لاہور : پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے مالی سال 2025-26 کے لیے 5335 ارب روپے کے بجٹ کا اعلان پنجاب اسمبلی میں کر دیا۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کابینہ اجلاس میں بجٹ کی منظوری دی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ "پائی پائی عوام کی امانت ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں۔"
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ یہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ ہے، جس میں ٹیکس کا کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کا ترقیاتی بجٹ بھی ایک ریکارڈ تھا اور اس بار ہم اپنے ہی ریکارڈ توڑنے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 700 نئی سڑکوں کی تعمیر اور 12 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی بہتری جیسے منصوبے اس بجٹ کا حصہ ہیں۔ ہیلتھ اور ایجوکیشن میں غیر معمولی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، اور پہلی بار 94 نئے پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب صوبے کے ہر کونے میں مفت ادویات دستیاب ہوں گی اور اسکولوں میں تمام ضروری سہولیات مہیا کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 40 سال میں جو 40 ہزار گھر نہیں بن سکے، وہ ہم اب بنا رہے ہیں۔ "ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط بھی پوری کیں اور 740 ارب روپے سرپلس بجٹ پیش کیا۔" مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ایمرجنسی بنیادوں پر عوامی خدمت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ادھر سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ترقیاتی پروگرام میں 47 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ حکومتی اخراجات میں صرف 3 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک بجٹ ختم کر دیا گیا ہے اور سود کی ادائیگیوں میں 30 فیصد کمی لائی گئی ہے۔