شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی 74 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

12:22 PM, 16 Oct, 2025

لاہور : آج پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور تحریک پاکستان کے اہم رہنما نوابزادہ لیاقت علی خان کی 74 ویں برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ لیاقت علی خان کو ان کی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور قیام پاکستان میں اہم کردار کی وجہ سے "قائد ملت" کا خطاب دیا گیا۔ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تھے اور آزادی کی جدوجہد کے مرکزی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

16 اکتوبر 1951 کو ایک جلسے کے دوران لیاقت علی خان کو ایک بدبخت شخص نے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ ان کا یہ قتل پاکستانی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک لمحہ تھا، جسے قوم ہمیشہ "شہیدِ ملت" کے طور پر یاد رکھے گی۔

لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1896 کو مشرقی پنجاب کے ضلع کرنال میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک نواب خاندان کے فرد تھے، لیکن آزادی کی جدوجہد میں شامل ہونے کے لیے انہوں نے اپنی تمام آسائشیں قربان کر دیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے نہ صرف ایک محنتی وزیراعظم کے طور پر کام کیا بلکہ قوم کے لیے اپنے فرائض بہت ایمانداری سے انجام دیے۔

تعلیمی لحاظ سے، لیاقت علی خان نے 1918 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ لیا۔ ہندوستان واپس آ کر انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1936 میں مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل کے طور پر کام شروع کیا۔ قائداعظم کی وفات کے بعد انہیں پاکستان کا پہلا وزیرِاعظم منتخب کیا گیا۔

ان کے آخری الفاظ ’’خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘ تھے۔ انہیں راولپنڈی کے کمپنی باغ میں شہید کیا گیا، جسے بعد میں ’’لیاقت باغ‘‘ کا نام دیا گیا۔ ان کے قاتل کو فوراً موقع پر ہی ایک پولیس افسر نے ہلاک کر دیا، لیکن اس قتل کی وجوہات آج تک سامنے نہیں آ سکیں۔

لیاقت علی خان، جو ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہیں گے، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کے احاطے میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔

مزیدخبریں