مقدس غدار

09:12 AM, 16 Sep, 2025

میں چشم تصور سے عظیم کنفیوشس کو دیکھ رہا ہوں جسے چینی بادشاہ سی کنگ بُلا کر پوچھ رہا ہے کہ کب ریاست عوامی غضب کا شکار ہوتی ہے۔ کنفیوشس بتا رہا ہے کہ عوام ہر حال میں گزارہ کر لیتے ہیں لیکن اگر عوام کا ریاست پر اعتماد ختم ہو جائے تو پھر ریاست نہیں بچتی۔ جناب مسیح علیہ سلام سے ساڑھے پانچ سو سال پہلے پیدا ہونے والے کنفیوشس کو معلوم تھا کہ عوام کو ریاست پر اعتماد ہو تو وہ بھوک، ننگ، مہنگائی، علاج کی عدم دستیابی، سیلاب اور جنگ سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں سو حکمران ہمیشہ عوام کا ریاست پر اعتماد ختم نہیں ہونے دیتے جبکہ ریاست دشمن عناصر کا سب سے بڑا حملہ بھی عوامی اعتماد پر ہوتا ہے۔ پاکستان اور بھارت سخت حریف ریاستیں ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی پاکستانی کا بیانیے وہی ہو جو ”را“ اور مودی کا ہے؟ دشمن کا بیانیہ اپنا کر کوئی شہری اپنی ریاست میں رہنا تو دور کی بات زندہ بھی نہیں رہ سکتا لیکن اگر اس کے باوجود کوئی برملا سینہ تان کر نہ صرف دشمن کا بیانیہ اپناتا ہے بلکہ اس پر فخر بھی کرتا ہے تو اُس کا خاتمہ لازمی ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ عمران نیازی نےازی نے ایک تواتر اور تسلسل سے اپنے منہ میں مودی کی زبان ڈال رکھی ہے۔ جو خوارج چوری چھپے افغانستان سے داخل ہوتے ہیں پاکستان کے جغرافیے میں کتے کی موت مار دیئے جاتے ہیں لیکن جو ریاست کے مرکز میں بیٹھ کر وہی بیانیے آوازیں لگا لگا کر بیچ رہا ہے اُس کو جیل میں دعوتِ شیراز کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ پرویز مشرف عمران نیازی کو کلین شیو دہشت گرد اور استاد محترم اجمل نیازی طالبان خان لکھتے تھے تو اچھا نہیں لگتا تھا، ڈاکٹر اسرار نے یہودی ایجنٹ کہا اور حکیم سعید نے لکھا تو بھی دل دکھتا تھا لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ عمران نیازی دہشتگردوں کا سہولت کار نہیں بلکہ خود بدترین دہشت گرد ہے۔ مسٹر نیازی نے آج تک اپنے بیانات، ایکس، تقاریر، فیصلوں اور یو ٹرنز سے یہ ثابت کیا ہے کہ اُن کی تمام تر ہمدردیاں سرحد کے اُس پار ہیں اور آج کی بات نہیں طالبان کے حوالے سے میری اُس کے ساتھ طویل بحثیں ہوئی ہیں لیکن وہ اپنے اندر خود ایک رنگ باز جعلی قبائلی عسکریت پسند چھپائے بیٹھا تھا جو نکل کر ساری قوم کے سامنے آ چکا ہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد نیازی نے صرف دیانتداری سے اپنی غیر اعلانیہ فوج یکجا کر کے بلوچستان اور کے پی کے میں چھپائی ہے جس میں ”را“ کے اعلیٰ عہدیدار ہمیشہ اُس کے رابطے میں رہے ہیں۔ بظاہر بسائے گئے دہشتگردوں کی تعداد 35 ہزار بتائی جاتی ہے لیکن مجھے یقین کامل ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ افغان دہشتگردوں اور خوارج نے آرمی کے آفیسر اور جوانوں سے لے کر اے این پی کے ورکرز اور قیادت، محترمہ بے نظیر بھٹو سے لے کر پیپلز پارٹی کے ورکر اور عام پاکستانی سب کو نشانہ بنایا لیکن تحریک انصاف کے کسی ورکر کو اُن کی طرف سے خراش تک نہیں آئی۔ 9 مئی کرنے کے بعد پی ٹی آئی کی ساری قیادت یا افغانستان میں رہی یا پھر کے پی کے اور بلوچستان میں یہی وجہ تھی کہ منظر پر آنے والا ہر شخص داڑھی کے ساتھ نظرآیا۔ پی ٹی آئی کی قیادت آپ کو کبھی خوارج کی مذمت کرتے نظر نہیں آئے گی مجھے زمان پارک میں عمران نیازی کے گیس ماسک پہن کر نکلنے سے ہی انداز ہو گیا تھا کہ یہ آنے والے دنوں میں خوارج کو لیڈ کرے گا اور یہ کام وہ آج کر رہا ہے۔ کیا آج بھی یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ عمران خان خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے ذریعے کے پی کے میں فوجی آپریشن رکوا رہا ہے؟ جبکہ خوارج کو خیبر پختون خوا میں بدترین دباﺅ کا سامنا ہے۔ نیازی کے لاتعداد بیانات ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں طالبان، فتنہ خوارج اور افغانوں کے حق میں اس کی کھلی حمایت کا ثبوت ہیں جو ریکارڈ کا اہم حصہ ہے۔ کیا ابھی کوئی شک باقی رہ گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا وزیرِاعلیٰ دہشت گردی، جرائم کے گٹھ جوڑ کا براہِ راست فائدہ اٹھا رہا ہے کیونکہ اسے تمام مالی سودوں میں اپنا حصہ ملتا ہے۔ خوارج نے اسے شہداءکے جنازوں اور ان کے خاندانوں سے دور رہنے کی ہدایت بھی دے رکھی ہے جس پر وہ سختی سے کاربند ہے۔ پاکستان کے عوام اِس کھلی بدمعاشی اور ریاست مخالف تحریک سے تنگ آ چکے ہیں سو پاکستانیوں کو مزید عذاب میں مبتلا رکھنا عوام کا ریاست پر اعتماد ختم کرنے کے مترادف ہو گا اور عوام کا ریاست پر اعتماد ختم کرنا نیازی کا پہلا ایجنڈا ہے۔ سو یہی وقت ہے کہ اس پریس ٹرسٹ آف انڈیا (PTI) کی دکانداری کو بڑھا دیا جائے ورنہ سیلابی پانی کے مکمل اترنے کے بعد پی ٹی آئی ریاست پر عدم اعتماد کا طوطم اٹھائے منظر عام پر ہو گی۔ خوارج جنہیں رسول اللہﷺ نے جہنم کے کتے کہا ہے افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں پھر پاکستان میں داخل ہو کر دہشتگردانہ حملے کرنے کے بعد مساجد اور حجروں میں جا چھپتے ہیں۔ پاکستان، پاکستانیوں کو اپنے ماں باپ، اولاد، کاروبار اور کسی بھی قیمتی متاع سے زیادہ عزیز ہے سو ہمیں یقینا بڑے اقدام اٹھاتے ہوئے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے کسی بھی حد تک جانا پڑے گا ورنہ میں نے رپورٹنگ کے دوران بہت سی لاشوں کے بازوں پر امام ضامن بندھے دیکھے ہیں جس سے مجھے یہ بات تو بم دھماکوں سے گونجتے ہوئے لاہور سے ہی سمجھ آ گئی تھی کہ جس کی ضامن ریاست نہ ہو پھر امام ضامن اُس کی حفاظت کہاں کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے جس حوصلے سے دہشتگردی کے خاتمے کا 
حوصلہ افزا بیان دیا ہے اُس سے کہیں زیادہ ہمت کے ساتھ اس ناسور کو ختم کرنا ہو گا۔ شرمندگی تو اس بات پر ہے کہ خیبر پختونخوا کے بہادر عوام دہائیوں سے ہر قسم کا نقصان برداشت کر رہے ہیں لیکن عمران نیازی نے اپنے بغل بچے علی امین گنڈاپور کے ذریعے صوبائی گورنس اور وسائل دہشتگردوں کیلئے حاضر کر رکھے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا بیان حوصلہ افزا ہے لیکن کے پی کے حکومت کا آئین اور قانونی بندوبست کیے بغیر کچھ بھی کرنا بالکل ایسے ہی ہو گا کہ آپ نے اپنے قتل کیلئے تیز ترین تلوار اپنے دشمن کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ خود کو مقدس غدار تصور کرنے والوں سے جان خلاصی کرا لی جائے۔ ورنہ کنفیوشس نے جناب مسیحؑ کی پیدائش سے ساڑھے پانچ سو سال پہلے سمجھا دیا تھا کہ اداروں پر عوام کا عدم اعتماد کیا رنگ لاتا ہے۔ کروڑوں پاکستانی اس طالبانی عذاب سے چھٹکارے کیلئے اپنی ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کو اُسی دل گردے کے ساتھ خوارج اور اُن کے ساتھیوں کے ساتھ نمٹنا ہو گا جس بہادری سے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا تھا۔

مزیدخبریں