عمران خان صاحب کبھی بھی میاں نوازشریف کے خلاف نہیں تھے۔ نہ سیاسی اور نہ ہی ذاتی ۔1992 میں کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان صاحب اپنی شہرت کی بلندی پر تھے لیکن وہ سیاست میں نہیں آنا چاہتے تھے۔وہ اس وقت صرف بطور ایک اسٹار اپنی شہرت کو استعمال کرکے شوکت خانم اسپتال بناکر اپنی زندگی کو فلاحی کاموں میں کھپانا چاہتے تھے ۔ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے بھری محفل میں عمران خان صاحب کو سیاست میں آنے اور اپنی جماعت مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کی دعوت دی لیکن عمران خان صاحب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ سیاست کو پسند نہیں کرتے اور سیاست میں نہیں آئیں گے۔اس سیاست میں نہ آنے والے وچارپر وہ چار سال بھی قائم نہ رہے اور انیس سو چھیانوے میں نہ صرف سیاست میں آگئے بلکہ اپنی سیاسی جماعت بنالی۔ان چار سالو ں میں پاکستان کی سیاست میں دووزیراعظم بدل چکے تھے ۔
ان کی جماعت بنانے کے کچھ ہی ماہ بعد ملک ایک بار پھر الیکشن میں جانے کے لیے تیار تھا۔انیس سو ستانوے میں الیکشن ہوا تو جناب عمران خان صاحب نے کراچی سے لے کر خیبر تک ملک کے تین صوبوں سے خود قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں پر، ڈیرہ اسماعیل خان سے مولانا فضل الرحمان سے لے کر لاہور میں ایاز صادق سے ہوتے ہوئے کراچی میں فاروق ستار تک کیخلاف الیکشن پر کھڑے ہوگئے ۔اس الیکشن کے نتائج میں عمران خان صاحب کی تمام حلقوں سے ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ان کے تمام کے تمام آٹھ حلقوں کے ووٹ ملاکر بھی فاروق ستار کے ایک حلقے کے ووٹوں سے زیادہ نہ تھے۔ نوازشریف دوتہائی اکثریت کے ساتھ ملک کے دوسری بار وزیراعظم بن گئے لیکن عمران خان صاحب اور ان کی جماعت بری طرح شکست کھا گئی۔
اڑھائی سال بعد ہی نوازشریف کے اقتدار پر قبضہ ہوا ۔ملک میں مارشل لگا تو عمران خان صاحب آمر کے ساتھ ہوگئے ۔ان کو لگنے لگا تھا کہ مشرف کے مرہون اگلی شیروانی وہی ہی پہنیں گے ۔اس لالچ میں وہ ایک آمر کے ریفرنڈم میں پولنگ ایجنٹ تک بن گئے لیکن جب اقتدار بانٹنے کی باری آئی تو پرویز مشرف نے ق لیگ کھڑی کر کے اس جماعت کو اپنی جماعت بنالیا۔اس بات سے عمران خان صاحب شدید غصہ ہوئے لیکن دوہزار دو میں ان کی میانوالی سے جیت اس نوعیت کی تھی کہ وہ غصے کے باوجود بھی اپنا ایک اکیلا ووٹ پرویز مشرف کے وزیراعظم کے امیدوار ظفر اللہ جمالی صاحب کو دینے پر مجبور تھے۔
مشرف کے انکار کے بعد وہ ان کے مخالف ہوئے اور نوازشریف سے راہ و رسم بڑھانا شروع کر دی۔ دوہزار چھ تک چارسالوں میں یہ نوازشریف صاحب کے اتنا قریب آچکے تھے کہ میثاق جمہوریت میں جمہوری قوتوں کے ساتھ بیٹھ گئے۔ نوازشریف کی واپسی پر ملک میں اے پی ڈی ایم کے نام سے سیاسی قوتوں نے اتحاد بنایا تووہ عمران خان جو چند سال پہلے پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں ان کے ساتھ تھے وہ عمران خان، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ تھے۔اس اتحاد نے مشرف کے نیچے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا لیکن پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو یہ اتحاد ختم ہوا لیکن عمران خان اور جماعت اسلامی دوہزار آٹھ کے الیکشن کے بائیکاٹ پرقائم رہے۔
