کتوں کی اللہ سے فریاد

09:07 AM, 16 May, 2026


کتوں کو انسانوں کی طرح انتہائی بیدردی سے مارا جارہا ہے، انہیں کچلا دے کے تڑپا تڑپا کے مارنے کی ایسی ایسی خوفناک وڈیوز آرہی ہیں دل خون کے آنسو روتا ہے، اس ایشو پر جس درد مندی اور خوبصورتی سے ہمارے عزیز بھائی سلمان ملک نے لکھا اس کے بعد میں کیا لکھوں ؟ یہ وہ کتے ظالموں کی شکایت اللہ سے لگا رہے ہیں جن کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا ”دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی اگر بھوک یا پیاس سے مر گیا مجھ سے اس کا حساب لیا جائے گا“۔ یہاں حال یہ ہے ہمارے حکمران اپنی ذمہ داریاں صرف کتے مار کر ادا کر رہے ہیں ۔ اب ذرا کتوں کی اللہ سے ایک فرضی شکایت بھی سن لیں۔۔
اے اللہ ہمارے قاتل پنجاب کے اڑتیس کمشنرز ، ایک سو اکیاون اسسٹنٹ کمشنرز اور میونسپل کمیٹی والے ہی نہیں، ہیں ، اس قتل و غارت کا حکم دینے والے، بربریت میں ساتھ دینے والے اور ظلم پر خاموش رہنے والے پارلیمنٹیرین اور تمام سرکاری افسران بھی مجرم ہیں جنہوں نے ظلم کو روکنے کے بجائے ظالم کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔ اے اللہ ہم بے گھر کتوں کی نسل کشی اور ان پر ظلم کی انتہا کرنے میں پنجاب پہلے، سندھ دوسرے، آزاد کشمیر تیسرے، وفاق چوتھے، خیبر پختونخوا پانچویں، بلوچستان چھٹے اور گلگت بلتستان ساتویں نمبر پر ہے ۔ اے اللہ ، ریاست پاکستان کے مسلمانوں سے دیگر ممالک کے غیر مسلم کہیں اچھے ہیں ، وہ کتوں کو گھر کا فرد سمجھتے ہیں ، ناصرف اعلیٰ کھانا فراہم کرتے ہیں بلکہ انتہائی گرم اور سرد موسموں کے مطابق ا±ن کا خیال بھی رکھتے ہیں ، یہ کیسا اسلامی ملک اور یہ کیسے مسلمان ہیں جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی بجائے ہم جانوروں پر ظلم ڈھاتے ہیں، اسلامی تعلیمات میں جانوروں خاص طور پر کتوں کے ساتھ حسن سلوک واحد عمل ہے جس پر کافر کو بھی جنت کی بشارت مل گئی اور جانوروں پر ظلم کے بدلے مسلمانوں کو بھی جہنم اور عذاب کی وعید کی گئی , اے اللہ ہم تو بھوک سے نڈھال تھے ایسے میں ایک انتہائی غیر معیاری اور باسی کیک کو بھی تیرا شکر ادا کرتے ہوئے کھانے کو لپکے۔ہمیں معلوم نہیں تھا اس کیک پر پنجاب کی ضلعی انتظامیہ نے زہر لگایا ہوا ہے، اے اللہ ان ظالم انسانوں کے زہر ملے کیک سے کئی منٹ تک درد کی شدت اور تڑپ سے جو تکلیف ہمیں ہوئی ا±س کا اندازہ شاید ظالم انسانوں کو نہیں ہوسکتا ، اے رب کائنات زہر اور فائرنگ سے ایک ایک قطرہ کرکے خون نکلنے اور رگیں کٹنے سے جو اذیت ہمیں پہنچی کیا تم اس کا بدلہ نہیں لو گے؟ اے اللہ ہمارے قتل عام کے بدلے میں یہ تخت و تاج کب ا±چھالے جائیں گے ؟ اے اللہ مساجد تو تیرا گھر ہیں، تیری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد نبوی میں کتے داخل ہوتے تھے مگر صحابہ مسجد کو دھوتے تھے نہ کتوں کو مارتے تھے، جن مساجد سے جانوروں کے حقوق اور ان سے صلہ رحمی کی تعلیمات دی جانی چاہئے تھی ان مساجد کے لاو¿ڈ سپیکرز سے بدبخت ڈپٹی کمشنرز کے دھمکی آمیز اعلانات کئے جا رہے ہیں”جہاں آوارہ کتا نظر آئے زہر دے کر مار دو“۔ اے اللہ ہم تیرے کچھ انسانوں سے زیادہ آوارہ ہیں ؟ اے اللہ پاکستان میں کوئی حکمران یہ سروے کروائے گا روزانہ کتنے ک±تے انسانوں کو کاٹتے ہیں اور کتنے انسان انسانوں کو کاٹتے ہیں ؟ کچھ مولویوں نے بھی حکومت کے وظیفے کے بدلے یا فرعون افسروں کے حکم پر سر جھکاتے ہوئے خلاف اسلام و انسانیت مسجدوں سے ہماری موت کے اعلانات شروع کر دئیے۔ اے اللہ تم نے ایک ا±ونٹی پر ظلم کے بدلے پوری قوم پر عذاب نازل کیا تھا اے اللہ کیا ہم پر اتنے ظلموں کا کوئی حساب نہیں ہوگا ؟ اے اللہ یہ زمین تو ہماری تھی یہ انسان تو بعد میں آئے پہلے انہوں نے ہمارے جنگلات چھین کر کنکریٹ بچھا دیئے، پھر بھی ہم ان کے ساتھ باخوشی رہتے رہے اور روٹی کے چند لقموں کیلئے گلیوں بازاروں اور کوڑے کے ڈھیر سے رزق اکٹھا کرتے رہے ، ان ہی انسانوں نے ہمارے کچھ ساتھیوں (کتوں) کو کبھی گاڑیوں کے نیچے دے کر تو کبھی پتھر مار مار کے زخمی کیا، زخموں کا علاج نہ ہونے سے جب وہ باو¿لے ہو کر کاٹنے لگے تو چند باو¿لے کتوں کی وجہ سے لاکھوں کتوں کو تڑپا تڑپا کر مارنا کہاں کا انصاف ہے ؟ ہمارے نام پر بنائے گئے ادارے اور ویٹنڑی ہسپتالوں میں کرپشن تو کی جاتی ہے ہمارا علاج نہیں کیا جاتا، اے اللہ کئی مہینوں سے جاری اس بربریت اور خون ریزی کو روکنے کیلئے کسی نے کوشش نہیں کی، صحافیوں سے ا±مید تھی وہ ہمارے قتل عام کے خلاف آواز اٹھائیں گے، کچھ قلم فروشوں نے ہمارے حق میں آواز ا±ٹھانے سے شاید اس لیے انکار کردیا اس سے سرکار کہیں ان کے لفافے اور وظیفے نہ بند کردے، سول سوسائٹی اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے کچھ شہریوں نے انتظامی افراد کو کتے مارنے سے منع کیا تو بے ضمیر اور ظالم سرکاری کارندوں نے ان پر کار سرکار میں مداخلت کے پرچے کروا دئیے , جب کبھی بین الاقواموں خبروں میں کتوں کا ذکر ہوتا تھا یہ سن کر خوشی ہوتی تھی پاکستان کے کچھ سٹریٹ ڈاگ کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین کتوں میں ہوتا ہے ۔ اے اللہ باقی ادارے تو کرپٹ ہیں پر جو ادارہ پارسائی کے دعوے کرتا ہے ہماری قتل و غارت پر وہ کیوں خاموش ہے ؟ سرکاری محکموں میں ہر طرف لٹیرے اور بے حس لوگ ہیں سوچا تھا شاید عدلیہ ہمارا ساتھ دے اور کوئی ازخود نوٹس لیکر ہماری قتل و غارت کو روک دے گی، ایک جج نے ہماری قتل وغارت کو روکنے کے احکامات جاری کرکے دوبارہ خبر ہی نہیں لی ہم کس حال میں ہیں؟ سول افسران جو پہلے ہی عدالتی احکامات کو جوتی کی نوک پر لکھتے ہیں عدالتی احکامات کے بعد ا±نہوں نے سرعام فائرنگ اور زہر سے خون ریزی مزید تیز کر دی۔ کسی جج نے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی ، ک±تے تو زمین پر پیشاب بھی اس لئے نہیں کرتے تیرا کوئی بندہ اس جگہ سجدہ نہ کر لے، ہمیں فقیروں پر بھونکنے کے طعنے دئیے جاتے ہیں ، ہم فقیروں پر اس لئے بھونکتے ہیں وہ تجھ سے مانگنے کے بجائے بندوں سے مانگتے ہیں، اے اللہ پاکستان خصوصاً پنجاب میں ہم پر جو ظلم کیا جارہا ہے ہم تیرے انصاف کے م±نتظر ہیں۔

مزیدخبریں