بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے حال ہی میں دیا گیا بیان کہ "آپریشن سندور موخر ہوا ہے، ختم نہیں" مودی حکومت کی اس وقت کی انتہائی کمزور پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔ آپریشن سندور، جسے بھارت نے پہلگام فالس فلیگ حملے کے جواب میں پاکستانی سویلین آبادی میں موجود مساجد اور مدرسوں پہ میزائل داغ کے شروع کیا اور پاکستان کے صبر و تحمل کے باوجود آخری حملہ پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیا گیا، پاکستان کی آپریشن "بنیان مرصوص" کے تحت کی گئی بھرپور جوابی کارروائی کے باعث ناکام ہو گیا۔ اس تین روزہ جنگ میں پاک فضائیہ نے جدید ترین 3 رافیل طیاروں سمیت بھارتی فضائیہ کے 6 جنگی جہاز، 80 کے قریب اسرائیلی ساختہ ڈرونز مار گرائے اور پھر جوابی حملے میں 27 بھارتی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے انڈیا کے ایس-400 دفاعی نظام کو تباہ کر کے بھارت کے جنگی غرور کو خاک میں ملا دیا۔
بھارتی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے خود تسلیم کیا ہے کہ آپریشن سندور بھارت کے لیے ایک شرمناک ناکامی ثابت ہوا۔ بھارتی عوام، جو مودی کے ہندوتوا ایجنڈے اور جنگی نعروں پر بھروسہ کرتے تھے، اب اس کی قیادت اور حکومتی نا اہلی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ بھارتی معیشت دباؤ اور بھارت عالمی سطح پہ تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش اور مودی حکومت کی طرف سے اس کو فوری قبول کرنے کے عمل نے بھی بھارتی عوام میں مودی کی پوزیشن کو مزید کمزور کیا ہے۔
لہٰذا اب مزید ہزیمت سے بچنے اور ہندوتوا کے پجاریوں کو مطمئن کرنے کے لیے بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مودی حکومت ایسی حکمت عملی تیار کر رہی ہے جس سے لائن آف کنٹرول پہ حملہ کر کے پاکستان کے خلاف زمینی کارروائی شروع کی جائیگی۔ تاہم، پاکستان کی بہادر افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور مستقبل میں بھی ایسی گھناؤنی حرکت کو پوری قوت سے کچل دیں گی۔ لیکن پھر بھی ہمیں ہر طرح سے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
بھارتی ائیر فورس اور میزائلوں کا جواب تو ہم پہلے ہی مؤثر طور دے چکے اور آئندہ بھی دینگے۔ لیکن اب پاکستان کو فتح 3 اور فتح 4 کو فوری طور پہ افواج کے حوالے کرنا ہو گا تاکہ ہم جنگ کی صورت میں بھارت کی 750 کلومیٹر کے علاقے میں موجود تمام دفاعی تنصیبات کو تباہ و برباد کر سکیں۔ وہیں ہماری ائیر فورس کو نا صرف اپنے جے 10 سی طیاروں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہو گا بلکہ چائنہ سے کم از کم 5 یا 6 ففتھ جنریشن جے 35 فوری حاصل کرنے کے لئے درخواست کرنا ہو گی۔ کسی بھی زمینی کارروائی کی صورت میں بھارت کے T-90S بھیشما ٹینکوں اور BMP-2 انفنٹری وہیکلز کے مقابلے کے لیے پاکستانی فوج کو جدید اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل (ATGM) کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ترکی کا OMTAS (Mizrak-U) فوری خریداری کے لیے موزوں انتخاب ہے۔ یہ میزائل بھارتی ٹینکوں اور انفنٹری وہیکلز کے مضبوط آرمر کو چیر کر باآسانی تباہ کر سکتا ہے اور رات کے وقت بھی درست حملے کر سکتا ہے۔ ترکی کے بنے OMTAS کی رینج 4 کلومیٹر ہے اور یہ ٹینکوں کے علاوہ بری فوج کے زیر استعمال بنکروں کو بھی تباہ کر سکتا ہے، جو کہ بھارتی زمینی پیش قدمی روکنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
وہیں بھارتی فوج کے زیر استعمال K9 وجرا اور M777 اور بوفرز FH- 77B ہاؤٹزرز کے مقابلے کے لیے پاکستان کو بھی جدید آرٹلری سسٹمز کی ضرورت ہے۔ پاکستانی بری فوج پہلے ہی M109 اور چینی ساختہ SH-15 155mm ہاؤٹزر استعمال کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ SH-15 کی رینج 50 کلومیٹر تک ہے اور یہ GPS گائیڈڈ گولے داغ سکتا ہے اور اس کے بہترین استعمال نے پوری سرحد اور بالخصوص کشمیر میں موجود لائن آف کنٹرول پہ بھارتی افواج کو انتہائی کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔لیکن جہاں ان کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے وہیں پاکستان کے پاس ترکی کی بنی T-155 Firtina-II ہائوٹزرز فوری خریداری کے لیے بہترین آپشن ہیں ۔
اسی طرح بھارتی فوج اسرائیلی ہاروپ، ہرمز، امریکی پریڈیٹر اور مقامی ساختہ Krasukha -4 ڈرونز کے ساتھ ساتھ Switch UAVs استعمال کرتی ہے۔ ان کے مقابلے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر چینی ساختہ LD-10 اینٹی ڈرون لیزر سسٹم خریدنا ہوگا۔ یہ لیزر ہتھیار 2 کلومیٹر تک ڈرونز کو فوری تباہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح ترکی کا Sungur MANPADS پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹم جس کی رینج 8 کلومیٹر ہے اور یہ جدید ڈرونز کے مقابلے کے لئے بہترین ایجاد اور آپشن ہے۔ آجکل کے دور میں جنگوں کا ایک لازمی جزو الیکٹرانک وارفیئر سسٹم ہے۔ بھارتی ڈرونز اور مواصلاتی نظام کو ناکارہ بنانے کے لیے الیکٹرانک وارفیئر (EW) سسٹمز بہت ضروری ہیں۔ چینی CHL-906 EW سسٹم نا صرف بھارتی ڈرونز کے سگنلز کو جام کر سکتا ہے بلکہ ان کی نیویگیشن کو بھی خراب کر سکتا ہے۔ یہ سسٹم پاکستانی فوج کو بھارتی نگرانی سے بچانے اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
جذبہ ایمانی کے ساتھ ہمیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی افواج کی استعداد کار میں فوری اضافہ کرنا مطلوب ہے تاکہ اس دفعہ حملہ آور دشمن کو وہ کاری ضرب لگائی جائے کہ اس کی اگلی دس نسلیں بھول کر بھی وطن عزیز پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نا دیکھ سکیں۔
پاکستان زندہ باد۔ افواج پاکستان پائندہ باد
بغل میں چھری، منہ میں رام رام
09:11 AM, 16 May, 2025