یہ سیاسی جدوجہد کا وہ دور تھا جو عمران خان صاحب نے خود بطور ایک سیاستدان کے کی ۔پھر ’’کاریگروں‘‘ اور ’’رفوگروں‘‘ نے تیسری قوت کو میدان میں لانے کا پراجیکٹ لانچ کیا تو جناب عمران خان صاحب نے بطور تیسری قوت اپنی خدمات پیش کیں اور لاہور مینار پاکستان والا تاریخی جلسہ سجایا گیا۔ لوگوں کا ماتھا ٹھنکا کہ عمران خان صاحب جو سیاسی محنت گزشتہ چودہ سال سے کررہے تھے ان میں تو عمران خان صاحب کا کوئی بھی جلسہ ایسا نہیں ہوا جس میں دو چار سو سے زیادہ لوگ شریک ہوئے ہوں یہ اچانک مینار پاکستان کیسے بھر گیا؟،یہ جاوید ہاشمی وغیرہ کیسے ن سے پی ٹی آئی کی طرف ہجرت کرنے لگے تو یہ عقدہ اس وقت کھلا جب چودھری پرویز الٰہی نے بتایا کہ انہوں نے شجاع پاشا سے شکایت کی کہ ان کی پارٹی توڑ کر پی ٹی آئی میں شامل کروائی جارہی ہے ۔
اس جلسے کے بعد پی ٹی آئی تانگہ پارٹی (یہ سیاسی اصطلا ح ہے جو چھوٹی پارٹیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے)سے ایک بڑی تیسری قوت بن گئی ۔دوہزار چودہ کا دھرنا اور خیبرپختونخوا میں اقتدار، پیغام تھا کہ ملک میں اب تبدیلی طے کرلی گئی ہے ۔اب نیا پاکستان بنے گا ۔دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں باقی سیاسی جماعتوں کو باندھ کر جناب عمران خان صاحب کو اپنے ماضی کے کہے اور طے کیے گئے تمام اصول توڑنے پر مجبورکرکے وزیراعظم کی کرسی عطا کردی گئی ۔عمران خان صاحب کو دس پندرہ سالہ اقتدار میں رہنے کا منصوبہ عطا ہوالیکن اس منصوبے میں ایک بنیادی خامی تھی۔وہ خامی یہ تھی کہ وہ منصوبہ باجوہ کے دور میں بنارہے تھے لیکن اس منصوبے کا بنیادی کرداراس شخص کو بنایا گیا تھا جو عہدہ سے فیضیاب ہونے کے لیے بھی کسی دوسرے کے مرہون تھے۔دوسری طرف پوری اپوزیشن جیلوں میں قید تو کی گئی لیکن مقدمات اتنے کمزور تھے کہ وہ باہر آنا شروع ہوگئے۔عمران خان سے ایک بنیادی غلطی یہ بھی ہوئی کہ اس نے سمجھ لیا کہ وہ ’’کلا ای کافی ہے‘‘۔ اکیلے کافی ہونے والے فلسفے نے پی ٹی آئی کو سیاسی طورپر اکیلا کردیا۔ایک طرف پی ٹی آئی تھی اور دوسری طرف ملک کی تمام سیاسی جماعتیں جمع ہوگئیں۔
اقتدار آنی جانی چیز ہوتی ہے۔ یہ سبق مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نوے کی دہائی سے پڑھتی آئی تھیں لیکن عمران خان صاحب پہلی بار اقتدار سے نکالے گئے تھے ۔ان کا بنایا ہوا دس سالہ منصوبہ ناکام ہواتو وہ غصے میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ ملک کی سیاست کے لیے ہی ناقابل برداشت ہوگئے ۔وہ پراجیکٹ عمران جو دوہزار گیارہ میں لانچ کیا گیا تھا اب اس منصوبے کو رول بیک کرنے کی جدوجہد شروع ہوئی تو وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں ایک ایسی شخصیت موجود ہے جو صرف سڑکوں پر ہی نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں پر بھی پُل بنانے کی ماہر ہے۔ستائیسویں ترمیم کچھ ایسا ہی منصوبہ ہے جو عمران خان صاحب نے بنایا تھا لیکن اپنی جلدبازی کی وجہ سے وہ اپنا بنایا ہوا منصوبہ ناکامی سے دوچار کرکے جیل چلے گئے ۔پرانی اور نئی منصوبہ بندی میں بنیادی فرق ’’میں کلاای کافی آں‘‘ کا ہی ہے ۔شہبازشریف اس پر یقین نہیں رکھتے وہ سب کے ساتھ ہیں اور سب کو اپنے ساتھ رکھنے کی سیاست کرتے ہیںکیونکہ سیاست سب کو ساتھ لے کرچلنے کا نام ہے۔
میں کلا ای کافی آں!!
09:16 AM, 16 Nov, 2025