آزاد جموں و کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ نظریہ پاکستان کی اساس اور قائداعظم کے فرمودات کے مطابق پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ایک منظم سازش کے تحت بیرونی عناصر اور مفاد پرست ٹولوں کی جانب سے خطے میں انتشار اور بے یقینی پیدا کرنے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حقائق کو مسخ کر کے تاثر دیا جاتا ہے کہ خطہ محرومیوں کا شکار ہے۔ تاہم، دھرنوں اور سرحد پار سے چلائی جانے والی ہائبرڈ جنگ کا مسکت جواب ٹھوس معاشی حقائق، تاریخی ترقیاتی بجٹ اور پاکستان کے ساتھ اٹوٹ شراکت داری ہے۔
ریاست کی معاشی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2025–26 میں آزاد کشمیر نے تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کیا، جس کا مجموعی حجم 310.20 ارب روپے تھا اور ترقیاتی پروگرام (ADP) کا حجم 49 ارب روپے رکھا گیا۔ اس خطیر رقم کی باقاعدہ تقسیم کی گئی، جس میں مواصلات و تعمیرات کے لیے 15 ارب، نظامِ صحت کے لیے 6 ارب، تعلیم کے لیے 5 ارب، مقامی حکومت و دیہی ترقی کے لیے 5 ارب، اور توانائی و آبی وسائل کے لیے 4.80 ارب روپے رکھے گئے۔
دورِ جدید کے تقاضوں کے تحت آئی ٹی کے لیے 800 ملین، تحقیق و ترقی (R&D) کے لیے 1.40 ارب، سیاحت کے لیے 700 ملین اور نوجوانوں، کھیل و ثقافت کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے۔ یہ ماڈل ثابت کرتا ہے کہ فوکس صرف سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ ڈیجیٹل معیشت اور انسانی وسائل کی تعمیر بھی ترجیح ہے۔
ترقی کا یہ تسلسل مالی سال 2026–27 میں بھی برقرار ہے، جہاں مجموعی بجٹ 286 ارب روپے اور ترقیاتی پروگرام 36 ارب روپے رکھا گیا ہے، جس کا ہدف انفراسٹرکچر کی تکمیل، پیداواری شعبوں کا استحکام اور سماجی بہبود ہے۔ وفاقِ پاکستان ریاست کی پشت پر کھڑا ہے۔ وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام (PSDP) 2026–27 میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے تقریباً 89 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاق کے زیرِ سایہ آزاد کشمیر میں جاری ترقیاتی پورٹ فولیو کا حجم 43 ارب روپے سے زائد ہے، جس میں وزیراعظم خصوصی پیکیج اور بلاک الاٹمنٹس شامل ہیں۔ مالی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے مالی سال 2026–27 میں وفاقی ویری ایبل گرانٹ کا تخمینہ تقریباً 146 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو مرکز اور ریاست کے گہرے اعتماد کا مظہر ہے۔
فلاحی محاذ پر دسمبر 2025 میں وزیراعظم پاکستان نے مظفرآباد میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیالوجی (KINOR) اور میرواعظ مولوی محمد فاروق شہید میڈیکل کالج کا افتتاح کیا۔ جنوری 2026 میں وزیراعظم ہیلتھ کارڈ کی آزاد کشمیر تک توسیع سے لاکھوں شہریوں کو مفت علاج کی سہولت ملی۔ مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے 2025 اور 2026 میں صحت، بجلی کے نیٹ ورک، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سڑکوں کے منصوبوں کی منظوری دی۔ نئی حکومت کے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام میں موبائل ہسپتال اور تعلیمی سہولیات کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔
دفاعی محاذ اور سیکیورٹی اداروں کا کردار ریڑھ کی ہڈی ہے۔ لائن آف کنٹرول (LoC) پر بھارتی اشتعال انگیزیوں کا جواب دینا ہو یا نہتے شہریوں کی حفاظت، پاک فوج نے ہمیشہ دفاع کا حق ادا کیا ہے۔ عسکری ادارے سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) کے ذریعے دشوار گزار علاقوں میں 4G نیٹ ورک، سیلولر سروسز اور آپٹیکل فائبر لائنز کا جال بچھا کر نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑ رہے ہیں۔ لائن آف کنٹرول سے متصل آبادیوں کی بحالی، آبی و پن بجلی منصوبوں کی تعمیر ریاستی اداروں اور عوام کے باہمی اعتماد کا ثبوت ہے۔
آزاد کشمیر کی یہ ترقی دشمن کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال کرنے والا بھارت خفت مٹانے کے لیے را (RAW) کے ذریعے سازشیں بن رہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین پر موجود تخریب کار عناصر اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ سے ہائبرڈ وار فیئر کے ذریعے انتشار پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چند زرخرید عناصر سوشل میڈیا پر محرومیوں کا راگ الاپ کر نوجوانوں کو گمراہ کرنے پر تلے ہیں۔
انتشار پسند عناصر کو واضح پیغام ہے کہ محض نعروں کا وقت گزر چکا۔ جو بیانیہ صرف شکایات تک محدود ہے، اسے سڑکوں، ہسپتالوں، میڈیکل کالجز، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور 310 ارب روپے کے بجٹ کا سامنا کرنا ہوگا۔ آزاد کشمیر کے عوام، وفاقِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کی عملی شراکت داری ہر بیرونی سازش کو کچل کر خطے کو خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن رکھے گی۔
معاشی ترقی، ریاستی یکجہتی اور دشمن کے عزائم کی شکست
09:23 AM, 17 Sep, 2026