بھارت کو اوقات میں لانا لازمی تھا

09:11 AM, 16 May, 2025

اڑھائی ہزار سال پہلے لکھی گئی چینی دانشورشن زو کی کتا ب’’ The Art Of War‘‘ میرے سامنے کھلی پڑی ہے اور میں اُس تاریخی جملے کو بار بار پڑھ رہا ہوں کہ’’ جنگ کو سفارت کاری کے ذریعے ٹال دیا جائے ۔‘‘شن زو جس دنیا میں رہتا تھا وہاں ایٹمی بلائیں ٗ میزائل ٗ سائبر اٹیک اور بیالوجیکل سٹرائیکس نہیں تھیں ۔ پراکسی وارنام کی کسی شے سے بھی اُس زمانے میں شن زو کو واسطہ نہیں پڑا تھا ۔ ول ڈیورانٹ ’’The Lessons Of History‘‘ میں کہتا ہے کہ ’’ جنگ اور انسان لازم و ملزوم ہیں تو یقینا وِل ڈیورانٹ نے ایٹمی دنیا اپنی مکمل ہولناکیوں کے ساتھ دیکھ رکھی تھی ۔گو کہ یہ کتاب تہذیب انسانی پر ایک پُرمغز گفتگو تو کرتی ہے لیکن موجود ہ دور کی جنگوں میں امن کا رستہ نہیں بتاتی ۔ مائیکل مان اپنی شہر ہ آفاق کتاب ’’ On War‘‘ میں وضاحت کے ساتھ بتا رہا ہے کہ جنگوں کے آثارزرعی معاشروں  کے قیام کے بعد ہی ملتے ہیں اوراِس میں وہ ذاتی ملکیت کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے ۔ آ ج دنیا میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ ایٹم بموں کی تعداد کسی کو بھی معلوم نہیں کیوں کہ یہ ریاستوں کا سب سے بڑا راز ہے ۔ 
پاک بھارت جنگ تو اختتام پذیر ہو گئی لیکن جنگ کے سائے ابھی ڈھلے نہیں کہ بھارت کے ساتھ جو سلوک افواج ِ پاکستان نے کیا ہے وہ بھارت کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔ بھارت کو تو چھوڑیں ٗ پاکستان میں موجود بہت سے اذہان میں منفی پروپیگنڈا کی وجہ سے پاک بھارت جنگ کے نتیجہ میں بہت سے وسوسے پل رہے تھے لیکن اس جنگ نے پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دوستوں اور دشمنوں کو لاکر قوم کے سامنے کھڑا کردیا ہے ۔ پاکستان پر حملے کے بعد امن ٗ امن کا راگ الاپنے والے اپنے گھر کی حدود میں کسی بھیک مانگنے والے کو بھی داخل نہیں ہونے دیتے ۔ یہ حقیقت ہے کہ جنگ شروع ہو نے سے پہلے میں ہرگز جنگ نہیں چاہتا تھا کہ میں امن کا پرچارک ہو ں لیکن جب میرے وطن پر جنگ مسلط کردی گئی تو پھر اُس سے بھاگنا بدترین بزدلی اور اُس کی مخالفت کرنا اور افواج ِ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا اس حد تک کرنا کہ بھارتی میڈیا یہاں تک کہنا شروع کردے کہ جنگ کے نتیجہ میں پاکستان تحریک انصاف بھارتی افواج کا ساتھ دیں گی ٗ بدترین غداری اور ملک دشمنی ہے اور یہ بات بھارتی میڈیا نے کسی نہ کسی یقین دہانی کی بنیاد پر ہی کی تھی ۔ بھارتیوں کی پٹائی ہونے کے بعد علیمہ خان جو جنگ کو نور ا کشتی کہہ رہی تھی اُس کے بغض اور حسد کا یہ حال تھا کہ وہ صرف فضائیہ کی تعریفیں کرتی رہیں لیکن بری فوج کے بارے میں اُسے مکمل چپ لگ گئی ۔ صنم جاوید نے 23 اپریل کو پوسٹ لگائی کہ ’’ چلیں ٗ شاباش ٗ گھر سے باہر لڑنے کا وقت آ گیا ہے ۔اب ذرا باہر نکل کر بھی بدمعاشی دکھائیں ۔‘‘ اب وہ یہ سب کسے کہہ رہی تھیں یہ معلوم کرنا اُن کی ذمہ داری ہے جن کو آئین ِپاکستان اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے لڑنے کی ذمہ داری دیتا ہے ۔احمد نورانی کا کہنا تھا ’’ جنگ ختم ہو چکی ہے۔ بھارت نے پاکستان اور کشمیر کے چھ شہروں میں 24 حملے کیے ٗ جن میںپاکستانی شہر بہاولپورٗ سیالکوٹ ٗ شکرگڑھ ٗ اور مرید کے (لاہور کے قریب )شامل ہیں ۔