اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں آج مختلف اہم قوانین کی منظوری دی گئی۔ ان میں ٹیکس، شہریت، بچوں کی شادی پر پابندی، سرکاری ملازمین کے قوانین، اور تجارتی امور سے متعلق بل شامل تھے۔ پی ٹی آئی نے ان بلوں کی مخالفت کی، تاہم تمام بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیے گئے۔
ایوان نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 منظور کیا جس کا مقصد ٹیکس نظام میں اصلاحات لانا ہے۔ چائلڈ میرج پر پابندی کا بل بھی منظور کر لیا گیا، جو پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے پیش کیا تھا۔
اسی طرح ایف بی آئی ایس ای (FBISE) ترمیمی بل 2024 میں اہم شقوں میں ترمیم کی گئی، جسے بھی منظوری مل گئی۔ یہ بل فرح ناز اکبر نے پیش کیا تھا جبکہ ترامیم وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے تجویز کیں۔ دیگر منظور شدہ بلوں میں تحویل ملزمان، شہریت، سول سرونٹس، انسداد اغراق و محصولات، اور ٹریڈ آرگنائزیشن بلز شامل ہیں۔ شہریت ایکٹ میں دو اہم ترامیم بھی منظور کی گئیں جن کے تحت سیکشن 14اے اور 4 میں تبدیلی کی گئی ہے۔
علی موسیٰ گیلانی کی جانب سے پیش کیا گیا ٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2025 اور قومی اسمبلی کے رول 288 میں ترمیم بھی پاس ہو گئی۔ مزید برآں، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کا نیچرلائزیشن ترمیمی بل 2024 اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال کا اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2025 بھی منظور ہو گیا۔
اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی رکن نوشین افتخار کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد بھی منظور ہوئی جس میں سی ایس ایس امتحانات کی عمر کی حد 30 سے بڑھا کر 35 سال کرنے اور امتحان دینے کے مواقع 5 مرتبہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اب پیر شام 5 بجے دوبارہ منعقد ہو گا۔