”بنیان مرصوص“ اور ہماری قدرتی سٹرٹیجک پوزیشن

09:08 AM, 17 May, 2025

ماڈرن وار فیئر بہت تیز رفتار ہو چکی ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان 2016ءکے پلوامہ واقعہ ہو یا 2019ءکی سرجیکل سٹرائیکس ہوں پہلگام واقعے کے بعد حالات جتنی بجلی کی رفتار سے آگے بڑھے یہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے اور یہ دو نیو کلیئر ہمسایوں کے درمیان تیزی سے بدلنے والی صورتحال کی بابت ایک ریڈ الرٹ بھی ہے کہ آئندہ بھی اس طرح کی معرکہ آرائی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں اگر کوئی بھی مقامی گروپ یا افغان طالبان جیسی تھرڈ پارٹی کسی وقت ان دونوں ملکوں کے امن کو تہہ و بالا کرنا چاہے تو اس کے لیے پہلگام جیسا واقعہ برپا کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ انڈیا کو اندرون خانہ پتہ چل چکا ہے کہ پہلگام کے پیچھے دو کشمیری تخریب کار تھے جن کا پاکستان سے کسی طرح کا کوئی رابطہ یا تعلق نہیں تھا مگر انڈیا نے حقیقت کو دانستہ چھپائے رکھا۔ 
انڈیا کا خیال تھا کہ فوری عالمی ردعمل کے طور پر پاکستان کی آئی ایم ایف امداد بند ہو جائے گی اقوام متحدہ کی طرف سے اقتصادی پابندیاں لگ جائیں گی امریکہ کی طرف سے اعلان جنگ ہو جائے گا اور پاکستان کو FATF کی بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا مگر ان میں سے ایک بھی نہیں ہوا۔ 
اتنی بڑی سفارتی ناکامی کے بعد مودی کے لیے فیس سیونگ ناگزیر ہو چکا تھا جس کے لیے انہیں پاکستان میں میزائل حملے کرنا پڑے لیکن یہ ایک ایسی دلدل تھی جس میں انڈیا نیچے ہی نیچے دھنستا چلا گیا۔ مودی اپنے عوام میں ہیرو بننے کی کوشش میں 6 طیارے بمعہ 3 رافیل تباہ کرا بیٹھا۔ 11مئی کو جب پاکستان نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس بلایا جو نیو کلیئر کارروائی کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز اتھارٹی ہے تو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جو پہلے ہی جنگ رکوانے کے لیے سرگرم تھے انہوں نے مداخلت کر کے دونوں ملکوں کو جنگ بندی پر آمادہ کر لیا۔ 
امریکی صدر کی مداخلت کے کئی اسباب تھے مودی نے انہیں پیغام بھجوایا تھا کہ اگر پاکستان مان جائے تو وہ جنگ بندی پر تیار ہیں لیکن اس کہانی کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی تھا کہ پاکستان اس جنگ میں چائینز اسلحے اور طیاروں کی جو پبلسٹی کر رہا تھا وہ امریکہ کو گوارا نہ تھی۔ پاکستان نے جے ایف تھنڈر طیاروں کے برانڈ ایمبیسڈر کا کردار ادا 
کیا۔ چائنا ساختہ جہاز اس سے پہلے کسی جنگ میں نہیں آزمائے گئے تھے۔ا مریکہ نہیں چاہتا تھا کہ چینی اسلحے کی اتنی دھوم مچے لہٰذا انہوں نے جنگ بندی کے حق میں فیصلہ دیا۔ 
امریکہ کو یہ مسئلہ بھی تھا کہ چائنا کے ساتھ ٹیرف وار کے بعد امریکی آئی فون کمپنی Apple نے چائنا میں اپنے 500 بلین ڈالر کے پلانٹ انڈیا ٹرانسفر کر نے کا فیصلہ کیا۔ پاک بھارت جنگ کے وقت ٹرمپ کو اندر سے یہ بھی مسئلہ تھا کہ وہ Apple کے انڈیا شفٹ کرنے کے فیصلے پر ناراض تھے جس وجہ سے انہوں نے انڈیا کا کھل کر ساتھ نہیں دیا۔ کل کے بیان میں تو ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ Apple کے سی ای او Tim cook کو سوچنا چاہیے کہ انڈیا کے اندر ان کی سرمایہ کاری ڈوب سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ Apple کمپنی چائنا سے نکل کر واپس اپنے ملک یعنی امریکہ آجائے جس سے امریکہ کو فائدہ ہو۔ 
