افغانستان میں طالبان رجیم چینج

09:20 AM, 16 Oct, 2025

افغانستان ایک بار پھر خطے کی سیاست کا محور بن چکا ہے۔ طالبان کی موجودہ حکومت جو اگست 2021ء میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد برسرِ اقتدار آئی اب اندرونی و بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا طالبان کی حکومت کا خاتمہ یا اس میں تبدیلی ممکن ہے؟ اور اگر ایسا ہوا تو افغانستان میں کیسی حکومت آئے گی — کیا کوئی جمہوری یا مخلوط سیٹ اپ دوبارہ قائم ہوسکے گا؟ ایسے حالات نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے مستقبل پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوں گے۔ طالبان حکومت کو اب چار سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے مگر اس دوران افغانستان میں سیاسی استحکام آیا نہ اقتصادی بحالی ہوئی۔ خواتین کی تعلیم پر پابندی، اقلیتوں کے حقوق کی پامالی، میڈیا پر قدغنیں اور بین الاقوامی تنہائی نے افغان معاشرے کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ افغان معیشت زوال پذیر ہے، بے روزگاری عام ہے اور افغان کرنسی دباؤ میں ہے۔
طالبان کی صفوں میں بھی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ قندھار گروپ (ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حامی) اور کابل گروپ (سراج الدین حقانی و ملا یعقوب کے حلقے) کے درمیان پالیسی اور طاقت کی رسہ کشی جاری ہے۔ طالبان کے بعض رہنما مغربی دنیا سے تعلقات بہتر بنانے کے خواہاں ہیں، جبکہ دوسرے سخت گیر اور دقیانوس نظریات پر قائم ہیں۔ یہ داخلی تقسیم طالبان کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو افغان اقتدار کے ایوانوں میں دراڑیں گہری ہو سکتی ہیں جس سے کسی بیرونی حمایت یافتہ تبدیلی یا اندرونی بغاوت کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔ تاریخی طور پر افغانستان میں کوئی حکومت زیادہ دیر تک مطلق العنان انداز میں قائم نہیں رہ سکی۔ سردار داؤد خان، نجیب اللہ، حتیٰ کہ امریکی حمایت یافتہ اشرف غنی سب کا انجام ایک ہی تھا۔ طالبان بھی اس تاریخی حقیقت سے مستثنیٰ نہیں۔ اگرچہ طالبان کی فوجی گرفت مضبوط ہے مگر ان کے خلاف عوامی ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ خواتین، نوجوان اور شہری طبقات اب خاموش نہیں رہے۔ دوسری جانب شمالی اتحاد کے سابق عناصر، تاجک اور ازبک رہنما، دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔ احمد مسعود، عطا محمد نور، اور دیگر شخصیات خفیہ طور پر خاصے متحرک ہیں۔
عالمی سطح پر بھی طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کیے جانے کی پالیسی برقرار ہے۔ امریکہ، یورپ حتیٰ کہ چین اور روس بھی طالبان سے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ اگر داخلی بغاوت کے ساتھ بین الاقوامی دباؤ بڑھا تو طالبان حکومت کی تبدیلی ایک حقیقت بن سکتی ہے … شاید کسی عبوری یا ’’شراکتی‘‘ سخت گیر طالبان مخالف سیٹ اپ کی صورت میں۔
طالبان کے بعد اگر کوئی نیا نظام آتا ہے تو مکمل جمہوری حکومت کا قیام فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔ افغانستان میں جمہوریت کا تصور اب بھی کمزور ہے کیونکہ معاشرہ قبائلی اور مذہبی بنیادوں پر منقسم ہے۔ تاہم ایک شراکتی یا نیم جمہوری نظام … جس میں طالبان کے معتدل رہنما، سابق ٹکنوکریٹس اور نسلی اقلیتوں کے نمائندے شامل ہوں … زیادہ حقیقت پسندانہ امکان ہے۔
