جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی انتشاری سیاست

09:08 AM, 16 Jun, 2026


کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر کے حالات خراب کرنے کی ہر ممکن سازش کی ہے۔ امن کو سبوتاژ کرنے کے حربے سب نے دیکھ لیے۔ ثابت ہوا کہ اس ٹولے کا ایجنڈا کشمیر کے عوام کے مشن کو نقصان پہنچاتے ہوئے سالمیت سے چھیڑ چھاڑ تھا۔ ایکشن کمیٹی کے ایک کارکن نے گروپ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ علیحدگی پسند کارکن نے پُرتشدد واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ یہ تحریک، جو ابتدا میں بنیادی حقوق کے حصول کے نام پر شروع ہوئی تھی، اب پرتشدد سرگرمیوں کی طرف بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی پُرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ کالعدم تنظیم کی کال پر پُرتشدد مظاہروں کا حصہ نہ بنیں۔ اسی طرح دیگر مکاتب فکر کی طرح وکلا برادری نے بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پُرتشدد احتجاج کو غلط قرار دیدیا۔ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ آفتاب احمد ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ریاست کا امن تباہ کرنے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کرنا چاہیے۔ مسلح حملوں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور انسانی جانوں کے ضیاع میں ملوث افراد کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہو گا، راجہ آفتاب احمد ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ایسے افراد کو آزاد کشمیر کی عدالتوں میں قانونی معاونت فراہم کرے گی، بشرطیکہ وہ خود کو قانون کے حوالے کریں۔ ریاست کے خلاف برسرِ پیکار اور ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے والے عناصر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند سنگین جرم کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مذکورہ عمل سنگین جرم ہے جو غداری کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا بیان عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پُرتشدد احتجاج کو مسترد کرتا ہے۔ وکلا کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کے عمل کو بغاوت کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ عناصر غلط راہ پر گامزن ہیں۔ آزاد کشمیر کے عام آدمی کی بات کریں تو مختلف مکتبہ فکر کے شہریوں نے بھی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایجنڈے کو مسترد کر دیا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ حقوق کی آڑ میں انتشار پھیلانے والے عناصر کی غیر قانونی سرگرمیوں سے سب سے زیادہ نقصان غریب دیہاڑی دار طبقے کو پہنچ رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے تاجروں، طلبہ، مزدوروں اور عام شہریوں نے کمیٹی کی حالیہ سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی اب حقوق کی تحریک کے بجائے انتشار پسندی اور لاقانونیت کی علامت بن چکی ہے۔ تاجر برادری کے مطابق کمیٹی کی جانب سے زبردستی بازار بند کرانے کی دھمکیوں اور ہڑتالوں نے عام شہریوں اور کاروباری طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ شہریوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرنے والوں نے خود ہی غریبوں کا معاشی قتل عام شروع کر رکھا ہے۔ اس غیر ذمہ دارانہ احتجاج اور شر انگیز ایجنڈے کی وجہ سے ریڑھی بانوں، چھوٹے دکانداروں اور روزانہ کمانے والے مزدوروں کا چولہا ٹھنڈا ہو رہا ہے، جس سے ان کا اصل چہرہ سب کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ آزادکشمیر کے غیور عوام نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و امان کی بحالی اور یکجہتی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ شہریوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ امن کو تہہ و بالا کرنے والے ان شرپسند عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے ان غیر قانونی سرگرمیوں کی کھلی مذمت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کشمیری عوام ریاست کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور کسی کو بھی خطے کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے ایکشن کمیٹی کے روپ میں انتشاری ٹولے کیخلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ضلع انتظامیہ اور پولیس نے کالعدم انتشاری کمیٹی جے اے اے سی کے مرکزی دفتر کو ریاست مخالف سرگرمیوں پر سیل کر دیا۔ پولیس کی طرف سے تلاشی کے دوران ایک سب مشین گن، ایک بارہ بور رائفل اور ایک پستول بھی برآمد ہوا۔ چھاپے کے دوران مرکزی دفتر کے باہر عوام کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باوجود کوئی احتجاج یا نعرہ بازی دیکھنے میں نہ آئی۔ چھاپے میں اسلحہ برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ٹولہ نام نہاد عوامی حقوق کی آڑ میں انتشار پھیلانے کے درپے ہیں۔ ریاستی رٹ کے نفاذ، قانون کی حکمرانی اورعوامی نظم و ضبط کے تحفظ کے لیے ایسی قانونی کارروائیاں ناگزیر ہوتی ہیں۔

مزیدخبریں