پاکستان اور انڈیا کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان سیز فائر 18 مئی یعنی ہفتے کے دن تک ہے جس میں توسیع نہ ہونے کی صورت میں معاملات 11 مئی سے پہلے کی پوزیشن پر آجائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی ہے جو فوجوں کے درمیان ہے۔ اس دوران سیاسی اور سفارتی مداخلت کے بغیر یہ جنگ بندی قائم نہیں رہ سکتی مگر ابھی تک دونوں ملکوں میں براہ راست سیاسی رابطہ کا مکمل بلیک آو¿ٹ جاری ہے۔ 
پاکستان نے یوم تشکر منایا ہے کہ وہ 10 گنا بڑی طاقت کے خلاف لڑائی میں سرخرو ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف مودی حکومت کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ مودی اس وقت سیاسی طور پر گرم توے پر بیٹھے ہیں جس کی حرارت بڑھتی جا رہی ہے۔ راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ہم نے اپنے دو مخالف ملکوں پاکستان اور چائنا کو اکٹھا کر دیا ہے۔ دوسری طرف رافیل طیاروں کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالوں کی بوچھاڑ کا رخ اس سودے میں ہونے والی 1900 کروڑ روپے کی کرپشن کی جانب ہو گیا ہے جس کے ذریعے انیل امبانی کمپنی کو کروڑوں ڈالر کمانے کا موقع دیا گیا کیونکہ انیل امبانی مودی کے دوست ہیں۔ رافیل طیاروں کا موجودہ status یہ ہے کہ انڈونیشیا نے فرانس سے 42 رافیل طیارے خریدنے کا جو معاہدے کیا تھا جس میں 8 ارب ڈالر ایڈوانس بھی ہو چکا ہے اس پر انڈونیشیا حکومت سوال اٹھا رہی ہے۔ گویا انڈیا نے رافیل بنانے والی کمپنی Dassault aviation کا کاروبار مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 
اس جنگ کا سب سے بڑا بریک تھرو یہ ہوا ہے کہ انڈیا آج تک کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کر شملہ معاہدے کے تحت حل کرنا چاہتا ہے اور کسی طرح کی ثالثی کا مصالحت سے انکار کرتا ہے مگر پوری دنیا کے سامنے صدر ٹرمپ کی بھرپور اور پر زور مداخلت کے بعد مودی بیک فٹ پر ہے اپوزیشن کانگریس کہتی ہے کہ یہ ثالثی نہیں تو اور کیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ 2019ءمیں انڈین آئین سے شق 370 کی تنسیخ کے بعد انڈیا یہ سمجھتا تھا کہ مسئلہ کشمیر ختم ہو چکا ہے۔ پہلگام واقعہ اور اس کے بعد ہونے والے تصادم میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل پہلے سے زیادہ اہمیت اختیا رکر چکا ہے اور کشمیر ایک دفعہ پھر پوری دنیا کے سیاسی اور جنگی ریڈار پر موجود ہے۔ یہ مودی کی سب سے بڑی سفارتی و سیاسی شکست ہے جس کے ساتھ ساتھ وہ فوجی شکست کا مزہ بھی چکھ چکے ہیں۔ 
آج کا امریکہ ٹرمپ کا امریکہ ہے جو دنیا بھر میں جنگ کی بجائے کاروبار کر رہا ہے چین کے ساتھ ساری لڑائی کاروبار کی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ امریکہ کے سب سے بڑے دو مخالفین جن پر دہشت گردی کے سب سے سنگین الزامات رہے ہیں وہ ایک تو افغان طالبان ہیں دوسرا شام کی انقلابی حکومت ہے۔ ان دونوں کے ساتھ امریکہ کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ دہشت گردی کی اتنی شدید تاریخ آپ نے نہیں دیکھی ہو گی کہ شام کی انقلابی حکومت کے سربراہ احمد الشارع جو پہلے القاعدہ رکن کی حیثیت سے کئی سال تک امریکی جیلوں میں رہے ہیں وہ آج امریکہ کے حامی ہیں مشرق وسطیٰ کے دورے پر صدر ٹرمپ نے ان سے ملاقات کی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر تھی۔ اس لیے اگر صدر ٹرمپ انڈیا کو چھوڑ کر پاکستان کی طرف جھکاو¿ ظاہر کر رہے ہیں تو آج کے دور میں یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ پاکستان کو اپنی قدرتی اسٹریٹجک پوزیشن حاصل ہے اس میں دنیا کی دو سب سے بڑی طاقتیں چائنا اور امریکہ دونوں پاکستان کو آن بورڈ رکھے ہوئے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ چائنا کے جنگی سازو سامان سے لیس پاکستان انڈیا سے جنگ میں امریکہ کی مداخلت سے سیز فائر کر رہا ہے۔ 

مزیدخبریں