اُٹھو کے تازہ کریں رسم 6 ستمبر کی

09:21 AM, 16 May, 2025

ماہ مئی پاکستان کے لئے بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ 28مئی کو سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ایک بٹن دبا کر پاکستان کو ایٹمی قوت رکھنے والی قوتوں کے نقشے پر دکھا کر دنیا کو بتا دیا کہ ادھر نہ دیکھنا پھر 9مئی جب پاکستان مخالف قوتوں کے سرغنہ بانی تحریک انصاف نے اپنے ہی ملک کے اندر یہودیوں کے ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر پاک فوج کی یادگاروں اور کور کمانڈر ہائوس پر حملہ کرکے ملک دشمنی کا ثبوت دے دیا اور پھر اپنی ہی فوج کی کردار کشی کر کے یہ بھی ثابت کر دیا کہ اقتدار کا بھوکا بانی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اسی یہودیوں کے ایجنٹ نے کہا تھا کہ کیا میں بھارت پر حملہ کر دوں… پھر ……… مئی کو بھارت نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کر دیا اور جواب میں 10مئی کا وہ تاریخی دن جب پاکستان کی افواج نے بھارت کی وہ ٹھکائی کی کہ وہ سپر طاقتوں کے پائوں پڑ گیا کہ حافظ عاصم منیر سے معافی دلوا دو… یوں 10مئی پاکستان کے نام ایک بڑی فتح لکھ کر تاریخ کا حصہ بن گیا۔ 28مئی ایٹمی قوت کا اعلان، 9مئی پاکستان توڑنے کی سازش اور 10مئی جب پاکستان کو دنیا میں سرخرو کیا افواج پاکستان نے… 
بالآخر مودی نے اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے امریکہ کے آئے ہاتھ جوڑ دیئے اور امریکی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان سیز فائز کرا دیا۔ یہ اچھی بات ہے کوئی بھی ملک نہیں چاہتا کہ جنگ ہو مگر اس جنگ کا سب سے زیادہ نقصان بھارت اور فائدہ ہمارے کھاتے میں لکھا گیا اور ہم نے جہاں دنیا کو باور کرایا آج پاکستانی قوم کو بھی اس بات کا احساس ہو گیا ہے پاک فوج ہے تو ہم ہیں جس کی طاقت نے آج پوری قوم کو سرخرو کردیا اور قومی جھنڈے کی آن اور شان اور بڑھا دی۔ شاباش شہبازشریف، شاباش جنرل عاصم منیر اور شاباش پاک فضائیہ اور بحری فوج… 10مئی پاکستان کی عظیم فتح کا دن جو تاریخ میں لکھا جائے گا۔ یہ جیت پاکستان کے موقف کی جیت ہے اور آج ان یوتھیوں کی عبرتناک شکست ہے جو 9مئی سے پاک فوج کو نشانہ بنائے ہوئے تھے۔ دس مئی صبح فجر سے 4بجے شام تک صرف بارہ گھنٹے ہماری جنگی حکمت عملی سے پاکستان کو سرخرو کرگئے۔ پاکستان نے مودی کو اس کا مکروہ چہرہ دنیا کو دکھا دیا۔ قوم کی آواز تھی کہ بھارت کو جواب دو ہم نے تباہ کن جواب دے کر بھارت کی آنے والی نسلوں کو باور کرا دیا کہ پاک فوج سے پنگا نہ لینا۔ 
افواج پاکستان نے عوام کی مدد سے بھارتی سورمائوں کے دانت کٹھے کرکے یہ بات باور کرا دی کہ مودی یہ نہ تو 1965ء ہے اور نہ 1971ئ۔ آج 2025ء ہے اور تمہیں سامنا ہے دنیا کی اس افواج کا جس نے جنم ہی شہادت کے لئے لیا۔ جس کے خوابوں میں شہادت، جن کی زندگی کا مقصد شہادت، جن کا جینا مرنا شہادت، جن کا اٹھنا بیٹھنا شہادت اور تم جس جدید دور کے دعوے کر رہے ہو ہماری بہادر افواج تم سے کئی گنا آگے ہے۔ تم جس رافیل پر غرور کرتے تھے وہ غرور ہمارے شاہینوں نے منٹوں میں توڑ دیا بلکہ دنیا کو یہ بات بھی باور کرا دی ہم سے پنگا نہیں لینا… گزشتہ روز مجھے پاکستان کے شیردل اور بہادر بے خوف اور نڈر صحافی آغا شورش کاشمیری کے بیٹے مشہود شورس کاشمیری نے 1965ء میں آغا جی کی بھارتی جارحیت پر لکھی ایک نظم لکھی، مجھے ارسال کی۔ پہلے ایک نظر اس نظم پر جو آج بھی تازہ حالات کا منظر پیش کر رہی ہے۔ 
