سات دن سات کامیابیاں

09:09 AM, 16 Mar, 2026

گوایران اسرائیل جنگ تیسر ی عالمی جنگ نہیں ہے لیکن اس کا اثر پوری دنیا پر پہلی اور دوسری ورلڈ وار سے بھی کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ اظہر من الشمس ہے۔انسانی زندگی ،ملکوں اور قوموں کی ترقی،معیشت اور روزگار سب کچھ توانائی سے جڑا ہوا ہے اور اس جنگ سے پوری دنیا میں توانائی کا بحران آیا چاہتا ہے۔دنیا میں توانائی کی قیمتیں قابو سے باہر ہورہی ہیں۔ پاکستان نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے یہاں پٹرول کی قیمت بڑھائی وہیں حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کرتے ہوئے تیل کے بحران سے ملک کو بچالیا ہے۔اس وقت ہندوستان میں گیس کا بحرا ن شدید ہوگیا ہے ۔لوگ ایک سلینڈر حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں گھنٹوں کھڑے ہونے پر مجبو رہیں ۔ہندوستان کی ہوٹل انڈسٹری بند ہورہی ہے یا کھانا پکانے کے لیے لکڑی کا استعمال کر رہی ہے۔ مودی سرکار بھی شدید عوامی دباؤمیں آچکی ہے ۔وزیراعظم شہبازشریف نے اس ہفتے پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان کرکے بہترین فیصلہ کیا ہے ۔اگر پاکستان ہفتہ پہلے تیل کی قیمتیں نہ بڑھاتا تو اس وقت حکومت کو پٹرول کی دوگنا قیمت بڑھانا پرتی اور تیل کی دستیابی الگ مسئلہ بن چکی ہوتی ۔
ہم حکومت پر تنقید کرتے ہیں اور جائز تنقید کرنی بھی چاہئے لیکن اگر حکومت کوئی کام اچھا کرتی ہے تو اس کی تعریف کرنے میں بھی کوئی برائی نہیں ہونی چاہئے ۔ایران جنگ میں پاکستان کی ملٹری اور سول ڈپلومیسی نے اہم ترین اہداف حاصل کیے ہیں۔ اگر اس وقت عرب اور ایران کے درمیان براہ راست گولہ باری نہیں ہورہی جوکہ اسرائیل اور امریکا کی شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو شروع کرکے اسلامی ممالک کو آپس میں لڑواکر پورا مڈل ایسٹ برباد کردیا جائے اور اسرائیل مسلمانوں کوآپس میں لڑوا کر باہر بیٹھ کر تماشا دیکھے وہ ہدف حاصل نہیں کرسکا۔اس ہدف میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی سفارت کاری، وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار ہے۔ پاکستان خطے میں نیٹ سٹیبلائزر کا کردار اداکر نے والا واحد ملک ہے ۔پاکستان بیک وقت ایران سے بھی بات کررہا ہے ،سعودی عرب اور تری سے بھی بات کررہا ہے اور مڈل ایسٹ کے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں ہے ۔اگر جنگ نہیں پھیلتی اور امن کی طرف یہ خطہ لوٹ آتا ہے تو اس کا کریڈٹ تاریخ صرف اور صرف پاکستان کو دے گی ۔وزیراعظم شہبازشریف کو دے گی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو دے گی ۔
گزشتہ ہفتے کے سات دنوں میں پاکستان کو ایسی سات کامیابیاں ملی ہیں جن کو دیکھ کر ہمیں اپنے پاکستانی ہونے پر بجاطورپر فخر ہونا چاہئے ۔میں ان تمام قارئین کے سامنے یہ سات ایونٹس رکھتا ہوں جو پاکستان کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں جو پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں ۔جو مخصوص سیاسی نظریات کے لالچ میں پاکستان کے وجود تک پر سوال اٹھائے پھرتے ہیں وہ اس تحریر سے دور رہیں کیونکہ ان کی مایوسی میں اضافہ ہونے والا ہے۔
اس ہفتے پاکستان میں  5G نیلامی ایسے وقت میں ہوئی جب دنیا شدید جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے گزر رہی تھی۔ اس کے باوجود اس نیلامی سے پاکستان کو کئی ارب ڈالر آمدنی حاصل ہوئی۔ اس اقدام نے ڈیجیٹل پاکستان کے مستقبل کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی۔ دوسرے نمبر پر  ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران کی جانب سے کم از کم تین مرتبہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے اعلان سامنے آئے۔ یہ صرف پاکستان کی قیادت کی دن رات کی محنت اور کوششوں کا ہی ثمر ہے کہ دنیا پاکستان کی بات صرف سنتی ہی نہیں بلکہ مانتی بھی ہے۔
