الٰہی آخر یہ کیا ہے نقشہ؟

09:17 AM, 16 Nov, 2025

یہ ایک منظر دیکھیے۔ ’مشرقی یروشلم میں ایک فلسطینی، اسرائیلی حکومت کے حکم کے تحت اپنا گھر خود توڑ، گرا رہا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو نہ صرف میونسپلٹی اس کا گھر خود گرائے گی بلکہ بھاری جرمانہ مزید ہوگا۔ یہ 1948ء سے جاری عمل، فلسطینی آبادیاں ختم کر کے یہودی آبادکار (برباد کار) لا بسانے کا ہے۔ ایک اور منظر بھی دیدنی ہے۔ لبنان میں کھڑے یہودی (قدامت پرست) ہجوم کے درمیان ان کاربّی (فقیہ، عالم) لمبی سفید داڑھی والا، چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے۔ ’ہم آ گئے ہیں‘ یہ ہمارے گھر ہیں۔ لبنان ہمارا ہے۔ ہم یہاں رہیں گے۔ یہ ہماری موعودہ (وعدہ کی گئی) سرزمین (Promised Land) ہے۔ فلسطینی تنازع کے پس پشت یہودی عقائد کار فرما ہیں۔ اس جنگ نے سب راز آج کھول دیے ہیںجو پوشیدہ تو کبھی نہ تھے لیکن پوری دنیا کے عوام الناس، بالخصوص مسلم (غلام) اقوام کو پڑھائے، بتائے نہ گئے تھے۔ (’گریٹر اسرائیل‘ یہی ہے کہ پوراشام (خلافت ِعمرؓ تا عثمانیہ) یعنی لبنان، اردن، فلسطین، شام ان کی وعدے کی سرزمین ہے جس سے غیر یہودیوں کا صفایا ہوگا۔ شام پر حملے اور اسے غیر مسلح بھی اسرائیل نے اسی لیے کیا۔ امریکہ، مغرب نے کھلی چھٹی دی!) مثلاً یہ کہ اسرائیلیت کے غرور و نسلی تعصب کی شدت یہ ہے کہ ، غیر اسرائیلی کو اُمّی (Gentiles)یا گوئیم کہا جاتا ہے۔ جس کے معنی وحشی اور جاہل کے ہیں۔ اس عقیدے کے مطابق ان کا مال ہر جائز و نا جائز طریقے سے مار کھانا حلال و طیب ہے۔ ’گوئیم بھیڑوں کا ریوڑ ہے اور یہودی ان کے بھیڑیے ہیں ۔ ‘ربّی یہی تصورات اسرائیل میں راسخ کرتا دیکھا جا سکتا ہے کہ ’یہ سب جانور ہیں۔ ان کاقتل جانور مارنے کے برابر ہے۔‘ فلسطینی قیدیوں کی واپس کی گئی لاشوں کے اندرونی اعضاء ٹرانسپلانٹ کی عالمی تجارت کا حصہ بن گئے ، اور انہیں روئی سے بھر کر لوٹا دیا گیا۔ بین الاقوامی صحافیوں کو غزہ جانے کی اسی بنا پر اجازت نہ دی گئی اور فلسطینی صحافی شہید کر دیے گئے۔
غزہ کے ناقابل یقین صبر و ثبات نے پوری دنیا کو بہت کچھ پڑھا دیا۔ حقائق بادل کے پھٹنے کی طرح آسمان سے امڈے اور ’فلیش فلڈ‘ کی طرح طغیانی بن کر ساری لا علمی بہالے گئے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ گلوبل نظام بدل رہا ہے۔ پورے مغرب میں عوام کا غم و غصہ، طغیانی کی صورت اٹھا ہے۔ آئرلینڈ کی نئی صدر نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست اور حماس کو فلسطینی عوام کا نمائندہ قرار دیا! ہالینڈ میں( شدت پسند گیرٹ ولڈرز کو ہرا کر) انتخاب جیتنے والا نوجوان Rob Jetenغزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم پر بہت حساس ہے اور وزیر اعظم بننے کے واضح امکانات رکھتا ہے! نیو یارک جو آبادی اور اثر ورسوخ کی بنا پر یہودیوں کے لیے دوسرے اسرائیل کی حیثیت رکھتا تھا ،اس نے امریکی سیاست کا تختہ الٹ کررکھ دیا۔ امریکی دولت، تجارت کا مرکز ایک تاریخی انتخابی زلزلے سے ہو گزرا ہے، زہر ان ممدانی 
کے میئر منتخب ہو جانے پر۔ تبصرہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ اور صیہونیوں کے لیے یہ شدید دھچکا ہے! یہ پوری دنیا کو نو آبادی بنا کر (Colonization) ظلم و جبر، بھوک ننگ میں اتار دینے کا ،سبھی حکمرانوں کے خلاف ہر جا شدید رد عمل ہے۔ 