میں کس زبان سے کہوں اس زمین پہ کیا ہوگا
مجھے یقین ہے یہاں کوئی معرکہ ہوگا
فضا میں نعرہ تکبیر گونجتا ہوگا
سری نگر میں قیامت کا سامنا ہوگا
یہ فیصلہ دوٹوک فیصلہ ہوگا
ہر اک محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ ہوگا
وطن پکار رہا ہے سرحدوں کی طرف
غرور لشکر کفار توڑنا ہوگا
کیا ہے کبھی جس نے سامراج پر تکیہ
وہی مٹا ہے یہ دہلی کو سوچنا ہوگا
بتا دیا ہے میری فوج کے جوانوں نے
ہمارے ساتھ لڑو گے تو حشر کیا ہوگا
نشان حیدر قرار لے کر نکلیں گے
جدید دور کے خیبر کو توڑنا ہوگا
مجھے یقین ہے بھارت کی چیرہ دستی پر 
اداس اگلے جہاں میں مہاتما ہوگا
اس سے اندازہ کریں اس وقت مومنوں کا جوش و ولولہ کیا تھا اور آج پوری قوم نے جس طرح اپنی بہادر، غیور، جانباز اور شہادتوں کی طلبگار افواج کے ساتھ قدم قدم ساتھ چلنے کا عزم ہی نہیں عملی مظاہرہ بھی کر ڈالا… آج اس غیور قوم کا بچہ بچہ اپنی دھرتی پر نہ صرف قربان ہونے کو تیار ہے بلکہ مودی اگر پنگا لیا ہے تو پھر ہماری طرف سے اس پنگے کی اپنے اندر جرأت پیدا کرتے ہو تو… اور یہ بات بھی جان لو کہ…
سرزمین پاک سے ایسے اٹھائیں گے شہید
جسکے مدفن کے لئے زمین کربلا دینی پڑے
اور تم نے جو اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ رکھا ہے وہ خواب ہی رہے گا اور تم نے چھ مئی سے لے کر تادم تحریر دیکھ لیا کہ ہمارے بہادروں نے تمہیں بند کمروں میں محبوس کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ تھا تمہارا خواب جو چکناچور ہو چکا۔ تم اس قوم کو نہیں جانتے جہاں نیند بھی بارود کی آوازوں میں ڈھل جاتی ہے اور ایل او سی پر کھڑے پاکستانی بہادروں کی طرف سے میلی آنکھ سے نہ دیکھنا وہ نہ صرف تمہاری بدلی آنکھ نکالنے کے لئے بے تاب ہیں بلکہ ان کے سینوں میں لگی وطن کی آگ یا تو دہلی میں بجھائیں گے یا پھر سری نگر میں… ہم تو کہتے ہیں کہ ذرا جنگ کا شوق تو پورا کرو یہ تم نے اپنے سوشل میڈیا پر جھوٹ کے اوپر جھوٹ لگا کر جو ڈرامہ رچا رکھا ہے اس سے تم اپنی کافر قوم کو تو اندھیرے میں رکھ سکتے ہو مگر دنیا کو نہیں جو آج تمہارے نہیں ہمارے موقف کے ساتھ آ کھڑی ہوئی ہے۔ 
مودی تم رات کے اندھیرے میں چوری چوری چھپ چھپا کے حملے کرتے ہو ہم نے صبح سویرے اور دن دیہاڑے تمہاری عوام کے سامنے تمہاری جو درگت بنائی اور اب تو تمہارا ڈانس کرتا میڈیا بھی اب اپنے پائوں سے گھنگھرو اتارتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ ہم غلط ہیں…
اور آخری بات…
شعیب بن عزیز کا نام کسی لفظ یا کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے اپنی شاعری کا ایک اور خوبصورت انداز پیش کیا ہے جو افواج پاکستان کے جذبوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
گلوئے عشق پہ پھر سے ہے نوک خنجر کی
اُٹھو کہ تازہ کریں رسم 6 ستمبر کی

مزیدخبریں