بدتمیزی اور بدزبانی کے خلاف بھی قانون چاہیے

09:16 AM, 16 Nov, 2025

بلا شبہ کسی بھی معاشرے کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے قانون کی مضبوطی اور اس کا نفاذ انتہائی ضروری ہوتا ہے۔سمجھنے کی بات ہے کہ قانون اس لیے تو نہیں بنتے کہ وہ بس کتابوں میں لکھے دیے جائیں یا اسمبلیوں میں ان پر بات کر کے تالیاں بجوا لی جائیں، بلکہ قانون تو اس لیے ہوتے ہیں کہ معاشرہ ایک ترتیب میں رہے، لوگ دوسروں کے حقوق کا احترام کریں، اور ایک دوسرے کے لیے زندگی کو آسان بنا ئیں ، کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ریاست حرکت میں آئے اور قانون شکن کے خلاف مضبوط کاروائی ہو۔
 جب کوئی شخص ٹریفک سگنل توڑتا ہے، تو ہم فوراً سوچتے ہیں کہ اسے تو جرمانہ ہونا چاہیے اسی طرح جب کوئی سڑک پر کوڑا کرکٹ پھینکتا ہے تو ہم اسے برا سمجھتے ہیں اورچاہتے ہیں کہ اس کے خلاف سخت کارروائی ہو۔ بہت سے ممالک میں ایسے کاموں پر قانون واقعی کافی سخت ہے۔
ویسے توہمارے ملک میں بھی کافی سخت ٹریفک قوانین موجود ہیں اور صفائی کے کچھ اصول بھی ہیں اور کہیں نہ کہیں ان پر عملدرآمد ہوتا نظر بھی آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بد زبانی اورغلط رویوں کے لیے بھی کوئی قانون ہونا چاہیے؟ کیا گالی دینا، لوگوں پر الزامات لگانا، ان کی تذلیل کرنا، ان کی عزت اچھال دینا اور روزمرہ گفتگو میں گندے الفاظ استعمال کرنا اتنا ہی معمولی جرم ہے کہ ہم اسے نظرانداز کر تے چلے جائیں؟ ۔
ہمارے معاشرے میں ایک بات بہت عجیب ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر تو قانون بنا لیتے ہیں، لیکن بڑی باتوں پر خاموش رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ٹریفک سگنل توڑ دے، موٹر سائیکل کو غلط سائیڈ پر چلائے، کم عمر بچہ گاڑی چلائے، یا سڑک پر کچرا پھینک دے تو ہم فوراً کہتے ہیں کہ اس پر جرمانہ ہونا چاہیے۔ حکومت بھی ایسی ہی باتوں پر قانون بناتی ہے اور پولیس جرمانے کرتی ہے۔ لیکن جو لوگ اپنی بد زبان کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں میں زہر گھولتے ہیں، جو سوشل میڈیا پر گالیاں دیتے ہیں، سنگین الزامات لگاتے ہیں، لوگوں کی عزت اچھالتے ہیں، اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں کرتے ہیں، یا جھوٹ پھیلاتے ہیں، ان کے لیے کوئی ٹریفک چالان جیسا تیز رفتار قانون نظر نہیں آتا۔
صورتحال تو پہلے بھی بہت اچھی نہ تھی لیکن سوشل میڈیا کے آنے کے بعد تو لوگوں کو زبان درازی کا کھلا میدان مل گیا ہے۔ پہلے زمانے میں اگر کوئی کسی کو گالی دیتا تھا تو صرف چند لوگ ہی سنتے تھے، لیکن اب ایک موبائل فون ہاتھ میں ہو تو انسان پوری کامیابی سے چند ہی سیکنڈ میں ہزاروں لوگوں تک گالیاں پہنچا دیتا ہے۔ بدقسمتی سے زیادہ تر لوگ اسے مذاق سمجھتے ہیں، کچھ لوگ اسے سیاست کہتے ہیں، کچھ لوگ اسے آزادی اظہار رائے کہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ گالی گالی ہوتی ہے، الزام الزام ہوتا ہے، اور جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے اور ان حرکات کے لیے کوئی بھی توضیح قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔
اگرغورکریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ زبان کے غلط استعمال سے کس طرح معاشرے کی جڑیں کمزور ہو تی چلی جاتی ہیں، خاندان ٹوٹتے ہیں، دوستیاں ختم ہوتی ہیں، کام کی جگہیں نفرت سے بھر جاتی ہیں، بچوں کی تربیت متاثر ہوتی ہے، لوگ ذہنی دباؤ میں آ جاتے ہیں، کچھ لوگ تو ایسی زبان کے خوف سے سوشل میڈیا چھوڑ دیتے ہیں، اور کئی لوگ اپنی زندگی کے فیصلے تک بدل لیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم زبان کے لیے کچھ ایسے ہی قانون نہیں بنا سکتے جیسے ہم نے ٹریفک کے لیے بنا رکھے ہیں؟ جیسے سگنل توڑنے پر چالان ہوتا ہے ویسے ہی بے بنیاد الزام لگانے پر بھی چالان ہونا چاہیے اور جیسے غلط پارکنگ پر کارروائی ہوتی ہے ویسے ہی دوسروں کی تذلیل پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ جب ایک شخص سڑک پر کوڑا کرکٹ پھینکتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ماحول خراب کرتا ہے لیکن جب کوئی شخص زبان کے ذریعے نفرت پھیلاتا ہے تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ یہ شخص پورا معاشرہ خراب کر رہاہے؟۔
قانون کے تحت تودوسروں کی عزت پر حملہ کرنا جرم ہونا چاہیے، کسی کی کردار کشی کرنا جرم ہونا چاہیے، غلط بات پھیلانا جرم ہونا چاہیے، بغیر ثبوت کے الزامات لگانا جرم ہونا چاہیے، اور گالیاں دینا تو سب سے بڑا جرم ہونا چاہیے۔اگرچہ ہمارے ملک میں سائبر کرائم قوانین نام کی کوئی چیز موجود تو ہے لیکن اس سے استفادہ کرنا اتنا مشکل کا م ہے کہ عام لوگ ایسے قانون کا دروازہ ہی نہیں کھٹکھٹاتے ۔
اگر حکومت چاہے تو بڑے آسان طریقے سے ایک ایسا قانون بنایا جا سکتا ہے جس میں چند بنیادی نکات ہوں:جو شخص گالی دے گااس پر جرمانہ ہوگا،جو شخص سوشل میڈیا پر کسی کی کردار کشی کرے گا اس پر مقدمہ ہوگا،جو بغیر ثبوت کے کسی کو چور، غدار یا بدکردار کہے گا اسے نوٹس ملے گا،جو ویڈیو بنا کر دوسروں کی تذلیل کرے گا اس پر سخت کارروائی ہو گی اورجو سیاسی لیڈر جلسوں میں اخلاق سے گر کر زبان استعمال کرے گا اس پر جواب طلبی ہوگی۔
 اس قسم کا قانون کوئی انوکھی بات بھی نہیں ہو گی۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں اس قسم کے قوانین لاگو ہیں۔ یورپ ، کینیڈا ، آسٹریلیا اور بہت سے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ معمول کی بات ہے۔شائد اسی لیے وہاں لوگ سوچ سمجھ کر بولتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے کسی کی عزت پر حملہ کیا تو انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاکستان میں بھی قسم کا قانون لاگو کرنے سے معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس سے ایک تو لوگوں کو یہ احساس ہوگا کہ زبان کا استعمال بھی ایک ذمہ داری ہے اور دوسرا سوشل میڈیا پر پھیلنے والی نفرت کم ہوگی، تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ نوجوان نسل تہذیب سیکھے گی اورچوتھا فائدہ یہ ہوگا کہ سیاست میں بھی تلخی کم ہو گی اور دلیل کا ماحول پیدا ہوگا۔
ہمارا معاشرہ اسی صورت میں درست سمت میں جا سکتا ہے جب زبان کے معاملے میں قانون سخت ہو۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ نوجوانوں میں برداشت نہیں رہی، باہمی احترام ختم ہو گیا ہے، بزرگوں کی عزت نہیں رہی، استاد کی قدر نہیں رہی، اور لوگ اخلاقیات سے دور ہو رہے ہیں۔ یہ سب اسی وقت ٹھیک ہوگا جب زبان کے غلط استعمال پر بھی وہی سختی دکھائی جائے جو ہم ٹریفک قوانین میں دکھاتے ہیں۔
وقت آ چکا ہے کہ ہم بد زبانی اور بدتمیزی کو بھی جرم سمجھیں، اس کے خلاف قانون بنائیں، اور اس قانون کو اسی سنجیدگی سے نافذ کریں جیسے ٹریفک قوانین نافذ ہوتے ہیں۔ یقینا اسی طرح ہم اپنے معاشرے کو نرم، مہذب اور محفوظ بنا سکتے ہے۔

مزیدخبریں