ایسا سیٹ اپ عالمی برادری کے لیے بھی قابلِ قبول ہوگا، کیونکہ وہ خواتین کے حقوق، تعلیم اور انسانی آزادیوں کے حوالے سے نرم سوچ کا حامل ہو گا۔ امریکہ اور یورپی ممالک ایسے کسی عبوری سیٹ اپ کو مالی امداد دینے پر آمادہ ہو سکتے ہیں بشرطیکہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کو دوبارہ پناہ نہ دی جائے۔ ماضی میں طالبان رہنما ملا عمر نے اسامہ بن لادن کو نہ صرف افغانستان میں محفوظ پناہ دی بلکہ اس سے قریبی رشتہ داری بھی استوار کر لی۔ امریکہ نے اس کا تعاقب کیا تو افغان طالبان رہنما ملا عمر نے اسے سینے سے لگا لیا۔ آج بھی افغان طالبان دنیا بھر کے دہشتگرد گروپوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ پاکستان کے لیے طالبان کی حکومت ابتدا میں ایک ’’اسٹریٹجک جیت‘‘ سمجھی گئی تھی۔ اسلام آباد نے امید ظاہرکی تھی کہ کابل میں دوستانہ حکومت پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرے گی اور ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے خلاف سخت کارروائی کرے گی مگر یہ امیدیں جلد ہی ٹوٹ گئیں۔
طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا بلکہ اس کے رہنماؤں کو پناہ دی۔ نتیجتاً پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ سرحدی جھڑپیں عام ہو گئیں اور تعلقات میں تلخی بڑھ گئی۔ اگر طالبان حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے یا کسی نئی حکومت کی تشکیل ہوتی ہے تو پاکستان کے لیے یہ ایک موقع بھی ہوگا اور خطرہ بھی۔ موقع اس لیے کہ نئی افغان حکومت ممکنہ طور پر عالمی برادری سے قریب ہوگی جس کے نتیجے میں علاقائی تعاون کے دروازے کھل سکتے ہیں اور خطرہ اس لیے کہ اگر طالبان دوبارہ مزاحمت میں چلے گئے تو افغانستان دوبارہ خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے… اور اس کے اثرات براہِ راست پاکستان کے سرحدی علاقوں میں محسوس ہوں گے۔
افغانستان میں خانگی انتشار یا بغاوت کی صورت میںطالبان کے اندرونی اختلافات بغاوت میں بدل گئے تو افغانستان دوبارہ خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔ یہ سب سے خطرناک صورتحال ہوگی کیونکہ اس سے لاکھوں پناہ گزین دوبارہ پاکستان کا رخ کریں گے اور ٹی ٹی پی کو مزید جگہ مل سکتی ہے۔ پاکستان کو کسی ممکنہ تبدیلی کے لیے سفارتی و انٹیلی جنس سطح پر پیش بندی کرنا ہوگی۔ کابل سے مکمل انقطاع کے بجائے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا بہتر ہوگا۔ چین، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ مشترکہ پالیسی اپنانا ضروری ہے تاکہ افغانستان میں کوئی بھارتی حمایت یافتہ عدم استحکام پیدا نہ ہو۔ پاکستان کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ افغانستان میں پائیدار امن صرف افغان عوام کی شمولیت سے ممکن ہے نہ کہ کسی مخصوص گروہ کی بالادستی سے۔ پاکستان کا مفاد ایک مستحکم، کثیر النسلی اور غیر جارحانہ افغانستان میں ہے ایسا افغانستان جو بھارت کی گرفت سے آزاد ہو۔
طالبان حکومت کا خاتمہ یقینی نہیں مگر ناممکن بھی نہیں۔ داخلی اختلافات، عالمی تنہائی اور عوامی دباؤ طالبان کے اقتدار کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگر حالات بدلے تو ایک نیا سیاسی ڈھانچہ جنم لے سکتا ہے … ممکن ہے کہ مکمل جمہوریت نہ ہو، مگر ایک ایسا نظام ضرور ہو جو بھارت نواز نہ ہو، جس میں اعتدال، عوامی نمائندگی اور بین الاقوامی قبولیت ہو۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہوگا کہ وہ اس تبدیلی کو خطرہ نہیں بلکہ موقع سمجھے۔ افغانستان میں اگر امن اور معتدل نظام قائم ہوتا ہے تو پورا خطہ … خصوصاً پاکستان … معاشی و سکیورٹی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ مگر اگر کابل دوبارہ جنگ کا میدان بنا تو اس کے دھماکے کی گونج سب سے پہلے پاکستان میں سنائی دے گی۔

مزیدخبریں