ہم سب امیر بن سکتے ہیں؟

09:17 AM, 16 Oct, 2025

جتنی تیزی سے اس وقت دنیا تبدیلیوں کی زد میں ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی اور یہ تبدیلی ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوئی ہے ہمارے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا موبائل فون اپنے اندر پوری دنیا کی معلومات اور کاروبار لئے موجود ہے۔ یہ ایسی سہولت ہے جس کا تصور آج سے سے پچیس تیس سال پہلے نہیں تھا ۔ لیکن اب ہر روز نت نئی کوئی نہ کوئی دریافت ہماری حیرت کو دو چند کر رہی ہے۔ کہا تو یہ جاتا ہے جو درست بھی ہے کہ تبدیلی ہی دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے اور اس کے ساتھ یہ سچائی بھی جڑی ہوئی ہے کہ تبدیل ہوتی ہوئی دنیا اس کی دریافتوں اور ایجادات کے ساتھ اگر انسان نے خود کہ نہ ڈھالا تو وہ تیز ترین ترقی، کامیابی اور آگے بڑھتی ہوئی دنیا سے بہت پیچھے رہ کر معدوم ہو جاے گا۔ لیکن جو لوگ جدید سائنسی علوم، ٹیکنالوجی،دریافتوں اور ایجادات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرتے جائیں گے وہ آگے بڑھتے بھی جائیں گے اور ترقی اور کامیابی کی اس دنیا میں اپنا حصہ بھی وصول کریں گے۔ہمارا تعلیمی نظام بہت ہی ناکارہ ہے جو نہ ہی اچھے انسان تیار کرنے میں مدد دے رہا ہے اور نہ ہی باعزت روزگار کمانے کا ذریعہ بن رہا ہے صرف ڈگری کے حصول کو ہم نے تعلیم کا نام دے رکھا ہے ورنہ اس ملک کے نوجوان بے روز گار نہ پھر رہے ہوتے۔ ہم ایک بہت دقیانوسی اور روایتی سسٹم سے گزر رہے ہیں۔لیکن جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب ہم بھی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے جارہے ہیں ہمارے وہ نوجوان جو کچھ کر گزرنے کی صلاحیت اور جذبہ رکھتے ہیں انہیں مہمیز دینے میں ای کامرس کے شعبے میں نام کمانے والے ماہر موجود ہیں جو کم تعلیم یافتہ اور ہنر مند لوگوں کے اندر صلاحتیں ابھارنے اور اجاگر کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ ای کامرس یا آن لائن کاروبار سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملا۔
آج دنیا بھر میں ای کامرس کے ذریعے آن لائن کاروبار نہ صرف بڑھتا جارہا ہے بلکہ اس شعبے کے حجم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ای کامرس سے جڑے اور خدمات میں مصروف معروف ای ماہرین نے جہاں ا س شعبے کے فروغ اور ٹیچنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے وہیں ان کے پاس ملک سے 
غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے کوششیں بھی سامنے آئی ہیں ۔پاکستان میں بھی اس شعبے سے جڑئے ماہرین کی کمی نہیں ہے ماہرین ایسے افراد جو تعلیم کی کمی کا شکار ہیں یا کم ہنر مند ہیں انہیں گھر بیٹھے باعزت روزگار کمانے کے ہنر سے آراستہ کر رہے ہیں، خصوصاً لڑکیاں اس طریقہ کار سے اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہوئے اس شعبے کی مہارتیں حاصل کر رہی ہیں۔ لوگوں کی راہنمائی کرنے والے افراد کسی بھی معاشرے کا صحت مند اور روشن چہرہ ہی نہیں بلکہ سرمایہ ہیں جو اپنے علم و ہنر کے ذریعے کم تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو روٹی روزی کمانے کے لئے جدید علم کی شمع روشن کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک سے غربت کا خاتمہ کر سکتے ہیں اتنا ناممکن کام وہ کیسے کر سکتے ہیں؟ ان کاکہنا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آن لائن تربیت کے ذریعے ہنر مند بنا کر انہیں کمانے کے قابل بنا سکتے ہیں اور وہ گھر بیٹھے کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ڈالروں میں کمائی کر کے اپنے کنبے کی غربت ختم کرنے کے ساتھ ملکی زر مبادلہ میں بھی اضافے کے ساتھ ملکی معیشت کو بہتر کرنے میں بھی فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔
