نیولے اور سانپ کی لڑائی

09:12 AM, 16 May, 2025

آپ نے قوی الجثہ ارنا بھینسے اور شیر کی لڑائی تو دیکھی ہوگی، اسی طرح شام ڈھلے دریا کنارے پانی پینے والے جانوروں پر جھپٹتے انہیں نگلتے مگرمچھ کو بھی دیکھا ہوگا، اگر آپ نے نیولے اور سانپ کی لڑائی نہیں دیکھی تو آپ نے کچھ نہیں دیکھا، نیولے اور سانپ کی دشمنی کب شروع ہوئی، کیوں شروع ہوئی، کچھ معلوم نہیں۔ دونوں کے درمیان زر اور زمین کا کوئی جھگڑا نہیں ہے، دونوں کسی ایسے محبوب کی زلف کے اسیر نہیں ہیں کہ ایک دوسرے کو برداشت نہ کریں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں۔ دونوں کی دشمنی مثالی ہے، دونوں کی نظریں چار ہو جائیں تو ایک راستہ چھوڑ کر نہیں نکلتا بلکہ خم ٹھونک کر میدان میں آ جاتا ہے، دونوں میں سے ایک کی موت تک لڑائی جاری رہتی ہے، سانپ کا پھن جتنا بڑا ہوگا اس کے دانت اسی اعتبار سے بڑے اور ان میں اتنا ہی زہر ہوگا۔ سانپ اگر بھینس یا بیل کو کاٹ لے تو ایک گھنٹے میں اس کی موت واقع ہو جاتی ہے، انسان کو کاٹ لے تو وہ پندرہ منٹ میں ملک عدم کو سدھار جاتا ہے۔ نیولا تو بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن کہا جا سکتا ہے شیر سے زیادہ بہادر ہے، شیر لڑائی ہار جائے تو جنگل کا وہ علاقہ فاتح کیلئے چھوڑ جاتا ہے، شیرنی فاتح کے تصرف میں چل جاتی ہے پھر نئے فاتح کے آنے تک اس کے گرد منڈلاتی رہتی ہے۔ نیولے کی کیا بات ہے وہ لڑتے لڑتے دشمن کو تھکا کر ختم کر دیتا ہے یا خود ختم ہو جاتا ہے، نیولا ہمیشہ دفاعی جنگ لڑتا ہے جبکہ سانپ ہمیشہ پہلے حملہ کرتا ہے، وہ پھن پھیلائے زمین سے اٹھ کر کئی مرتبہ پینترے بدل کر بجلی کی تیزی سے نیولے پر حملہ آور ہوتا ہے، نیولہ اس سے زیادہ تیزی سے سانپ کو جھکائی دے کر ایک طرف ہٹ جاتا ہے، سانپ دوبارہ سہہ بارہ حملہ کرتا ہے، نیولہ اسی طریقے سے اپنا بچائو کرتا ہے، سانپ تین چار مرتبہ حملے کرنے کے بعد کچھ تھک جاتا ہے جبکہ نیولے کی توانائیاں بحال رہتی ہیں، سانپ تھکن کے عالم میں جب حملہ کرتا ہے تو نیولہ اسے گردن سے یوں پکڑتا ہے کہ سانپ اپنا سر نہیں ہلا سکتا، نیولہ اسے کاٹ کر دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے یا اسے پنجے میں پکڑ کر اس کے سر کو زمین پر رگڑ رگڑ کر اسے موت کی وادی میں پہنچا دیتا ہے۔ وہ اس کی لاش کو وہیں چھوڑ جاتا ہے، سانپ زندگی میں جو کیڑے مکوڑے چھپکلیاں 
کھاتا رہتا ہے اس کے مرنے کے بعد یہی کیڑے مکوڑے اسے کھا جاتے ہیں۔ 
تین روزہ جنگ میں پاکستان ایئرفورس نے بھارتی فورس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو نیولا سانپ کے ساتھ کرتا ہے۔ بھارتی ایئرفورس کا سر کچل ڈالا، رہی سہی کسر پاکستان آرمی نے پوری کر دی، درجنوں ایئر فیلڈز اور فوجی ٹھکانے لگا دیئے۔ مودی سیز فائر پر مجبور ہوا لیکن مکاری اور ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ قوم کو اپنی فتح کی کہانی سنا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ فائر کچھ دیر کیلئے روکا ہے، جنگ بندی نہیں ہوئی۔ بھارت پھر حملہ کرے گا اور پاکستان کو سبق سکھائے گا۔ وہ جب جی چاہے آ جائے دشمن کو سبق پڑھانا ہمارا پرانا مشغلہ ہے۔ ماضی میں کئی مرتبہ سبق سکھایا اگر سب بھلا دیا گیا ہے تو ایک تازہ سبق کسی بھی وقت سکھایا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کی میزبانی میں مشترکہ ڈنر کا پروگرام بھی بن چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے وہاں پہنچتے ہی بھارت کی شکست کا پول کھول دیا اور بتایا کہ بھارت کے ایما پر انہوں نے مارکس روبیو اور جے ڈی وانس کو جنگ بندی کیلئے کہا۔ جنہوں نے تمام رات رابطے کئے اور جنگ بندی ہوگئی۔ بادشاہ جب دوسرے بادشاہ سے ملنے جاتے ہیں تو ان کا ریڈ کارپٹ استقبال ہوتا تھا۔ بادشاہوں کی دیکھا دیکھی غلاموں نے بھی اپنے لئے ریڈ کارپٹ سیدھے کرا لئے، بادشاہوں کو یہ بات ناگوار گزری پس انہوں نے اپنا رنگ بدل لیا۔ اب انہیں جامنی رنگ کے کارپٹ بچھا کر خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خصوصی جہاز سے باہر آئے تو نیلے سوٹ اور جامنی ٹائی لگائے ہوئے تھے۔ جامنی رنگ کے کارپٹ پر چلتے چلتے وہ سعودی حکام سے ملتے رہے ان کے ساتھ اس مرتبہ ان کی اہلیہ نہیں تھیں۔ انہوں نے استقبالیہ سے پہلے کی نشست میں سعودی حکام سے گفتگو کی بجائے پرنس محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ ٹرمپ کو سعودی عرب کا روایتی قہوہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے چند لمحے چھوٹا سا قہوہ کپ ہاتھ میں پکڑے رکھا پھر نہایت چابکدستی سے اسے پیچھے ایک میز پر رکھ دیا۔ امریکی صدر اپنے پروٹوکول کے مطابق کسی پیش کی گئی چیز کو نہیں چکھتے۔ وہ اپنے کھانے پینے اور استعمال کرنے کی کراکری اپنے ساتھ امریکہ سے لاتے ہیں۔ عشائیہ کے دوران وہی سامان استعمال ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں مزاح پیدا کیا وہ روایتی سیاست دان نہیں ہیں لہٰذا جو منہ میں آئے کہنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔ وہ بدلحاظ بھی ہیں اور منہ پھٹ صدر مشہور ہیں۔ انہوں نے پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی اور امت مسلمہ پر احسان جتلایا کہ اس جنگ میں لاکھوں افراد موت کے منہ میں جا سکتے تھے۔ وہ امن کے نوبل پرائز کیلئے اپنا سی وی اپ گریڈ کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمیں تجارت کی راہ دکھاتے ہیں۔ 
پنجاب کے دیہی علاقوں میں اگر کسی شخص کی منفی سرگرمیوں کی بنا پر ’’تعریف‘‘ کرنی ہو تو کہا جاتا ہے ’’بڑا حرام دا اے‘‘ اگر مقصود ہو کہ تعریف بھی ہو جائے اور بچوں کو سمجھ نہ آئے تو کہا جاتا ہے ’’بڑا کھچرا اے‘‘ پنجابی میں خچر کو کھچرا کہتے ہیں۔ اب آپ اردو میڈیم اور انگریزی میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے والے پوچھیں گے کھچرا کسے کہتے ہیں تو عرض ہے گدھی کے بطن سے اور گھوڑے کے نطفے سے پیدا ہونے والے یعنی دونوں کے ملاپ سے پیدا ہونے والے جانور کو کھچرا کہتے ہیں۔ یہ قد و قامت میں گدھے سے کچھ بڑا اور گھوڑے سے چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اس میں گدھے کی مشقت کرنے کی عادت اور گھوڑے کی دانائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ یہ مشکل ترین راستوں پر پہاڑوں پر وزن اٹھا کر یوں چڑھتا ہے جیسے انسان موٹروے پر گاڑی دوڑاتا ہے یا ہمارے موٹرسائیکل چلانے والے نوجوان سٹنگر میزائل سٹائل میں سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں۔ 
مجھے اردو اور پنجابی لغت میں امریکی صدر کی تعریف کیلئے جو مناسب ترین لفظ ملا ہے وہ کھچرا ہے، اسے پاک بھارت جنگ میں مرنے والے لاکھوں افراد کا خیال آ گیا لیکن اسے اور اس کے حواریوں کو غزہ میں جام شہادت نوش کرنے والے بھوک اور پیاس سے بلکتے اور زخموں سے چور بچے اور مرد و زن نظر نہیں آتے۔ اس کے ایک اشارے پر اگر برصغیر میں جنگ بند ہو سکتی ہے تو فلسطین میں اسرائیلی حملے کیوں نہیں رک سکتے، یہاں جنگ اس لئے روکی گئی کہ اسرائیلی ڈرون، فرانس کے رافیل طیاروں اور یورپ کی ٹیکنالوجی کا جنازہ پاکستان ایئرفورس اور پاکستان آرمی نے نکال دیا۔ اب امریکہ کی ناک کٹنے کا وقت آ گیا تھا جس کے بعد اس کے ختنے بھی کئے جا سکتے تھے،  بس راتوں رات جنگ ہوگی، نیولے اور سانپ کی لڑائی کا ایک رائونڈ ہوگا، اسی برس ہوگا۔ 

مزیدخبریں