خبر نہیں کیا ہے نام اس کا ، خدا فریبی کہ خود فریبی

09:09 AM, 16 Mar, 2026

دینِ حق محض چند ظاہری مراسم ، جبینی سجدوں ، الفاظ کے وظیفوں اور سماجی شناخت کے مظاہر کا نام نہیں ، بلکہ یہ ایک داخلی کیفیت ، روحانی طہارت اور اخلاقی انقلابِ ذات کا تقاضا کرتا ہے ۔ اس کا مقصد انسان کے ظاہر و باطن کو ہم آہنگ کرنا ، اس کے فکرو عمل کو جِلا بخشنا اور اس کے قلب و نظر کو حقیقت ِ مطلقہ کے ادراک سے منور کرنا ہے ۔ مگر افسوس آج مذہب کی اصل روح پسِ پشت جا چکی ہے ، اور اس کی جگہ محض نمائشی تقویٰ ، رسم پرستی اور ظاہری مظاہر نے لے لی ہے ۔۔ہم مسجدوں میں  صفیں باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں، مگر دل بغض و حسد سے بھرے ہوتے ہیں۔اذکار و تسبیحات کا ورد کرتے ہیں ، مگر ہماری زبان بہتان و غیبت سے آلودہ رہتی ہے۔اذان کی صدائیں فضا میں گونجتی ہیںمگر دل کی ویرانی ، کردار کی کج روی اور نیتوں کی غلاظت اپنی جگہ برقرار ہے ۔ سجدوں میں ماتھا تو رگڑتے ہیں مگرقلوب کی جبینیں تسلیم و رضا کی معراج سے کوسوں دور ہیں۔ ۔ہم روزے تو رکھتے ہیں مگر ہمارے اندرصبر، قناعت اور ضبطِ نفس کی کوئی رمق موجودنہیں ۔حج و عمرہ کی سعادتیں سمیٹتے ہیں ، مگر دل ریا،خود پسندی، تکبر اور حبِ دنیا کے اسیر رہتے ہیں۔ ہم زکوٰۃ دیتے ہیں مگر ہمارے کاروباری معاملات استحصال ، دھوکہ دہی اور نا انصافی سے بھرے ہوتے ہیں الغرض ہمارا دین اب ایک سماجی شناخت اور روایتی طرزِ عمل تو بن چکا ہے ، مگر ہمارے قلوب خشیتِ الٰہی اور اس کے اصل اثرات سے محروم ہیں ۔
دینِ اسلام بار بار تقویٰ، خلوصِ نیت ، عد ل و انصاف اور خلقِ عظیم کو اپنانے کی تلقین کرتا ہے ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :۔’ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نجات کا راستہ نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا ‘۔ہم نے تقویٰ کو محض ایک لفظ بنا دیا اور حقیقی خوفِ خدا کو دلوں سے باہر نکال دیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ عبادات تو باقی رہیں مگر ان کی تاثیر ختم ہو گئی ۔حقیقی ایمان وہ ہے جو دل کی ظلمت کو مٹا دے ، جو غرورو تکبر کو خاک میں ملا دے ، جو ریا کے خول کو چاک کر دے اور جو انسان کے ظاہر و باطن میں یگانگت پیدا کرے ۔سورج کی روشنی میں چمکتا ہوا آئینہ اگر گرد سے اٹا ہوا ہو تو وہ روشنی منعکس کرنے کے بجائے دھندلا پن پیدا کرتا ہے یہی حال اس قلبِ انسانی کا ہے جو ظاہری مذہب کی چمک دمک سے مزین تو ہو مگر باطنی ایمان کے نور اور بصیرت سے خالی ہو۔یہ تضاد کوئی نیا نہیں ہے بلکہ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی دین کو محض رسوم ورواج ، ظاہری اعمال اور سطحی عبادات تک محدود کیا گیا معاشرہ ایک ایسے فکری جمود اوراخلاقی زوال میں مبتلا ہوا جس نے دین کی اصل روح کو پسِ پشت ڈال دیا ۔خوارج کی مثال دیکھ لیجیئے جو دن رات عبادات میں مصروف تھے ، قران کی تلاوت کرتے ، زہد و تقویٰ کے دعویدار تھے مگر ان کے دل سخت اور فیصلے بے رحم تھے نتیجتاً وہ گمراہی کی راہ میں جا پڑے۔ ان کے برعکس خلفائے راشدین کی عبادات عدل ، سخاوت ، دانائی اور حلم میں ڈھلی ہوئی تھیں۔ حضرت عمرؓ کا عدل ، حضرت عثمان ؓکی سخاوت ، حضرت علیؓ کی حکمت سب دین کے اس پہلو کی عملی تفسیر ہیں جو ظاہری عبادات سے آگے بڑھ کر قلبی کیفیت اور عملی زندگی میں جھلکتا ہے۔