روزانہ 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری: طلال چودھری

02:16 PM, 16 Sep, 2026

اسلام آباد: وزیرمملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں اور ٹیرر کرائم نیٹ ورک کے خلاف ملک بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں، روزانہ تقریباً 200 کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

 نیوز کانفرنس میں طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ افغان ٹیرر کرائم نیٹ ورک دہشت گردی، اسلحے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کاری کر رہا ہے، جبکہ دہشت گردوں کو بیرونی قوتوں کی مدد بھی حاصل ہے۔

 وزیرمملکت کے مطابق ٹیرر کرائم نیٹ ورک منشیات، اسلحے، پٹرول اور لگژری گاڑیوں کی اسمگلنگ سمیت مختلف غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر قانونی کاروبار دہشت گرد نیٹ ورک کو مالی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرتے ہیں۔

 طلال چودھری نے ایک کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ضیا نامی شخص کو گرفتار کیا گیا، جو مبینہ طور پر گزشتہ ایک دہائی سے اسلحے کی فراہمی میں ملوث تھا۔ ضیا کے ماجد، سردار امان اور افغانستان سے اسلحہ بھیجنے والے زرشاد سے روابط کا بھی دعویٰ کیا گیا۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں سے دہشت گردی کے چیلنجز کا سامنا ہے اور جب تک ٹیرر کرائم نیٹ ورک کو نہیں توڑا جائے گا، دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

 وزیرمملکت نے آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے کہا کہ اسے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا، جبکہ ان کے بقول کمیٹی نے آزاد کشمیر کے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کی۔

 طلال چودھری نے کہا کہ بعض سیاسی کارکن اور عناصر جانے انجانے میں ٹیرر کرائم نیٹ ورک کا حصہ بنتے ہیں، جبکہ سیاسی پشت پناہی کے امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 انہوں نے بتایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈرائیو میں 20 سے زائد نکات شامل ہیں۔ وزیر داخلہ ہر ماہ اس کا جائزہ لیتے ہیں، جبکہ وزیراعظم ہر تین سے چار ماہ بعد کاؤنٹر ٹیررازم ڈرائیو پر اجلاس کرتے ہیں۔

مزیدخبریں