پنجاب حکومت کا انتہا پسندی، غیر قانونی اسلحہ اور غیر ملکیوں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

10:53 AM, 16 Oct, 2025

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور کئی بڑے فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ نفرت پھیلانے، تشدد اور قانون شکنی میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی، اور ان افراد کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات چلائے جائیں گے جنہوں نے پولیس افسران کو شہید کیا یا عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔

صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا کہ انتہا پسندی میں ملوث ایک جماعت کی قیادت کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا، ان کی جائیدادیں محکمہ اوقاف کے حوالے کر دی جائیں گی، ان جماعتوں کے پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی، اور ان کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پر ان جماعتوں کی سرگرمیاں روکنے کے لیے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے، اور لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

افغان شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کومبنگ آپریشن کیا جائے گا۔

غیر قانونی اسلحہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اسلحہ کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، اور اسلحہ بیچنے والے تمام ڈیلرز کے سٹاک کا معائنہ کیا جائے گا۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے جس پر 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزیدخبریں