11مارچ کو کوئٹہ سے پشاور آنے والی جعفر ایکسپریس کو ایک ٹنل میں روک کر اس کے 440مسافروں کو یر غمال بنا لیا گیا ۔ اسے روکنے کے لئے ریلوے ٹریک کو بم کو اڑا دیا گیا ۔آپریشن کی تکمیل پر 33دہشتگرد ہلاک جبکہ 21مسافر اور 4ایف سی اہلکار شہید ہوئے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اور جاپان کے حکام کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے اور امریکی فتح کے نشے میں چور جاپانیوں کو کہہ رہے تھے کہ جاپان کے خارجہ معاملات ہم طے کریں گے جاپانیوں نے کہا کہ منظور ہے ۔ امریکیوں نے کہا کہ داخلہ کے امور ہم دیکھیں گے جاپان نے کہا کہ تسلیم ہے ۔ امریکہ نے کہا خزانہ کو ہم دیکھیں گے تو جاپانیوں نے کہا کہ مانتے ہیں لیکن جب امریکہ نے کہا کہ تعلیمی نصاب بھی ہم بنائیں گے تو جاپان نے کہا کہ یہ منظور نہیں ہے اور جب امریکیوں کا اصرار بڑھا توجاپانیوں نے کہا کہ آﺅ ایک بار پھر جنگ کر لیتے ہیں ۔ دہشت گردی میں پاکستان کے 80ہزار سے زائد بے گناہ شہری جن میں ایک بڑی تعداد سکیورٹی اہلکاروں کی بھی ہے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور ٹریلین آف ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے لیکن اتنے بڑے نقصان کے بعد ہمیں بحیثیت قوم اور بحیثیت ریاست جس سختی بلکہ بے رحمی کی حد تک ان دہشت گردوں کے خلاف میدان میں اترنا چاہئے تھا وہ کام نہیں ہو سکا اور ہم اب بھی بہتری کی گنجائش کی امید میں نرمی برت رہے ہیں ۔ اس کی ایک بڑی مثال کہ ایک طرف ہم یہ کہتے ہیں کہ افغانستان کی سر زمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو اگر ایسا ہی ہے تو پھر وہ کون سی پالیسی تھی کہ جنرل فیض وہاں جا کر محبت کے زمزمے بہاتے ہوئے چائے کا کپ پی کر پوری دنیا کو پتا نہیں کیا پیغام دینا چاہتے تھے ۔ ایک جانب ہماری طرف سے ہر بار در گزر ، نرمی اورچشم پوشی برتی گئی لیکن دوسری جانب سے انتہائی سفاکیت کے مظاہرے کئے گئے حتیٰ کہ پشاور میں معصوم بچوں تک کو نشانہ بنایا گیا اور سیکڑوں مائیں آج بھی اپنے جگر گوشوں کو یاد کر کے روتی ہیں ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر قسم کی نرمی اور در گزر کی پالیسی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسلام دشمن اور وطن دشمن ان انسانیت کے دشمنوں کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائے ۔
کچھ لوگ انھیںان پڑھ جاہل سمجھتے ہیں انھیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ ان دہشت گردوں کے ہینڈلر کس قدر ایڈوانس سوچ رکھتے ہیں کہ انھوںنے ٹرین کو ایک ٹنل میں روکا ہے کہ ٹنل میں ہونے کی وجہ چاروں اطراف نہ صرف یہ کہ اندھیرا ہوتا ہے بلکہ اطراف میںSpaceاتنی کم ہوتی ہے کہ وہاں پر آزادانہ نقل و حرکت بھی مشکل ہو جاتی ہے تو ان دونوں صورتوں میں کسی بھی قسم کا آپریشن مشکل ہو جاتا ہے اور پھر وہاں تک رسائی میں کافی مشکل ہوتی ہے ۔ جب دہشت گردی کی یہ کارروائی ہوئی تو جتنی بھی محب وطن قوتیں تھیں وہ اس پر افسردہ ہوئیں لیکن کچھ ملک دشمن قوتوں نے اس پر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنا شروع کر دیئے اور ان کے اور انڈین کے ایک ہی طرح کے تبصرے ہونا شروع ہو گئے ۔ بانی پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاﺅنٹ سے چند گھنٹے بعد رات دس بجے ٹویٹ کیا گیا کہ اگر نمائندہ حکومت ہوتی تو یہ نہ ہوتا تو انھیں یاد کرائیں کہ ان کے دور میں جب شدید سردی کے موسم میں ہزارہ برادری کے لوگ اپنے سو سے زائد شہداءکی میتیں سڑک پر لے کر بیٹھی تھی تو خان صاحب نے کہا تھا کہ میں ان سے بلیک میل نہیں ہوں گا اور انہی کے دور میں یہی بی ایل اے والے تھے کہ جنھوں نے چینی ایمبیسی پر حملہ کیا تھا اور پھر خیبر پختون خوا میں تو ان کی اپنی حکومت ہے اور سب سے زیادہ اس وقت دہشت گردی کا شکار بھی یہی صوبہ ہے تو وہاں کی حکومت اس کو روکنے میں اب تک کامیاب کیوں نہیں ہو سکی ۔ کم از کم مشکل کی اس گھڑی میں تو سیاست سے گریز کیا جاتا لیکن نہیں 26نومبر کو اسلام آباد پر چڑھائی کے منصوبے کی ناکامی کے بعد لاشوں کا جو بیانیہ بنایا گیا تھا اس میں تو مکمل ناکامی اس وجہ سے ہو گئی کہ لاشوں کی سیاست کے لئے لاشوں کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن یہاں پر صورت حال چونکہ مختلف تھی اس لئے دھڑا دھڑ جعلی وڈیوز اور فیک نیوز کے ذریعے افراتفری کاماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ ہماری مسلح افواج کے جانثاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر انتہائی مشکل صورت حال میں کامیاب آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کے گھناﺅنے عزائم کو ناکام بنا دیا ۔
ایک بات بڑی اہم بھی ہے اور الارمنگ بھی ہے کہ اس وقت جبکہ دو چھوٹے صوبے خیبر پختون خوا اور بلوچستان بری طرح دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں تو عقل کے اندھے کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ اس کے تدارک کے لئے ایک مضبوط فوج کا ہونا ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے دو کام ایک ساتھ شروع ہوئے ایک تو وہ دہشت گردی کہ جس کا سر بڑی حد تک کچل دیا گیا تھا اس نے ایک دم سر اٹھانا شروع کر دیا اور دوسرا اس کے ساتھ ہی افواج پاکستان کے خلاف انتہائی زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے عوام اور افواج پاکستان میں خلیج پیدا کرنے کی ناکام کوششیں شروع ہو گئیں ۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں اور کون سی سیاسی قوتوں کے عزائم ایک جیسے ہیںاور کیوں ملکی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بار بار افواج پاکستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ جس کے لئے بیرون ملک بیٹھے ہوئے سیاسی جماعت کے آلہ کار سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کا مناسب جواب نہیں دیا جا سکا ۔ جو ہتھیار ملک و قوم کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے ہی کالم کے شروع میں دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا اور جاپان کے مذاکرات کی بات قارئین کی نذر کی تھی کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بھی کریں اور ضرور کریں لیکن ساتھ میں ایک مرتبہ ضیاءدور کا جہادی نصاب بھی بدل کر دیکھ لیں شاید کچھ بہتری کی صورت نکل آئے ۔
دہشت گردی اور ملک دشمنی
03:41 PM, 16 Mar, 2025