اندازوں کی غلطی نقصان کا باعث ہوا کرتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی اندازہ کی غلطی کا شکار ہوا ہے۔ اس نے سوچا تھا پلوامہ جیسا ڈرامہ کر کے الیکشن جیتنے کا جو کامیاب تجربہ ہوا تھا پہلگام کا ڈرامہ رچا کر بہار میں ہونے والے الیکشن میں کامیابی کی راہ ہموار کر لی جائے لیکن یہ خیال نہیں رکھ سکا کہ اب پاکستان میں نہ تو عمران خان وزیر اعظم ہے جو بھارتی جارحیت کا جواب دینے کی بجائے یہ کہے ’’کیا میں بھارت سے جنگ شروع کر دوں‘‘ اور نہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستانی فوج کا چیف ہے جو بھارتی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے سے گریز کرے بلکہ امریکی دباؤ کے آگے سرنگوں ہو کر گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بڑی عزت و احترام کے ساتھ واپس بھارت بھیج کر الٰہ آبادکے جلسے میں مودی کو یہ بڑمارنے کا موقع دے کہ ہم نے پاکستان کو مزہ چکھانے کی دھمکی دی اور اس نے ابھی نندن کو ہمارے حوالے کر دیا۔ مودی نے ایسی ہی غلط فہمی کا شکار ہوکر پہلگام ڈرامہ رچانے کی حماقت کر دی۔ پاکستان کی جانب سے ماضی جیسے پھپھوسے ردعمل کی توقع بلکہ یقین تھا اس لئے پہلگام ڈرامہ کے سکرپٹ میں احتیاط نہیں برتی گئی۔ اس سے بڑھ کر بے احتیاطی بلکہ نالائقی کیا ہوگی کہ صورتحال کو زیادہ سنگین بنانے کیلئے کہا گیا پاکستان سے آنے والے چار دہشت گردوں نے پہلگام میں دو اڑھائی گھنٹے تک شناختی کارڈ دیکھ کر 26 لوگوں کو قتل کیا۔ اس پر خود بھارتی میڈیا نے سوال اٹھایا کہ اس مدت میں بھارتی فوج جو ہر ایک کشمیری پر دس کی تعداد میں ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار، جائے وقوعہ سے صرف دس منٹ کے فاصلے پر موجود مقامی پولیس کہاں تھی۔ اس سوال سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کو جواب دینے کا شورشرابا گودی میڈیا سے شروع کر ایا گیا۔ سوچا پلوامہ ڈرامہ کی طرح بالاکوٹ اور میاں چنوں کے نزدیک دو میزائل پھینک کر پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے، کے دعویٰ کو دہرانے کیلئے اس مرتبہ پاکستان پر ایسے ہی ایک دو میزائل گرا کر بہار الیکشن جیتنے کی راہ ہموار کر لی جائے گی مگر اب پاکستان میں عمران نہیں شہباز شریف وزیر اعظم ہے اور آرمی چیف بھی جنرل قمر جاوید باجوہ نہیں بلکہ جنرل حافظ سید عاصم منیر شاہ ہے جن کی جانب سے فوری طورپر بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔ پہل کی تو نسلیں یاد رکھیں گی۔ پلوامہ ڈرامہ کے وقت جب بھارتی جنگی جہاز مگ 21 گرا کر پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا گیا تو مودی نے تب اپنی اس درگت پر پردہ ڈالنے کیلئے بڑہانکی تھی، ہمارے پاس رافیل (فرانسیسی جنگی طیارہ) ہوتے پھر ہم دیکھتے پاکستان کیسے ابھی نندن کو گرفتار کرتا۔ اس کے بعد بھارت نے اربوں ڈالر خرچ کر کے رافیل خریدے جن کے بارے میں فرانس کا دعویٰ ہے وہ دنیا کے کسی ریڈار میں نہیں آسکتے۔ بھارت نے اس دعویٰ کی روشنی میں ایک نہیں تین رافیل پاکستان میں تباہی کا ذہن بنا کر بھیجے مگر الحمد للہ نہ صرف پاک فضائیہ کے ریڈار نے انہیں دیکھ لیا اور پاکستانی شاہینوں نے ان کا ناقابل شکست ہونے کا غرور بھی خاک میں ملا دیا۔
بہرحال یہ جنگ ہے دشمن کے پاس بھی ہتھیار ہیں۔ اس لئے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ صرف ہی دشمن کا کباڑہ کریں گے۔ دشمن بھی ہمیں کچھ نہ کچھ نقصان پہنچا سکتا ہے اس لئے بھر پور تیاری، عزم صمیم اور رب قادر و قدیر سے فتح و نصرت کی گڑ گڑا کر دعائیں بھی کرنی چاہئیں۔ تاہم الحمدللہ پاکستانی قوم کے حوصلے بلند ہیں۔ پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح افواج پاکستان کی پشت پر ہے۔ دہائیوں بعد بھی دوسری، تیسری نسل 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کی یاد تازہ کرتی نظر آرہی ہے۔ بالخصوص 1965ء کی جنگ میں جب لاہور کے سرحدی دیہات کی خواتین سرحد پر جانے والے جوانوں کیلئے لسی، دودھ اور روٹیاں لے کر سڑکوں کے کنارے کھڑی نظر آتیں ، دشمن سے دو ہاتھ کرنے کیلئے سرحدوں کی جانب جانے والے پرجوش نوجوانوں کو فوجی بمشکل روکنے کی کوشش کرتے جو ہاتھوں میں ڈنڈے، کلہاڑیاں ، لاٹھیاں اور چاقو ، چھریاں لے کر گھروں سے نکل پڑے تھے۔ زخمی فوجی بھائیوں کیلئے خون کے عطیات کا اعلان ہوا ، ابھی محض زخمی ہونے کے خدشات کی بنا پر، تو یونیورسٹیوں ، کالجوں کے نوجوان طلبا ہی نہیں سکولوں تک کی طالبات اپنے خون کا آخری قطرہ نچھاور کرنے خون جمع کرنے والے مراکز پہنچ گئے۔ پانچ چھ سال سے گیارہ بارہ سال عمر کے بچوں نے پاکٹ منی، فوج کیلئے چندہ میںدینا شروع کر دی۔ گھریلو خواتین نے آیت کریمہ کا ورد شروع کر دیا۔ ختم قرآن پاک کی پاکیزہ محفلیں معمول بن گئیں اور بھارت کو صرف سترہ روز میں سمجھ آگئی اے دشمن دیں، تو نے کس قوم کو للکاراآج پھر بھارت نے پنگا لینے کی جرأت بلکہ حماقت کی ہے۔ افواج پاکستان کی جرأت، بہادری ، پیشہ ورانہ مہارت کا دنیا اعتراف کر رہی ہے اور ان کے جوانوں کا جذبہ شہادت آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ کراچی سے چترال ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان تک چشم فلک پاکستانیوں میں 65ء کے جذبہ کو دو چند صورت میں دیکھ رہی ہے۔ دل کی گہرائیوں سے آرزو میں لپٹی دعا ہے
خداکرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
الحمد للہ پاکستانیوں نے اپنے کردار سے ثابت کر دیا ہے کہ ’’ہم زندہ قوم ہیں‘‘
بُنیان مرصُوص،پاکستانیوں کا عملی مظاہرہ
09:20 AM, 16 May, 2025