بجٹ کے دُکھ سُکھ

09:10 AM, 16 Jun, 2026

پہلے لوگ بجٹ کا شدت سے انتظار کرتے تھے، دکانوں پر ٹی وی لگے ہوتے تھے جہاں بیشمار لوگ بجٹ تقریر سُننے اکٹھے ہو جاتے تھے، اُنہیں یہ اُمید ہوتی تھی حکومت بجٹ میں عوام کو کئی طرح کے ریلیف دے کر اپنا شکرگزار ہونے کا موقع فراہم کرے گی، یہ وہ زمانہ تھا جب ووٹ کی کچھ نہ کچھ اہمیت ابھی قائم تھی، سیاسی حکمرانوں کو پتہ ہوتا تھا انتخابات میں اپنی کچھ نہ کچھ جیت کا بندوبست اُنہوں نے خود بھی کرنا ہے، اب چونکہ سارے بندوبست کسی اور نے کرنا ہوتے ہیں لہٰذا ہمارے حکمران اپنے عوام کو بجٹ میں کوئی ریلیف دیں نہ دیں اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، عوام کو بھی ویسے کوئی نہیں پڑتا، ہر کوئی اپنی ”دو نمبریوں“ کو مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کر لیتا ہے، بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف دیا بھی جائے وہ اُونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہوتا ہے، پر ہمیں ہر حال میں اپنی سرکار یا حکمرانوں کا شکر ہی ادا کرنا ہے، ظاہر ہے ہم جب اپنے حکمرانوں اور اُن کے مالکوں کی کچھ ناجائز پالیسیوں کے خلاف کچھ بول ہی نہیں سکتے پھر اُن کا شُکر ادا کرنا ہی بنتا ہے، ابھی تو ہم اس بات پر خوش ہیں جو شکر ہم نے اللہ کے ادا کرنا ہوتے ہیں سرکار نے کہیں اُن پر بھی پابندی نہیں لگا دی کہ وہ شکر بھی آپ نے ہمارے ادا کرنا ہیں، اللہ کو آپ کے شکریے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ہمارے لئے شُکر کا ایک مقام یہ بھی ہے سرکار نے بجٹ میں اپنے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں مزید اضافہ نہیں کیا جس کی اچھی خاصی اُمید تھی، دوسرا شُکر کا مقام یہ ہے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فی صد اضافہ کر دیا گیا ہے، یہ سات فی صد اضافہ بھی سرکار اگر نہ کرتی سرکاری ملازمین نے اُس کا کیا اُکھاڑ یا بگاڑ لینا تھا؟ کچھ سرکاری ملازمین نے اپنی تنخواہوں میں بہت ہی کم اضافے پر اپنے طے شدہ فارمولے کے مطابق دو چار مقامات پر ہلکے پھلکے اجتجاج کیے جس سے ظاہر ہے سرکار کو کوئی فرق نہیں پڑنا، بلکہ ممکن ہے بہت تھوڑی تعداد سرکاری ملازمین کے احتجاج کا بندوبست سرکار نے خود ہی کرا لیا ہو تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین نے سات فی صد اضافے کو دل و جان سے قبول کر لیا ہے، پاکستان میں کیا کیا کھیل تماشے نہیں ہوتے؟ ایک بار ایک طاقتور شخصیت نے مجھ سے کہا ”آپ کو اگر بہادر بننے کا اتنا ہی شوق ہے آپ ہماری مرضی کے بہادر بن جائیں، ہم آپ کو بتائیں گے آپ نے ہمارے خلاف کیا لکھنا ہے اور کب لکھنا ہے؟ آپ کی برادری کے اسی فی صد لوگ ہماری مرضی کے بہادر ہیں“۔ یہ بات کچھ کچھ مجھے پہلے سے معلوم تھی مگر اُس روز اس کی تفصیلات جان کر حیرت ہوئی، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ شاید اس لیے بھی نہ کیا گیا ہو جب سرکاری ملازمین کو ناجائز کمائی سے روکا ہی نہیں جاتا پھر اُن کی تنخواہوں میں اضافے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بیشمار سرکاری ملازمین وقتاً فوقتاً اپنی ناجائز کمائی میں اضافہ کر کے اپنی کم تنخواہ کی پروا ہی نہیں کرتے، مگر جو بیشمار ایماندار ہیں جو حرام نہیں کھاتے، جن کے منہ کو سور نہیں لگے ہوئے اُن کے لئے کم تنخواہ انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے، حکومتوں کو اُن کی تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی و حالات کے مطابق کرنا چاہیے تاکہ سرکاری محکموں میں کرپشن کی حوصلہ شکنی ہو، خبر کے مطابق بجٹ میں ایوان صدر کے لیے دو ارب اسی کروڑ جبکہ وزیراعظم آفس کے لیے بانوے کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، یہ بھی ہم عوام یعنی ہم بھیڑ بکریوںیا کیڑے مکوڑوں کے لیے شکر کا مقام ہے کہ ان بے اختیار ایوانوں کے لیے صرف تین چار ارب روپے ہی رکھے گئے ہیں، تین چار سو ارب روپے بھی رکھ دئیے جاتے ہم نے کسی کا کیا بگاڑ یا اُکھاڑ لینا تھا؟ پاکستان میں منہ کھولنے کی اجازت اب صرف ڈینٹسٹ کے پاس جا کر ہی ملتی ہے، ”سرکاری تاجروں“ نے حسب معمول بجٹ کو بہترین بجٹ قرار دیا جبکہ ”غیر سرکاری تاجروں“ کا کوئی موقف ابھی تک سامنے نہیں آیا جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے اب سارے تاجر سرکاری ہیں، ہمارے حکمرانوں کو چاہیے ان سرکاری تاجروں میں سے کچھ تاجروں کو الگ کر کے اُن سے ایک آدھ بیان بجٹ کے خلاف دلوا دیں تاکہ سند رہے ”تاجروں کو سرکار کی کچھ معاشی پالیسیوں سے اختلاف کی کُھلی چھٹی ہے“۔ معاملات کو بیلنس رکھنے کے لیے جہاں دیگر بیشمار کھیل تماشے ہوتے ہیں وہاں ایک آدھ مزید کر لیا جائے کیا فرق پڑتا ہے؟ ”عزتیں“ ایسے ہی تو نہیں بنتیں؟، سرکاری تاجروں کے مطابق ”حالیہ بجٹ سے مُلک کی معاشی پالیسیوں میں استحکام آئے گا، مُلک ترقی کرے گا“۔ اکثر سرکاری تاجر ایسے بیانات بجٹ سے پہلے ہی تیار کر کے اپنے پیاروں کے سپرد کر دیتے ہیں تاکہ وہ بوقت ضرورت استعمال کر سکیں، اسی طرح قومی اسمبلی میں ہماری اپوزیشن بجٹ کے موقع پر اپنے روایتی شور شرابے کی منظوری سرکار سے شاید پہلے ہی حاصل کر لیتی ہے، اس بار بھی ”سرکاری اپوزیشن“ نے ہومیوپیتھک سا احتجاج کیا پھر میدان چھوڑ کر بھاگ گئی کہ کہیں بجٹ کی خرابیوں پر تفصیلی بات کرنے کی نوبت ہی نہ باجے، پی ٹی آئی کو حقیقی اپوزیشن سمجھا جاتا ہے، بس سمجھا ہی جاتا ہے، یہ اگر حقیقی اپوزیشن ہوتی اُن کا لیڈر کب کا جیل سے باہر ہوتا، عمران خان کے جیل میں ہونے کا فائدہ پی ٹی آئی کے کچھ راہنماو¿ں نے اتنا اُٹھایا اب کچھ اور اُٹھانے کی وہ ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، ایک کام سرکار نے اچھا کیا، بجٹ میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس آدھا کر دیا، اس سے پراپرٹی کو مزید بُوسٹ ملے گا جو دبئی کے حالات کی وجہ سے پہلے ہی کچھ نہ کچھ ملا ہے، اس کے ساتھ اگر سرکار اینٹوں، سیمنٹ اور سریے وغیرہ کی قیمتیں بھی کم کر دیتی تعمیراتی شعبے کی ترقی سنبھالی نہیں جانا تھی، زراعت کو بہت کم ریلیف دیا گیا ہے، یہ زیادتی ہے، تعلیم اور صحت کے شعبوں کا جتنا بجٹ بڑھنا چاہیے تھا نہیں بڑھا، دفاعی بجٹ بڑھا کر سیاسی حکومتیں اپنے ”دفاع“ کا جو بندوبست کرتی ہیں اُس پر اعتراض کرنے کا کسی کو کوئی حق حاصل نہیں ہے، البتہ وفاقی وزیر برائے ”ذاتی دفاع“ خواجہ آصف کو یہ پتہ ہونا چاہیے اس بار دفاعی بجٹ میں کتنا اضافہ ہوا؟ کیونکہ سرراہ یا کسی تقریب میں یہ سوال اُن سے کسی نے اگر پوچھ لیا وہ حسب معمول آئیں بائیں شائیں کر کے معاملہ رفع دفع کرنے کی پوزیشن میں شاید نہیں ہوں گے۔

مزیدخبریں