تہران : مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کے ایران اور لبنان پر حملے سولہویں دن میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایران نے جواب میں "54 ویں لہر" کا آغاز کرتے ہوئے سجیل میزائل داغے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے دنیا بھر سے مدد کی اپیل کی، لیکن کسی ملک نے اب تک بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کسی سے مذاکرات کے لیے رابطہ نہیں کر رہا، سعودی عرب پر حملوں میں ملوث نہیں اور امریکی ڈرونز ایرانی ڈرونز کی نقل ہیں۔
سولہ دنوں میں جنگ میں 1444 ایرانی اور 850 لبنانی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین شامل ہیں، جبکہ ہزاروں زخمی اور ایران میں 36 ہزار عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
سعودی عرب نے بھی آج متعدد ڈرونز مار گرائے، تین لہروں میں کل ساٹھ ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔
بغداد میں راکٹ اور ڈرون حملے ہوئے، اور لبنان کے جنوبی علاقے جزین میں اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی دعوے مسترد کیے اور کہا کہ ایران اپنے پرانے میزائل استعمال کر رہا ہے، نئے میزائل ابھی استعمال میں نہیں آئے۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا کہ ایران دہشت گرد منصوبوں کا مخالف ہے اور یہ جنگ امریکی عوام کے خلاف نہیں ہے۔
دبئی میں ڈرون واقعے کے بعد فضائی اڈے پر پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں۔ جاپان، آسٹریلیا، برطانیہ اور فرانس نے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے سے انکار کیا جبکہ چین نے تعمیری کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔
مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کی صورت حال کشیدہ ہے اور عالمی طاقتوں کی محدود شمولیت بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