 جتنی تیزی سے ای کامرس کے علم کو فروغ مل رہا ہے بہت جلد پاکستان ای کامرس کا مرکز بن جائے گا۔آن لائن کاروبار کو پاکستان میں تیزی سے حاصل ہوتی مقبولیت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ایک غریب ناداراور کم تعلیم یافتہ فرد کو تو کوئی بنک بھی قرضہ نہیں دیتا اور ایسے افراد ہمارے ملک کی اکثریت میں ہیں انہیں اگر مناسب راہنمائی مل جائے تو یہ لوگ دوکان کرائے پر لینے کی پریشانی اور پگڑی دینے کا جھنجھٹ سے بچ سکتے ہیں۔ یہ وہ علم ہے جس کے فروغ کے لئے انسان دوست افراد آگے آرہے ہیں۔ ای بزنس بنیادی طور پر ایک آسان، کم خرچ اور کم وقت والی تجارت ہے۔ اس میں دفاتر، عملے اور لوازمات کے جھنجھٹ سے جان چھوٹتی ہے۔ اس کے ذریعے صرف اشیا کی خریدوفروخت ہی نہیں کی جاتی، بلکہ خدمات بھی فراہم کی جاسکتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر فل ٹائم اور پارٹ ٹائم دونوں طرح سے آپ اپنی تجارت کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل سٹریٹجسٹ اور پاکستان میں گوگل پر کاروباری رموز سے واقف ماہرین کے مطابق ایک چھوٹا کاروبار، ون مین شو، اگر اچھے طریقے سے منصوبہ بندی کرے تو کم از کم مہینے میں لاکھ، دو لاکھ یا اس سے زائد قیمت کی مصنوعات آن لائن فروخت کر سکتا ہے۔
ایما زون سے کس طرح کمائی کی جاتی ہے اور اور پنی دولت میں کسیے اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے مارکیٹ میں کئی کتابیں موجود ہیں اس ضمن میں آپ آن لائن کس طرح گھر بیٹھے اپنا آن لائن سٹور بنا کر اسے مختلف مصنوعات سے بھرئیے اور پھر دنیا جہاں میں ڈیلیوری کے ذریعے اپنے گاہکوں کو ان کی من پسند اشیا فروخت کیجیے۔'اگر آپ ایک سال قبل سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں کم از کم چھ سو سے سات سو ملین ڈالرز کی آن لائن ٹرانزیکشن ہوئی ہیں۔ اعداد و شمار یہ بھی کہتے ہیں کہ گذشتہ سال 'انڈسٹری کا جو تخمینہ کے مطابق پاکستان کی آن لائن خریدوفروخت 1 ارب سے تجاوز کر جائے گی‘آن لائن کاروبار کرنے کا رواج گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں ثاقب اظہر جیسے نوجوان کی بدولت ہی بہت زیادہ ہواہے جنہوں نے اپنی تحریروں وڈیو چینلز کے ذریعے عوام الناس میں آگاہی پھیلانے کا کام کیا ہے اور آج لاکھوں افراد باعزت روزرگار کما رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو ایک طرف ایسے باہمت اور جدید علوم کے ماہر نوجوانوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں تو دوسری جانب ای کامرس کے شعبے کو فروغ دینے کے لئے حائل رکاوٹوں کو بھی دور کرنا چاہیے۔گزشتہ سال ای کامرس اور آن لائن کے شعبے سے وابستہ غیر ملکی بڑی کمپنیوں کے اثاثوں میں کھربوں ڈالر کا اضافہ ہوا لیکن ہم اس شعبے میں بھی ابھی تک بہت زیادہ ترقی نہیں کر سکے ہمیں بحیثیت مجموعی اپنی نوجوان نسل کی راہنمائی کے لئے ا ی کامرس اور آن لائن کے ماہرین کو آگے لانا چاہیے تاکہ ہمارے ملک سے غربت اور بھوک میں کمی واقع ہو سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت انٹر نیٹ کی سہولت کو سستا اور بلا رکاوٹ فراہمی کا بندوبست کرنے کے ساتھ موثر قانون سازی بھی کرے تاکہ ای کامرس سے وابستہ افراد قانونی طریقے سے اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ 

مزیدخبریں