ایک سیاسی خواب کی شکست ۔ ایک حقیقت نامہ

09:19 AM, 16 Nov, 2025

پاکستان کی سیاست کبھی بھی یک طرفہ منظرنامہ نہیں رہی۔ یہاں ہیرو لمحوں میں ولن بن جاتے ہیں اور مسیحا ایک جھٹکے میں متنازع کردار مگر عمران خان کی سیاسی کہانی، جو کبھی کرکٹ کے میدان کا بے تاج بادشاہ اور قومی افتخار تھا، اسی پیچیدہ تاریخ کا تازہ ترین باب ہے۔ وہ شخص جو ’’صاف پاکستان‘‘ اور ’’نیا پاکستان‘‘ کے نعروں کے ساتھ عوامی امیدوں کو یکجا کر رہا تھا، آج خود اُن الزامات اور بحرانوں کی گتھی میں الجھا ہوا ہے جنہیں سلجھانے کا وعدہ وہ قوم سے کیا کرتا تھا۔ برطانوی جریدے " دی اکانومسٹ" کے شائع کردہ ایک مضمون نے انگشت بدندان کر دیا کہ عمران خان کی سیاسی کمزوریوں کی بازگشت اہل مغرب تک بھی پہنچی اور کچھ تنقیدی پہلو سامنے آئے جن کا ذکر کرنا ضروری ہے۔
عمران خان کا سیاسی سفر ایک مثالی بیانیہ تھا بطور ایک آؤٹ سائیڈر، ایک کرپشن مخالف رہنما، ایک فلاحی ریاست کا علمبردار، لیکن اس سفر میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کی زندگی میں بشریٰ بی بی داخل ہوئیں۔ایک خاتون جو روحانیت، سجادہ نشینی اور صوفی سلسلے سے وابستگی کے سبب پہلے سے ایک خاص شناخت رکھتی تھیں۔ یہی موڑ ان کے سیاسی کردار، حکومتی فیصلوں اور ذاتی اعتماد کو نئی سمت دینے لگا۔یہ سلسلہ محض ازدواجی تعلق نہیں تھا بلکہ ناقدین اور سابق ساتھیوں کے مطابق یہ تعلق سیاست، روحانیت اور طاقت کے لے دے کا ایک ایسا مجموعہ تھا جس نے پورے نظامِ حکومت میں ایک نئی پیچیدگی شامل کر دی۔ وہ کہانیاں جو کبھی سرگوشیوں میں سنائی دیتی تھیں آج سیاسی گفتگو کے بیچ کھڑی حقیقتیں بن چکی ہیں۔
عمران خان ہمیشہ سے ایک روحانی میلان رکھنے والی شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں، مگر اقتدار کی ڈھلوان پر ان کا بشریٰ بی بی کی طرف بڑھتا سہارا ناقدین کے نزدیک ایک مختلف رخ اختیار کر گیا۔اُن دنوں جب سیاسی ناکامی، ٹوٹتے تعلقات اور دباؤ بڑھ رہا تھا، بشریٰ بی بی نہ صرف خان کی شریک حیات تھیں بلکہ اُن کی ’’راہنما‘‘ بھی بن گئیں، ایک ایسی راہنما جن کی تعبیرات، خواب، اشارے اور مشورے سیاسی فیصلوں تک کو متعین کرنے لگے اور یہی وہ تاثر ہے جس نے عمران خان کے مضبوط، بااعتماد اور فیصلہ کن لیڈر کے تصور کو کمزور کیا۔ عام ووٹر کے ذہن میں پیدا ہوا سوال یہی ہے کہ کیا ایک قومی رہنما اہم فیصلے سیاسی حکمت پر کرتا تھا یا روحانی اشاروں پر؟
مضمون کے اندر بیان کردہ سابق عملے، ڈرائیوروں اور وزرا کے دعووں کو دیکھا جائے ،چاہے وہ مبالغہ ہوں یا حقیقت مگر ایک تشویشناک تصویر ضرور بناتے ہیں۔رسومات، عملیات، مخصوص گوشت کی ہمہ وقت دستیابی، اور طیارے کے اڑنے تک کے فیصلے کا بشریٰ بی بی کی اجازت سے مشروط ہونا ،یہ سب ایک ایسے قومی رہنما کے گرد ایک دربارانہ، روحانی فضا قائم کرتا ہے جو جدید سیاست کے اصولوں سے کہیں دور دکھائی دیتا ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی غیر سائنسی سوچ اور مذہبی استحصال سیاست کا حصہ رہا ہے، یہ بیانیہ اصلاح کی سیاست کے برعکس کھڑا ہوتا ہے۔