سطح پر بڑی کمپنیاں اور عالمی تنظیمیں اے آئی کی اخلاقی سرحدوں اور قوانین پر مباحثے کر رہی ہیں وہیں دوسری طرف تمام جدید صنعتوں کا انحصار اب ٹیکنالوجی پر آ چکا ہے۔ دنیا بھر کے بازار اب کسی کی جغرافیائی حدود، خاندانی پس منظر یا رسمی اسناد کے محتاج نہیں رہے۔ ایک لیپ ٹاپ اور معیاری انٹرنیٹ کے ذریعے لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی یا بلوچستان کے کسی دور دراز قصبے میں بیٹھا نوجوان دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک کی کسی کمپنی کو اپنے فکری جوہر بیچ سکتا ہے۔
یہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ ہمارے نوجوان اس وقت شدید معاشی دباو¿ میں ہیں۔ مہنگائی کی شرح نے گھریلو بجٹ درہم برہم کر رکھے ہیں لیکن کیا اس مشکل کا حل صرف مایوسی اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے میں ہے؟ روایتی ملازمتوں کے پیچھے بھاگنے اور سرکاری نوکریوں کے انتظار میں اپنی قیمتی جوانی کے سال ضائع کرنے کا زمانہ اب بیت چکا ہے۔ ہمارا نوجوان اگر صرف یہ سوچتا رہے گا کہ کوئی ادارہ آئے گا اور اسے روزگار کی تھالی سجا کر پیش کرے گا تو یہ اس کی معصومیت ہے۔ آج کا دور سیلف میڈ انسانوں کا دور ہے۔ جدید دنیا نے ذرائع کی کمی کا بہانہ بھی چھین لیا ہے کیونکہ علم، ٹولز اور پلیٹ فارمز سب کے لیے یکساں طور پر آن لائن دستیاب ہیں۔
ہمارے نوجوانوں کو روایتی گھنٹوں کے حساب سے مزدوری کرنے یا معمولی ڈیٹا انٹری جیسی خدمات پر انحصار کرنے کی بجائے اب جدید ڈیجیٹل اسکلز کی طرف جانا ہوگا۔ پاکستان نے جس طرح اپنی نیشنل اے آئی پالیسی پر کام شروع کیا ہے اور سروسز کے بجائے خود اپنے پروڈکٹس بنانے کی طرف توجہ دی ہے، یہ نوجوانوں کے لیے واضح اشارہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے طالب علم اور پیشہ ور افراد پرامپٹ انجینئرنگ، آٹومیشن کے ٹولز، ایجنٹک سسٹمز اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کریں۔ مصنوعی ذہانت کسی انسان کی جگہ نہیں لیتی لیکن وہ اس انسان کی جگہ ضرور لے لیتی ہے جو مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنا نہیں جانتا۔ جو نوجوان وقت کی نبض کو پہچان کر خود کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر لیں گے ان کے لیے مہنگائی کی تپش محض ایک وقتی آزمائش بن کر رہ جائے گی۔
ڈیجیٹل میڈیا اور کانٹینٹ اکانومی بھی نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا میدان بن کر ابھری ہے۔ آج کا نوجوان محض ایک صارف بن کر اسکرینیں اسکرول کرنے کی بجائے ایک تخلیق کار بن سکتا ہے۔ میڈیا، تحریر، ویڈیو پروڈکشن اور ڈیجیٹل ڈیزائن کے ذریعے عالمی مارکیٹ کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل فری لانسرز اور ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے بین الاقوامی ادائیگیوں کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ ہموار ہو رہا ہے۔ جب زر مبادلہ براہ راست کسی نوجوان کے بینک اکاو¿نٹ میں آتا ہے تو اس سے نہ صرف اس کے اپنے گھر کا چولہا عزت سے جلتا ہے بلکہ وہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے والا خاموش سپاہی بھی بن جاتا ہے۔ اس عمل کے لیے کروڑوں روپے کے سرمائے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف خلوصِ نیت، روزانہ چند گھنٹوں کی سنجیدہ پریکٹس اور لگن درکار ہے۔
بہت سے نوجوان اپنے اساتذہ، رہنماو¿ں یا اداروں کے رویوں پر گلہ کرتے ہیں کہ انہیں سیکھنے کا موزوں ماحول نہیں ملتا۔ یاد رکھیے کہ زندگی میں استاد صرف راستہ دکھا سکتا ہے مگر اس راستے پر دوڑنا خود طالب علم کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ استاد کی رہنمائی اور محنت اس وقت تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتی جب تک شاگرد خود مشق کرنے، غلطیوں سے سیکھنے اور اپنی مہارت کو تراشنے کا جنون نہ رکھتا ہو۔ اگر آپ روزانہ کچھ نیا نہیں سیکھ رہے اور صرف حالات کو کوس رہے ہیں تو وقت کی رفتار آپ کو بہت پیچھے چھوڑ جائے گی۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مستقل مزاجی کا دامن تھامیں۔ کوئی بھی ہنر ایک رات میں دولت کا انبار نہیں لگاتا۔ کسی بھی نئی اسکل پر روزانہ دو گھنٹے کی مسلسل اور گہری پریکٹس چند ماہ کے اندر ایک عام انسان کو ماہر کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔ اب ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں آپ کی بےروزگاری بھی اللہ کی جانب سے ایک کامیاب مستقبل کی نوید ہو سکتی ہے۔ محض 6 ماہ کی مسلسل محنت آپکو نئی ٹیکنالوجی کا ماہر بنا کر ہزاروں کی بجائے لاکھوں کمانے والوں کی فہرست میں کھڑا کر سکتی ہے۔
ہمیں اجتماعی سطح پر بھی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ ملک کی بنیادیں کسی کے ملک چھوڑ جانے یا عارضی مشکلات سے نہیں گرتی ہیں بلکہ قوموں کی تقدیر اس بات سے طے ہوتی ہے کہ ان کی نوجوان نسل مشکلات کو رکاوٹ سمجھتی ہے یا آگے بڑھنے کا زینہ۔ مہنگائی کی مار اگر جسم کو تھکاتی ہے تو ذہن کو بیدار بھی کر سکتی ہے تاکہ وہ زیادہ کمانے اور بہتر زندگی گزارنے کی راہیں تلاش کرے۔ معاشی اعداد و شمار کے مثبت اشارے اس بات کی نوید ہیں کہ پاکستان کے لیے مستقبل کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کے پاس سب سے بڑی دولت اس کے کروڑوں باصلاحیت نوجوان ہیں۔ اب فیصلہ ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ حالات کے جبر کے سامنے سر جھکانا چاہتے ہیں یا اپنی لگن سے ایک شاندار کل کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔
اندھیروں کے پار نئی صبح کی دستک
09:26 AM, 17 Sep, 2026