واشنگٹن: بھارت میں مذہبی آزادی کے قتلِ عام پر امریکی کمیشن (USCIRF) کی تازہ ترین رپورٹ نے عالمی سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ رپورٹ میں مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' اور ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی کی سفارش کر دی گئی ہے۔
امریکی ادارے نے اپنی سفارشات میں بھارت کے خلاف سخت ترین لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی 'را' (RAW) اور آر ایس ایس کے اثاثے منجمد کیے جائیں۔ اقلیتوں کے خلاف تشدد میں ملوث بھارتی عہدیداروں کے امریکہ داخلے پر پابندی لگائی جائے۔
انتہا پسندانہ قوانین کے ذریعے مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنانا بند کیا جائے۔رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ مودی سرکار کے دور میں ہندو انتہا پسند گروہوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں پر ہجوم کے حملوں (Mob Attacks) میں تیزی آئی ہے۔
ریاستی ادارے اور پولیس اقلیتوں کو تحفظ دینے کے بجائے انتہا پسندوں کی معاونت کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی مسلسل تنقید کے بعد اب امریکی کمیشن کی یہ رپورٹ بھارت کے لیے بڑے سفارتی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت میں اب مذہبی آزادی محض ایک خواب بن کر رہ گئی ہے اور اقلیتیں شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
امریکی کمیشن کا بھارت پر 'پابندیوں' کا مطالبہ: 'را' اور آر ایس ایس کے اثاثے منجمد کرنے کی سفارش
03:17 PM, 16 Mar, 2026