یہ ایک تلخ مگر نا گزیر حقیقت ہے کہ دین جو ازل سے انسان کی روحانی بالیدگی کا محرک تھا ، آج محض رسوم و قیود میں جکڑ دیا گیا ہے ، طہارت کا جوہر دل کی صفائی سے منسلک تھا مگر اسے ظاہری لباس اور ریاکارانہ اطوار تک محدود کر دیا گیا ۔ ہمارے لیے مذہب کا تصور چند مخصوص عبادات ، مذہبی اصطلاحات اور مخصوص ظاہری شعائر تک محدود ہو چکا ہے جبکہ اس کی اصل روح اخلاص، صداقت ، دیانت ، حلم ، عدل ، احسان اور ایثار ہماری زندگیوں سے غائب ہے ۔بدقسمتی سے آج کا مسلمان دین کی صورت سے تو جڑا ہوا ہے مگر اس کی روح سے نہیں۔ آج دین کو ایک تجارتی وسیلہ بنا دیا گیا ، مسلکی تعصبات کو ہوا دے کر دحدتِ امت کو پارہ پارہ کر دیا گیا اور مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے حکمرانی میں دیانت و انصاف کو ناپید کر دیا گیاجس کے باعث دین محض ایک نمائشی شے بن کر رہ گیا ۔جبکہ اخلاقیات، دیانت، نرم دلی اور خلوصِ نیت جیسی بنیادی قدریں نظر انداز کر دی گئیں۔ یہی وہ استحصالی رجحان ہے جس نے دین کی اصل روح کو مجروح کر دیا ۔مگر سوال یہ ہے کہ اس جمود سے آخر نکلا کیسے جائے؟
یہ جمود درحقیقت ایک فکری ، روحانی اور عملی زوال کا نتیجہ ہے جس کی جڑیں صدیوںپر محیط روایتی تقلید ، غیر متحرک طرزِ فکر اور دین کو محدوددائرے میں قید کر رکھا ہے۔ اگر واقع ہی ہم اس جمود کو توڑنا چاہتے ہیں تو اپنی سوچ کی بنیادوں پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی ۔ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ دین صرف عقائد اور عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاملات ، اخلاقیات اور کردار میں بھی اپنی مکمل موجودگی چاہتا ہے ۔ رسولِ خدا حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کی زندگی ہمارے سامنے ایک واضح مثال ہے ۔ آپ ﷺ کی عبادات جتنی مضبوط تھیں ، آپ ؐ کے اخلاق اور انصاف اس سے کہیں زیادہ اعلیٰ تھے۔ آپ ﷺ کی دیانت و امانتداری نے لوگوں کے دل جیتے ، آپ ﷺ کے انصاف نے دشمنوں کو بھی قائل کر دیا اور آپ ؐ کی نرم مزاجی نے سخت ترین دلوں کو موم کر دیا لیکن آج کے مسلمان میں یہی اوصاف ناپید ہیں ۔ضرورت ِوقت ہے کہ ظاہری مذہب اور باطنی ایمان میں ہم آہنگنی پیدا کی جائے ۔ عبادات کو محض ایک رسم کے بجائے اصلاحِ قلب و کردار کا ذریعہ بنایا جائے ، مذہب کو صرف شناخت اور گروہی وابستگی کا نشان نہ سمجھا جائے بلکہ ایک عملی ضابطہ حیات کے طور پر اپنایا جائے ۔اسلامی تعلیمات کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے اس کے اصل مقاصد اور حکمتوں کوجاننے کی کوشش کرنا ہو گی۔اپنی عبادات کو روحانی اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنانا ہوگا تاکہ نماز ہمیں عاجزی سکھائے ، روزہ ہمارے اندر صبر اور تقویٰ پیدا کرے ، زکوٰۃ حقیقی ایثار اور ہمدردی کا مظہر بنے ۔۔ دین کے اصولوں پر صرف زبانی دعوے نہ کیے جائیں بلکہ عدل ، دیانت ، بردباری اور خلوص کو زندگی کا حصہ بنایا جائے ۔جب تک دین کو سطحی مظاہر سے نکال کر حقیقی معنوں میں اپنی شخصیت اور طرزِ عمل میں نہیں ڈھالتے تب تک اسی سراب میں بھٹکتے رہیں گے ۔بلکل اسی مسافر کا مانند جو راستے کے نشانات تو پہچانتا ہے مگر منزل کی راہ گم کر چکا ہے۔ دین صرف وہ نہیں ہے جو نظر آتا ہے بلکہ وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہوتا ہے ، جو کردار میں جھلکتا ہے اور جس کی روشنی سے دل ، دماغ اور سماج منور ہوتے ہیں ۔

مزیدخبریں