آئی ایم ایف کے دباؤ پر 860 ارب کے نئے ٹیکسوں کی یقین دہانی، آئندہ بجٹ میں پٹرول اور اشیاء خورونوش مزید مہنگی ہونے کا خدشہ

06:34 PM, 16 May, 2026

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی کڑی شرائط کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں 860 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات کی یقین دہانی کروا دی ہے، جس کے بعد پہلے سے پسے ہوئے غریب اور متوسط طبقے پر مہنگائی کا نیا بم گرنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے تیار کردہ نئے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17 ہزار ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے، جبکہ جون 2027 تک ٹیکس وصولی کا ہدف ریکارڈ 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیا جا سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطالبات کے تحت حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی تمام سبسڈیز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ بجٹ میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 1727 ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف دیا گیا ہے، جو رواں سال کے مقابلے میں 260 ارب روپے زیادہ ہے۔ اس اقدام کے باعث ملک میں ایندھن اور بجلی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان ہے۔ مزید برآں، جنرل سیلز ٹیکس (GST) کی مد میں بھی اضافی 2 ہزار ارب روپے جمع کرنے کا ہدف عائد کیا گیا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام صارفین پر پڑے گا۔
عوام سے ٹیکس نچوڑنے کے لیے ایف بی آر نے 430 ارب روپے کا ایک ہنگامی پلان تیار کیا ہے، جس کے تحت    215 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔    215 ارب روپے سخت نگرانی، آڈٹ اور انفورسمنٹ کے ذریعے وصول کیے جائیں گے۔    وفاق کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے چاروں صوبے بھی عوام پر 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملکی معیشت میں 25 فیصد حصہ رکھنے والا زرعی شعبہ ٹیکس نیٹ سے تقریباً باہر ہے، جہاں سے کل ٹیکس وصولی محض 0.3 فیصد ہے۔ بااثر زمینداروں اور اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے حکومت نے ایک بار پھر تنخواہ دار طبقے اور عام مینوفیکچرنگ سیکٹرز پر اضافی بوجھ ڈالنے کی تجویز دی ہے۔
 ملک میں مہنگائی پہلے ہی دہرے ہندسے (Double Digit) میں برقرار ہے، اور ان نئے اقدامات کے بعد غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی اور بنیادی زندگی کی سہولیات حاصل کرنا محال ہو جائے گا۔

مزیدخبریں