کراچی: کراچی کی مقامی عدالت میں کوکین کی خریدو فروخت اور اسمگلنگ کے الزامات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی پیشی کے موقع پر اس وقت شدید بدمزگی اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب ملزمہ نے خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔
تفصیلات کے مطابق، تفتیشی حکام نے ملزمہ انمول کو ریمانڈ کی غرض سے سٹی کورٹ کراچی میں پیش کیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے اور مرد و خواتین اہلکار ملزمہ کے ہمراہ تھے، تاہم احاطہ عدالت میں شدید دھکم پیل ہوئی اور ملزمہ نے آتے ہی چیخ و پکار شروع کر دی۔
جج کے سامنے پیش کیے جانے پر ملزمہ نے اپنے مہر بند بیان میں روتے ہوئے دہائی دی اور کہا "میرے ساتھ سراسر ناانصافی ہوئی ہے، مجھ پر بنائے گئے تمام مقدمات جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔ پولیس نے مجھے گذشتہ 20 روز سے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا تھا جہاں مجھ پر بدترین تشدد کیا گیا اور اب عدالت کے سامنے لایا گیا ہے۔
دوسری جانب، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ شہر میں کوکین سپلائی کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کی اہم رکن ہے اور اس کے قبضے سے منشیات برآمد کی گئی ہے۔ پولیس نے ملزمہ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے نیٹ ورک کے دیگر کارندوں کی گرفتاری کے لیے اس کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے۔