جواب میںپاکستان نے  تقریبا 600 صحافیوں کا غلط استعمال کیااور تقریبا 6000 جھوٹی خبریں پھیلائیں ۔ان صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بھارت کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں( جبکہ حقیقت میں صرف دو طیارے گر کر تباہ ہوئے ہیں ) ٗ بھارتی کشمیر میں ایک بریگیڈ ہیڈ کواٹر پر دھماکہ ہوا ہے ٗ اور یہ کہ پاکستان نے پنجاب کے چار شہروں پر حملے کا بدلا لے لیا ہے ۔ ان بیانیوں کے مطابق پاکستان نے جنگ جیت لی ہے ۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد ۔‘‘ یہ ہے احمد نورانی کا بیانیہ جو اُس نے 7 مئی کودیا حالانکہ پوری دنیا پاکستان کی خاموشی پر حیران بھی تھی اور پریشان بھی لیکن دوسری طرف جارحیت تھی کہ بڑھتی چلی جا رہی تھی ۔ہندوستانی میڈیا کچھوے اور خرگوش کی کہانی والے خرگوش کی طرح اچھل کود کررہا تھا ۔ 13 مئی کو معید پیر زادہ نے بھارتی نمک حلالی کرتے ہوئے جو کچھ لکھا وہ انتہائی تکلیف دہ تھا کہ اُس وقت تک ترجمان افواجِ پاکستان اپنا بیانیہ اور جنگی صورت حال بتا چکے تھے ۔ معید پیرزادہ کا لکھنا تھا کہ ’’جی کچھ ایسا ہی لگتا ہے ! انہیں اندازہ تھا یا دوسری سائیڈ سے بتادیا گیا تھا کہ ہم کہا ں حملے کریں گے !اور بہاولپور میں تو ہندوستانی حملہ آبادی سے دور ایک تقریباً خالی مسجد پے کیا گیا ہے !اگلے چند گھنٹو ں میں تو صورت حال بہت کھل کر سامنے آ جائے گی !بہاولپور کے لوگوں سے استدعا ہے کہ ہمیں زمینی حقائق سے آگا ہ کریں !‘‘ثمینہ پاشا نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’ کچھ بیوقوف سمجھ رہے تھے کہ جنگ کے ماحول میں لوگ عمران خان کو بھول جائیں گے ۔آج سب سے زیادہ ذکر عمران خان کا ہی ہو رہاہے ۔ لوگ اسے یاد کررہے ہیں ٗاس کی حفاظت کیلئے پریشان ہو رہے ہیں اس کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں اور اُس کے پیچھے کھڑ ے ہو کر دشمن کو منہ توڑ جواب دینا چاہتے ہیں ۔‘‘یہ سارے تیر ایک ہی کمان سے نکلے ہوئے ہیں اور اِن کا واحد مقصد افواج ِ پاکستان کو ڈی مورلائز کرنا تھا لیکن اِن گدھوں کو یہ معلوم نہیں کہ عمران نیازی اور اُس کی مفرور سپاہ بہت عرصہ ہوا عوام کے سامنے ایکسپوز ہو چکی ہے ۔پاکستان کے نوجوانوں نے افواج ِ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور تحریک انصاف کو نوجوانوں کی جماعت کہنے کا بیانیہ بھی دفن ہو گیا ۔ 
نوجوان کسی ایسے شخص کا ساتھ کیوں دیں گے جو پاکستان پر حملہ آور ہونے والوں کی زبان بول رہا تھا ؟ عمران نیازی کی بہن علیمہ خان نے جس حد تک ملک دشمنی ہو سکتی تھی انہوں نے کوئی رعایت نہیں دی لیکن انہیں سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ عقل کے اِن اندھوں کو یہ بتایا جائے کہ امن کبھی یکطرفہ نہیں ہوتا اور نہ حملہ آور قاتل قابل عزت ہوتا ہے ۔ افواج پاکستان نے بہادری کی جو تاریخ لکھی ہے وہ آنے والی نسلوں کا خون گرماتی رہے گی ۔ کتوں کے بھونکنے سے فقیروں کا رزق کم نہیں ہوتا ۔ پاکستان قیامت کی صبح تک رہنے کیلئے قائم ہو ا ہے اور ان شاء اللہ رہے گا ۔ ہمیں اب صرف ’’ اپنی منجھی تھلے ڈانگ نہیں بڑا طاقتور ڈنڈا پھیرنا ہو گا تاکہ پھر کوئی کبھی پاکستان دشمنوں کی زبان پاکستان کے جغرافیے میں رہتے ہوئے نہ بول سکے ۔کہ یہی آرٹ آف واراوریہی بھارت کو اوقات میں لانے کاسب سے معتبر طریقہ کار ۔ 

مزیدخبریں