پی ٹی آئی ہمیشہ خود کو ادارہ جاتی سیاست، میرٹ، نوجوانوں کے اعتماد اور صاف شفاف فیصلوں کی جماعت کہتی رہی۔مگر مضمون میں بیان کردہ واقعات،جہانگیر ترین جیسے قریبی ساتھی کا دور ہونا، اختلاف رائے رکھنے والوں کا اچانک بے اثر ہو جانا، یا کلیدی تقرریوں میں مبینہ مداخلت اس دعوے کو کمزور کرتے ہیں۔یہ سب اس سیاسی جماعت کو ’’شخصیت پرستی‘‘ کی مثال کے طور پر پیش کرتا ہے، جہاں نہ پالیسی فیصلہ کن ہے اور نہ ادارہ بلکہ ایک محدود حلقہ اور اُس کے روحانی مرکز کا اثر غالب ہے۔
 اس مضمون میں پی ٹی آئی ایک ایسے ڈھانچے کے طور پر دکھائی گئی جو ایک ’’اخلاقی مقتدر‘‘ اور ان کی بیوی کے گرد گھومتا ہے، جہاں خوابوں اور ذاتی پسند پر فیصلے ہوتے ہیں، نہ کہ پارٹی کے ادارے کی جانب سے۔عمران خان کی سیاست ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے الجھاؤ اور لگاؤ کے بیچ ڈولتی رہی۔ جنرل عاصم منیر کی آئی ایس آئی سربراہ کے عہدے سے تبادلہ نے اس بیانیے کو اور تقویت دی کہ عمران خان کا ’’کرپشن مخالف‘‘ اصول فطری طور پر اصولی نہیں تھا، بلکہ ذاتی تعلقات کے پلڑے میں جھکتا رہا۔اس کے علاوہ مضمون زور دیتا ہے کہ 2018 کی کامیابی بڑے پیمانے پر فوج اور آئی ایس آئی کی مدد سے ممکن ہوئی، جو پی ٹی آئی کے ’’آؤٹ سائیڈر‘‘ اور خالص عوامی جدوجہد والے بیانیے سے متصادم ہے۔ ایک تھیوری بیان کی گئی کہ آئی ایس آئی نے کچھ پیروں کو معلومات دیں جو بشریٰ تک پہنچیں اور وہاں سے ’’روحانی اشاروں‘‘ کی شکل میں خان تک پہنچیں ،یوں خان کے سیاسی فیصلوں اور آزادی پر سوال اٹھتے ہیں۔دوسری جانب خان کے بڑے معاشی وعدے جیسے پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں، ادارہ جاتی اصلاحات یہ سب وقتی قومی امید بنے مگر جب زمینی حقیقت نے دروازہ کھٹکھٹایا تو یہ سب خواب کرچوں کی صورت گرنے لگے۔خان کا خود یہ اعتراف کہ ’’تبدیلی ایک مدت میں ممکن نہیں‘‘ اس بات کا اعتراف بھی تھا کہ شاید وعدے ناپ تول کر نہیں کیے گئے تھے۔
اس کے بعد کرپشن کیسز، سرکاری تحائف، القادر ٹرسٹ اور ان کی اور بشریٰ بی بی کی سزائیں ، یہ سب اس شخصیت کی شفاف امیج کو داغدار کرنے والے سنگ میل بن گئے۔ ایک طرف تو وہ سیاسی کارکنوں کے لیے ایک امید، ایک اخلاقی علامت، اور ظلم کے خلاف کھڑا رہنما سمجھے جاتے ہیں۔مگر یہ بھی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ ناقدین انہیں ایک ایسا سیاست دان سمجھتے ہیں جو نظام کو سمجھنے میں بار بار ناکام ہوا، لوگوں کی شناخت پر ہجومِ اعتماد کرتا رہا، اور بالآخر اسی نظام کے ہاتھوں پچھاڑ کھا گیا جس کی مدد سے وہ کبھی اوپر پہنچا تھا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا شاید سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہاں لیڈر انسانی کمزوریوں سے بالاتر ہیرو سمجھ لیے جاتے ہیں ۔عمران خان کی کہانی، چاہے کوئی اس سے محبت کرے یا اختلاف مگر یہ ضرور سکھاتی ہے کہ سیاست میں خواب دیکھنا اچھی بات ہے، مگر تبدیلی خوابوں سے نہیں، اداروں، عقل اور حقیقت پسندی سے آتی ہے۔اور شاید یہی وہ سبق ہے جو ریاست، عوام اور خود عمران خان کو اس داستان سے سیکھنا چاہیے۔

مزیدخبریں