 Z Gen اس انقلابی پھریرے کو لے کر اٹھی اور جابجا علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ ایک امریکی وفورِ جذبات سے لبریز اہل غزہ کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے: فلسطین کی شجاعت برآمد (Export) ہو گئی ہے دنیا بھر میں۔ تم نے جو سہا ہم نے دیکھا۔ رات کی تاریکیوں میں تمہاری عورتوں کو چہرے ڈھانپے ننھے بچوں کی لاشیں اٹھائے دیکھا۔ تمہارے بہا در طبی عملے، تمہارے باپوں کو دیکھا جو اپنے بچوں کے بغیر سر کے جسم اور ٹوٹے اعضاء کے ساتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ ہم نے تمہاری بے خوف بغاوت دیکھی۔ ہم نے تم سے حوصلہ، جی داری، بہادری سیکھی۔ اس سیارے میں، اس ہوا اور فضا میں سانس لینا جہاں تم ہو! اے فلسطینیو! یہ ایک اعزاز ہے۔ تم ہم سب کے رہنما ہو۔ میں اپنی کمزوری دور کرنے کے لیے تمہاری طرف لوٹتی ہوں۔ وہ یہی ہمارے ساتھ بھی کرنا چاہیں گے ممکن ہے ہمیں جیلوں میں پھینک دیں، ڈرائیں، ماریں۔ مگر میں دوبارہ کبھی خوفزدہ نہیں ہوں گی۔ میرے سامنے اب لاکھوں فلسطینی ہیں جن میں سے آدھے بچے ہیں۔ شکریہ تمہارا!
34 سالہ ممدانی بھی عوام، مڈل کلاس اور کمزور حیثیت دبے پسے لوگوں کا نمائندہ ہے۔ ماں ہندو، باپ مسلمان گجراتی (ہندوستان) اہل تشیع، بیوی شامی، بے خوف لبرل سیکولر، بائیں بازو نظریات کا حامل۔ اسرائیل کے حوالے سے بے خوف رویہ، کہ جب انتخابی امیدواروں کے تعارف میں ان سے پوچھا گیا کہ اگر جیت گئے تو پہلا دورہ کس ملک کا کرو گے؟ بلاتردد سبھی نے ’مقدس سرزمین‘ اسرائیل جانے کو (پوری وفاداری سے) کہا! مگر ممدانی نے نیو یارک ہی رہنے پر زور دیا کہ میں نیویارک کا ہوں۔ پینل کے آڑے ہاتھوں لینے پر بھی مؤقف نہ بدلا! ’اسلامی‘ امیدیں وابستہ کرنی عبث ہیں۔ (باراک اوباما کے نام میں برکتیں تلاش کرنے والوں کو مسلم ممالک اجاڑنے کی جنگوں میں ہوش ٹھکانے لگ گئے تھے!) ممدانی سبھی کو خوش رکھے گا، بالخصوص تارکین وطن، دبے پسے امریکی عوام کو۔ کمال تو یہ ہے کہ کسی سیاسی تجربے کے بغیر ایک فی صد مقبولیت سے انتخابی مہم شروع کر کے سبھی کو پچھاڑ گیا۔ اس کی اپنی ڈیمو کریٹ پارٹی نے بھی بھر پور ساتھ نہ دیا۔ ارب پتی، صیہونی اور ری پبلکن پیسے اور اثر و رسوخ جھونک کر بھی ناکام رہے۔ 80 ہزار عام نوجوانوں نے مہم چلائی۔84سالہ برنی سینڈرز (آزاد، سوشلسٹ سینیٹر) کے مطابق ’ہم اس دنیا میں رہ رہے ہیں جس میں اوپر والوں( حکمران، ’اپر ایلیٹ‘) کے پاس ناقابل یقین دولت اور طاقت ہے۔ جبکہ عوام کی اکثریت دو وقت روٹی فراہم کرنے، گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، بنیادی ضروریات کے لیے دیوانہ وار محنت کرتے ہیں۔ ملک بھر میں لوگ اس نظامِ سیاست سے بیزار، خوار وزار ہیں۔‘
 حکومتوں سے قطع نظر عوام بدستور شرق تا غرب اسرائیل اور امریکہ سے شدید متنفر ہیں۔ (انتخابات میں ہر جگہ فلسطین سوالیہ نشان بن کھڑا ہوتا ہے۔ )قزاقستان میں حکومت نے تو ابراہیمی معاہدہ قبول کر لیا۔ مگر نوجوان قزاق کھلاڑی، کھیل ختم ہونے پر اسرائیلی مدِمقابل سے ہاتھ ملانے کی بجائے سرِ عام اسے ٹھڈا مار کر چل دیا۔ انڈونیشیا میں نوجوانوں نے فلسطینی جھنڈے تلے زبردست مظاہرہ کرکے ’خلافت‘ کا مطالبہ کر دیا۔ فضا خلافۃ، خلافۃ کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ انڈونیشیا نے عوامی موڈ دیکھ کر غزہ میں امریکی، برطانوی جھنڈے تلے،( اسرائیلی مفادات کے تحفظ کو) ISF کا حصہ بننے پرشش و پنج میں ہے !
