پاکستان : دفاع سے تجارت تک ایک ابھرتی طاقت کی داستان

09:16 AM, 16 Oct, 2025

 جب میں فیلڈ مارشل سے پہلی بار ملا تھا، اْن کے لہجے میں عجب اعتماد تھا۔ اْنہوں نے کچھ ایساکہا: ملکوں کو اصل طاقت اپنے تاجروں، صنعت کاروں اور محنت کشوں سے ملتی ہے۔ اْس وقت یہ جملہ محض ایک خیال لگا، مگر آج جب میں دنیا کے نقشے پر پاکستان کی بدلتی ہوئی حیثیت دیکھتا ہوں تو اْن کی وہ بات حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ پاکستان اس وقت تزویراتی اور سفارتی دونوں محاذوں پر ایسی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے جن کی بنیاد اسی سوچ میں پوشیدہ ہے ، دفاعی خود اعتمادی کے ساتھ اقتصادی وسعت۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو ایک نئے زاویے سے استوار کیا ہے۔ علاقائی استحکام، سفارتی توازن اور اقتصادی روابط کو قومی مفاد کے تناظر میں جوڑا جا رہا ہے۔ دنیا کے بڑے فورمز اقوام متحدہ سے لے کر شنگھائی تعاون تنظیم تک میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نہ صرف شریک ہوتی ہے بلکہ اس کی موجودگی محسوس بھی کرائی جاتی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی متحرک سفارت کاری نے عالمی برادری کو باور کرایا ہے کہ پاکستان اب محض ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی قوت ہے جو اپنی سرزمین سے امن، تجارت اور تعاون کا پیغام دے رہا ہے۔
فیلڈ مارشل کی انتھک کاوشوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک سنجیدہ، منظم اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان نے دفاعی تعاون کے معاہدے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ کیے۔ ترکی، آذربائیجان، سعودی عرب، مصر اور نائجیریا جیسے ممالک کے ساتھ مشترکہ مشقیں، اسلحہ سازی کے منصوبے اور دفاعی تربیت کے پروگرام اس نئے اعتماد کی علامت ہیں۔ دفاعی صنعت میں پاکستان کی برآمدات دو سال کے دوران تقریباً 25 فیصد بڑھ چکی ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے اعلیٰ سطحی وفود اکثر عالمی دارالحکومتوں میں نظر آتے ہیں، جہاں اب پاکستان کے لیے احترام کا رویہ غالب ہے۔
اسی دوران عالمی سیاست کا مزاج بھی بدل رہا ہے۔ دنیا دو واضح اقتصادی بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے، اور پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو سفارتی و معاشی مفاد میں ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں صنعتی زونز، زرعی ٹیکنالوجی اور توانائی منصوبے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اس راہداری کو مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے جوڑنے کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش میں ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب فیلڈ مارشل کی سوچ کہ دفاعی طاقت کے ساتھ تجارتی قوت لازم ہے، اپنی معنویت ظاہر کر رہی ہے۔
حالیہ سفارتی کامیابیوں نے پاکستان کو ایک نئے اعتماد سے روشناس کرایا ہے۔ روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ پاکستان اب روس سے سستا تیل خرید رہا ہے اور ازبکستان، تاجکستان اور قازقستان کے ساتھ ریلوے و توانائی منصوبوں پر بات چیت جاری ہے۔ عرب دنیا میں بھی پاکستان کے لیے فضا سازگار ہو چکی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے نئے معاہدے کیے ہیں، جب کہ قطر نے ایل این جی کے علاوہ بندرگاہی ترقی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی سفارت کاری نے ہی تجارتی دروازے کھولے ہیں۔ جب ایک ملک اپنے دفاع میں مضبوط اور منظم نظر آتا ہے تو دنیا اسے سنجیدگی سے لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مغربی ممالک بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی تربیت، بارڈر سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی پروگراموں میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ برطانیہ، اٹلی اور فرانس میں پاکستانی فوجی افسران کے تبادلے کے پروگرام دوبارہ شروع ہو چکے ہیں۔ امریکہ نے بھی خاموشی سے دفاعی مکالمے کی بحالی کا عندیہ دیا ہے۔ اس تمام عمل نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک متوازن رْخ دیا ہے جہاں سلامتی اور معیشت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ یہ صورتِ حال کاروباری برادری کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔ اب تاجر برادری کو سمجھنا چاہیے کہ عالمی دروازے ان کے لیے کھل رہے ہیں۔ پاکستان اکنامک موومنٹ جیسے پلیٹ فارمز اس نئے عہد کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ ہماری تنظیم اور اس سے جڑے کاروباری افراد وماہرین اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان عرب ممالک، مغربی دنیا، افریقہ اور ایشیائی خطے کے ساتھ تجارت کے نئے راستوں کا ازسرنو جائزہ لے۔ پاکستان کو اپنے صنعتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کر کے برآمدات بڑھانے اور زراعت و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داریوں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اکنامک موومنٹ کے تحت یہ تصور اجاگر کیا جا رہا ہے کہ دفاعی قوت، خارجہ پالیسی اور معیشت تینوں مل کر ایک قومی حکمتِ عملی تشکیل دیں۔ اس کے بغیر ہم عالمی معیشت میں اپنا حقیقی مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ فیلڈ مارشل کی کاروبار دوست گفتگو، جو کبھی صرف ایک مشورہ محسوس ہوتی تھی، اب قومی ترقی کی بنیاد بنتی دکھائی دے رہی ہے۔  دنیا کے نقشے پر پاکستان کا تاثر تیزی سے بدل رہا ہے۔ جو قوم کبھی دفاعی پوزیشن پر دکھائی دیتی تھی، اب پراعتماد انداز میں سفارتی اور تجارتی میدانوں میں قدم بڑھا رہی ہے۔ عالمی رہنما پاکستان کی قیادت سے ملاقات کو اہم سمجھتے ہیں۔ وہ جو کبھی پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دیتے تھے، اب پس منظر میں جا چکے ہیں۔ پاکستان اپنی طاقت دریافت کر رہا ہے، اپنے کردار کو ازسرِ نو متعین کر رہا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ کاروباری طبقہ، نوجوان سرمایہ کار اور ماہرینِ صنعت بھی اس نئی توانائی کا حصہ بنیں۔ حکومت نے سمت درست کر لی ہے، اب معیشت کے میدان میں اسی جذبے اور نظم کی ضرورت ہے جو فیلڈ مارشل نے دفاع میں پیدا کیا۔ پاکستان کا مستقبل اس وقت ہمارے سامنے ہے ۔ ایک ایسا ملک جو اپنے دفاعی وقار کے ساتھ اقتصادی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا، ایک مضبوط، خود مختار، اور باعزت قوم کے طور پر۔

مزیدخبریں