بھارت یہ گمان کرتا ہے کہ وہ اپنے حلیف افغانستان کے ساتھ مل کر بلوچستان میں اپنی پراکسی دہشت گردتنظیموں خصوصاً بی ایل اے،بی ایل ایف کے ذریعے حملے کرکے پاکستان کے استحکام کو کمزور کر دے گا،مگر یہ اس کی خام خیالی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ہر موقع پرفتنہ الہندوستان کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیاہے۔اس نام نہاد آزادی کی جنگ میں سرمچاری کا دعویٰ کرنے والے مسلح دہشت گردوں کا ہمیشہ سے نشانہ عام بلوچ شہری ،غیر مقامی افراد خصوصاً پنجابی مزدور اورسکیورٹی فورسز کے اہلکار بنتے رہے ہیں۔ ان عناصر نے کبھی بلوچ عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ بے گناہ بلوچوں کی جان ومال کو نقصان پہنچایا ہے ۔اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے ۔ پوری قوم فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف بنیان مرصوص بن کرکھڑی ہو چکی ہے۔ بلوچستان کے عوام بھی کھل کر فورسزکے ساتھ تعاون کر رہے ہیں کیونکہ انہیں بخوبی احساس ہوچکا ہے کہ یہ عناصرنہ صرف امن کے دشمن ہیں بلکہ بلوچ معاشرے کی بنیادی اقدار اور روایات کے بھی مخالف ہیں۔ان دہشت گردوں سے نہ ہماری عبادت گاہیں محفوظ ہیں اورنہ تعلیمی ادارے اور نہ ہی عام بلوچ شہری۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں خدمات سرانجام دینے والوں کونسلی اورلسانی بنیادوں پرظالمانہ طریقے سے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارت اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطے اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہے،بھارت ان تنظیموں کومالی مددکے ساتھ ساتھ تربیت اوراسلحہ بھی فراہم رہاہے۔بلوچستان میں ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات ہوں یا اسلام آبادمیں ہونیوالاخودکش حملہ،یہ تمام کارروائیاں بھارت اورافغانستان سے کنٹرول ہورہی ہیں۔بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور افغانستان کی طالبان حکومت دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہیں۔افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں،جہاں بی ایل اے،بی ایل ایف کے دہشت گردوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بھارت نے دہشت گردی کے لیے اپنے فنڈ میں کئی گنااضافہ کر دیا ہے۔ اس کامقصد ایک ہی ہے کہ پاکستان کوعدم استحکام اورانتشار کاشکار کیا جائے۔ بھارت جنگ کے میدان میں تو پاکستان کامقابلہ نہیں کر سکا، اب اس نے دہشت گردی کو اپنی ریاستی پالیسی بنالیا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر پراکسی وار مسلط کی گئی ہے۔ صرف پاکستان ہی بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار نہیں بلکہ بھارتی دہشت گردی بنگلہ دیش اور کینیڈاسے ہوتی ہوئی پوری دنیامیں پھیل چکی ہے۔ عالمی برادری کویہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا کی جنگ لڑ رہا ہے اور قربانیاں دے رہا ہے۔ اگردہشت گردوں کا خاتمہ نہ کیا گیا توخدشہ ہے کہ پھرکوئی سانحہ نہ پیش آجائے، جوپوری دنیا کوہلا کررکھ دے گا۔ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں، دہشت گردی کے واقعات میں اب تک ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہوچکے ہیں۔جتنی قربانیاں پاکستانی قوم اورپاکستانی فورسزنے دی ہیں اس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔بلوچستان میں ہونیوالی دہشت گردی کے پیچھے عالمی سازشوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے وسیع، وسائل سے مالا مال اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل صوبہ ہے۔ بہت سوں کی نظریں بلوچستان کے معدنی وسائل پر ہیں۔ آج دنیا کو سونا، تانبہ اور دیگر قیمتی معدنیات کی ضرورت ہے۔ پاک چین دوستی اور سی پیک منصوبے بھی فتنہ الہندوستان کوایک آنکھ نہیں بھاتے۔ کالعدم تنظیمیں بخوبی جانتی ہیں کہ بلوچستان ترقی کرے گاتوان کی محرومی کا بیانیہ کون سنے گا؟۔ پاک چین اقتصادی راہداری دراصل پاکستان کی معاشی بحالی اور بلوچستان کی ترقی کی بنیاد ہے۔ گوادر بندرگاہ، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، شاہراہیں، توانائی منصوبے اور صنعتی زونز اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علیحدگی پسند تنظیموں نے ابتدا ہی سے ان منصوبوں کو اپنے حملوں کا مرکزی ہدف بنایا۔ چینی انجینئرز، سکیورٹی فورسز، تعمیراتی مقامات اور حساس تنصیبات پر حملے اس سازش کا حصہ ہیں تاکہ خوف و ہراس پھیلا کر غیر ملکی سرمایہ کاری کو روکا جا سکے۔ سکیورٹی فورسز نے ان گروہوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے ان کے نیٹ ورک، قیادت اور سہولت کاروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کئی بڑے حملے بروقت کارروائی کے نتیجے میں ناکام بنائے گئے جبکہ متعدد خودکش حملہ آور اور کمانڈر واصل جہنم کیے گئے۔فتنہ الہندوستان عوامی حمایت سے بالکل محروم ہے اور ہندو بھگوانوںکی فنڈنگ کی محتاج ہے۔ بھارت سازشوں اورکوششوں کے باوجود،گوادر ایئرپورٹ، بندرگاہ اور سی پیک کے دیگر منصوبوں کونہ رکوا سکا،ہماری مربوط سکیورٹی حکمت عملی نے ان حساس تنصیبات کو محفوظ بنایا ہے۔ پاک فوج، ایف سی بلوچستان (سائوتھ) قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سول انتظامیہ کے مشترکہ اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی میں واضح کمی آئی ہے بلکہ کئی شدت پسند گروہ ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل بھی ہوئے ہیں۔ یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ تشدد کا راستہ بند گلی ہے جبکہ مفاہمت اور ترقی ہی بلوچستان کا مستقبل ہے۔ سی پیک اور گوادر جیسے منصوبے بلوچ عوام کے لیے مواقع کی چابی ہیں۔ علیحدگی پسند تنظیمیں جتنا بھی تشدد کر لیں، وہ اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ بلوچستان پاکستان ہے اوریہاں کے عوام امن، استحکام اور خوشحالی کے سفر میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ فتنہ الہندوستان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بلوچستان کے عوام کا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ آج بلوچ نوجوان ملک بھرمیں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ فوج، سول سروس، پولیس، تعلیم، صحت، میڈیا اور کاروبارسمیت ہر شعبے میں بلوچ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ بلوچ صرف بلوچستان تک محدود نہیں، کراچی سے لاہور، اسلام آباد سے پشاور تک بلوچ خاندان آباد ہیں، کاروبار کر رہے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ بلوچ ثقافت، مہمان نوازی اور روایات کو پورے پاکستان میں احترام اور محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بلوچ کلچر پاکستانی شناخت کا ایک خوبصورت اور مضبوط رنگ ہے۔ بلوچستان میں شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں نے عوام کی زندگیوں پر بے حد مثبت اثر ڈالا ہے۔ سڑکیں، تعلیمی ادارے، اسکالرشپس، روزگار کے مواقع اور سیکیورٹی کی بہتری نے عام بلوچ کے لیے فیصلہ آسان کر دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہی بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ آج بلوچستان میں بھارت کا علیحدگی پسند بیانیہ بری طرح شکست کھا چکا ہے۔ بلوچستان کے عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امن، استحکام اور ترقی کے راستے پر گامزن رہنا چاہتے ہیں۔ بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ ہیں اور پاکستان بلوچ عوام کے ساتھ ہے۔ یہی اتحاد دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنانے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔
’’بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی ذلت آمیز شکست‘‘
09:08 AM, 16 Mar, 2026