کابل: افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کی ایک نئی اور جامع رپورٹ نے افغان طالبان رجیم کے جابرانہ اقدامات اور وہاں کے شہریوں کی زبوں حالی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ افغان حکمرانوں کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے پورا ملک اس وقت بدترین انسانی بحران، عالمی تنہائی اور داخلی گھٹن کی لہر کی لپیٹ میں ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، طالبان رجیم کی جانب سے ریاستی جبر اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی نے افغان معاشرے کو مفلوج کر دیا ہے۔ خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں سمیت شہریوں کی بنیادی آزادیوں پر شب خون مارنے کے باعث عالمی برادری افغانستان سے مسلسل دوری اختیار کر رہی ہے، جس کا براہِ راست خمیازہ وہاں کی غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں افغان صورتحال کی سنگینی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔"افغانستان میں نافذ سخت گیر قوانین اور ریاستی جبر شہریوں میں شدید مایوسی پھیلا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کے جائز مطالبات کو یکسر مسترد کرنے کی وجہ سے افغانستان دنیا بھر سے کٹ کر رہ گیا ہے اور ملک تیزی سے ایک ہولناک معاشی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یوناما کی یہ رپورٹ طالبان حکومت کے طرزِ حکمرانی پر ایک سنگین چارج شیٹ ہے اور اگر افغان قیادت نے اب بھی انسانی حقوق کے احترام اور اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کا مظاہرہ نہ کیا، تو ملک کو درپیش معاشی اور انسانی المیہ مزید سنگین ہو جائے گا۔