نمبر تین : جس ہفتے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آیا، پاکستان نے بروقت فیصلوں کے ذریعے اس صورتحال کو سنبھالا۔ قیمتوں اور سپلائی چین سے متعلق فیصلوں نے ممکنہ بحران کو ٹال دیا۔ حکومت کو عوام کی تکلیف کا مکمل احساس ہے، لیکن متبادل صورت حال یعنی اگر قیمتیں نہ بڑھائی جاتیں تو بدانتظامی اورپٹرول کی قلت کی شکل میں سامنے آ سکتی تھی۔ اس لئے قیمتوں میں اضافہ بروقت اور ضروری فیصلہ تھا۔
نمبر چار: حکومت نے صرف عوام پر بھی بوجھ نہیں ڈالا بلکہ اپنے  اخراجات کم کرنے اور سرکاری مراعات میں شفافیت لانے کے موقع کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے کفایت شعاری اور وسائل کے تحفظ کی ایک بڑی مہم شروع کی۔ اس کے اثرات پر شکوک اپنی جگہ موجود ہیں لیکن اگر اللہ نے چاہا تو اس کے کچھ اقدامات مستقبل میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔اقدامات میں نتیجے میں مفت سرکاری پٹرول کی کھپت نصف سے بھی کم ہوچکی ہے۔ نمبر پانچ: ایران کی قیادت پاکستان کے مستقل، متوازن اور استحکام پر مبنی مؤقف سے متاثر ہے اور اقوا م متحدہ میں پاکستان کے تشکر کی صورت میں اس کااظہار بھی ایران کرچکا ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کی طرف سے حملوں کی واضح مذمت، نئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے لئے تعزیتی اور مبارکبادی پیغام، نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان مسلسل رابطے اہم پیش رفت تھے۔ پھر منگل کی رات ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر اعظم کے درمیان ایک گھنٹے سے زیادہ طویل گفتگو ہوئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صدر پزشکیان نے اسی عرصے میں صرف روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بات کی تھی۔ نمبر چھ:سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ ایک قابل اعتماد ستون ہے۔ فیلڈ مارشل اور شہزادہ خالد بن سلمان کی ملاقات اس تعاون کی ابتدا تھی۔ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے مسلسل رابطہ رکھا۔اس کے بعد جمعرات کو وزیر اعظم شہبازشریف اور محمد بن سلمان کی ملاقات پاکستان کے اس واضح مؤقف کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھا جائے اور سعودی عرب کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔اس ملاقات میں فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کا نہ صرف موجود ہونا بلکہ کمبیٹ ڈریس میں موجود ہونا ایک واضح عزم تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور اگر اس صورتحال میں سعودی پر حملہ ہوا تو پاکستان اس کو اپنے اوپر حملہ سمجھے گا اور حرمین کے دفاع کے لیے کسی قسم کی سوچ بچا ر کے بجائے فوری اقدامات کرے گا۔ نمبر سات: اس تمام عرصے میں پاکستان افغانستان میں بھارت کے حمایت یافتہ عناصر کے خلاف ایک مؤثر اور محدود نوعیت کی عسکری کارروائی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان عناصر میں ایسے گروہ بھی شامل ہیں جنہوں نے افغانستان کیلئے امن اور خوشحالی کے تاریخی موقع کو ضائع کیا۔موجودہ حالات میں پاکستان کی قیادت نے جس ثابت قدمی اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ کسی بھی ملک کے لئے غیر معمولی سمجھا جائے گا۔اگر آپ پاکستانی ہیں تو اس پر فخر کرسکتے ہیں۔

مزیدخبریں