تہران : ایران نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ ایجنٹ کو پھانسی دے دی ہے۔ ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ اس شخص پر سنگین الزامات تھے، جن میں ملک میں بدامنی پھیلانا اور خدا کے خلاف جنگ (محاربہ) شامل تھے۔
اس ایجنٹ کا نام اسماعیل فکری بتایا گیا ہے، جسے 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالتی کارروائی مکمل ہونے اور سپریم کورٹ کی جانب سے اپیل مسترد کیے جانے کے بعد اسے سزائے موت دی گئی۔ البتہ اس کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، فکری ایران کے حساس مقامات سے متعلق معلومات موساد کو فراہم کرتا رہا، اور اس کی سرگرمیاں ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی تھیں۔
یہ پھانسی ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران میں حالیہ دنوں کے دوران ایٹمی سائنسدانوں، فوجی افسران اور میزائل تنصیبات پر حملے ہوئے ہیں۔ ایران کا الزام ہے کہ ان حملوں میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ملوث ہے۔
ادھر، ایرانی پولیس نے جنوبی تہران میں موساد کی ایک تین منزلہ خفیہ ورکشاپ کا بھی سراغ لگایا ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں بارودی مواد، ڈرونز اور دیگر حساس آلات برآمد کیے گئے ہیں۔ اس کارروائی میں مزید دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر موساد سے تعلق کا شبہ ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، وہ ملک کے اندر دشمن ایجنسیوں کی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھیں گے۔