 اللہ کی بے آواز لاٹھی کا ایک کوڑا یہ بھی ہے کہ امریکی عوامی نمائندے کا نگریس میں سینگ پھنسائے بیٹھے ہیں فیڈرل بجٹ پر عدم اتفاق رہا۔ سو گورنمنٹ شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں کئی حکومتی محکموں / سروسز کو پیسے کی فراہمی رک گئی ۔ لاکھوں فیڈرل ملازمین بلا معاوضہ گھر بیٹھنے پر مجبور ہوئے۔ بے شمار اداروں پر اثرات، عوام اور قومی معیشت کو ایک بلا میں مبتلا کیے ہوئے ۔یہ امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن رہا۔ کئی جگہ مناظر غزہ کے بھوک کے ماروں جیسے تھے۔ 15 ہزار لوگ قطاروں میں لگے کھڑے کمتر درجے کی مفت سبزیاں اور آلو لینے شدید بارش کے دن پریشان حال۔ مالک نے معذرت کی کہ ہم سب کی ضرورت پوری نہ کر سکے، اشک آلود آنکھوں سے! اس صورت حال پر شدید تنقید جاری رہی۔ طنزاً کہا : تم پاگل ہو؟ اسرائیل کو پیسہ دنیا زیادہ ضروری ہے۔ انہیں اس کی فکر زیادہ ہے کہ اسرائیل غزہ کے بچوں کو بم مارے۔خبردار۔ جو تم نے کہا کہ امریکیوں کو’ایڈ‘ دیں، یہ ’صیہون مخالف‘ بات ہے!حال تو یہ ہے کہ ایک صحافی کے سادہ سوال پر یورپی یونین والے بگڑ گئے اور اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔ یہ کہ’ اگر روس، یوکرین کو تعمیر نو کے لیے ادائیگی کرے گا تو کیا اسرائیل کو بھی غزہ کو ادائیگی کرنی چاہیے؟‘ اسرائیلی امریکی غرور و تکبر، تانا شاہی مزاج، تمام حکمرانوں میں بگاڑ لا رہا ہے۔ حکومتیں عوام کو روندنے پر تلی بیٹھی ہیں۔ پوری گلوبل فضا مسموم ہو گئی۔
 ادھر امریکہ ہمیں پھنسا کر مکھن لگا کر، خود ساری حقیقی مہربانیاں بھارت پریوں نچھاور کر گیاکہ ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔ امریکہ بھارتی اشتراک (مسلم دشمنی کا) بھی کچھ کم نہیں۔ یوں بھی جے ڈی وینس امریکی نائب صدر، بھارت کا داماد ہے ہندو بیوی کے ساتھ اور ٹرمپ اسرائیل کا سسر ہے کشنر کی وجہ سے! امریکی وزیرِ جنگ بھارت کے لیے دفاعی تعلقات کی مضبوطی، گہرائی، شراکت کاری پر( دس سالہ دفاعی معاہدے میں) جس طرح رطب اللسان ہوئے، وہ لائق تشویش ضرور ہے۔
یہ کیا مناظر میں دیکھتا ہوں
الٰہی آخر یہ کیا ہے نقشہ؟

مزیدخبریں