ملکی معیشت میں زراعت کو ریڑھ کی ہڈی کا درجہ دیا جاتا ہے لیکن دہائیوں سے ناقص حکومتی پالیسیوں نے زراعت اور کسان کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ زراعت پر جہاں 60 فیصد آبادی کا براہ راست انحصار ہے وہیں پر ایگرو بیسڈ بڑی بڑی صنعتوں کا دارومدار بھی زرعی شعبہ پر ہے۔ زراعت جی ڈی پی کا 20 فیصد ہے جبکہ 38 فیصد لیبر فورس اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں یہ شعبہ زوال کا شکار ہو رہا ہے اور اس سے وابستہ کسان بھی معاشی طور پر تباہ ہو رہے ہیں۔ حالیہ بجٹ میں بھی زراعت اور کسان کے مسائل کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ حکمرانوں کی بے فکری سمجھ سے بالاتر ہے۔ شوگر ملز مالکان سب سے زیادہ یہی سیاستدان ہیں اور انہی کو مسائل کا ادراک نہیں۔ حالانکہ زرعی پیداوار میں کمی سے صنعتوں کی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے۔ زرعی شعبہ ٹیکسٹائل، چمڑے، چاول کی پروسیسنگ، خوردنی تیل اور فوڈ پروسیسنگ کو خام مال مہیا کرتا ہے۔ ایک طرف موسمیاتی تبدیلیاں زرعی پیداوار پر اثرانداز ہورہی ہیں تو دوسری جانب حکومتی اقدامات اور زرعی شعبے میں بیجوں کی مختلف اقسام کی ریسرچ میں عدم توجہی فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے۔حکومتی پالیسیوں کے باعث پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اس پر ستم ظریفی یہ کہ فصلوں کی قیمتوں میں بڑی کمی نے کسان کی کمر توڑدی ہے۔منافع تو دور کی بات، کسان کو تو لاگت بھی واپس نہیں مل رہی۔حکومتی زرعی پالیسی کے منفی اثرات اقتصادی سروے میں سامنے آ چکے ہیں۔ اہم فصلوں کی پیداوار میں 13.49فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ کپاس30،گندم 8.9،گنے کی پیداوارمیں 3.9فیصد کمی ہوئی،مکئی 15.4،چاول کی پیداوار میں 1.4فیصد کمی ہوئی ہے مگر حکمرانوں کو کوئی فکر نہیں۔ عمران خان کے دور حکومت میں زراعت کے شعبے کی گروتھ 6.25 فیصد تھی جو اب سکڑ کر 0.56 فیصد پر آ چکی ہے۔ اتحادی حکومت قوم کا چولہا جلانے کے نعرے مار کر آئی تھی اور اب حالات یہ ہیں کہ پاکستان کی 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق تو تقریباً آدھی آبادی غربت کا شکار ہے۔ ظاہر ہے جب 60 فیصد آبادی جس کا رزق زرعی شعبے سے منسلک ہے وہ رل رہی ہے تو شہروں میں کیا حالت ہو گی۔ اہم فصلوں کی پیداوار میں بڑی کمی کے بعد فوڈ سیکیورٹی کے بحران کا بھی خدشہ ہے۔ اس بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت قومی خزانے سے پھر بے دریغ اربوں ڈالرز کی اجناس کی درآمدات کرے گی۔ اپنے کسانوں کو اجناس کی بہتر قیمت نہیں دیں گے مگر دیگر ممالک کے کسانوں کو فائدہ ضرور پہنچائیں گے۔ مالی سال 2024-25 کے پہلے 10 ماہ میں صرف فوڈ امپورٹ بل 7 ارب ڈالرز سے زائد تھا جبکہ تجارتی خسارہ 28 ارب ڈالرز سے زائد۔ حساب لگا لیں کہ صرف 10 ماہ میں سویا بین آئل، دالیں، شوگر اور چائے وغیرہ پر پاکستان نے 7 ارب ڈالر پھونک ڈالے۔ چینی، گندم اور دالیں ایک زرعی ملک امپورٹ کر رہا ہے۔ گزشتہ برس گندم کی فصل پک کر تیار کھڑی تھی کہ حکومت نے یوکرین سے کیڑا لگی گندم اربوں روپے میں خرید کر اپنے کسانوں کی پیٹھ پر خنجر گھونپ دیا۔ اربوں روپے کے اسکینڈل پر بھی مٹی ڈال دی گئی۔ نواز شریف کے تیسرے دور اقتدار میں بھی یوکرین سے269 ڈالر فی ٹن کے حساب سے 185 ملین ڈالرز کی 686,852 ٹن گندم خریدی گئی۔ یہ بھی ایک بڑا اسکینڈل تھا جس پر خاموشی ہی رہی۔ گزشتہ برس یوکرین سے درآمد کی گئی گندم کی وجہ سے چار ہزار فی من گندم کی امدادی قیمت کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ حکومت پنجاب نے کسانوں کو کورا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کے پاس لاکھوں ٹن امپورٹڈ گندم موجود ہے اور حکومت پہلے ہی اس سلسلے میں ساڑھے تین سو ارب کی مقروض ہے۔ پنجاب حکومت نے تو کسانوں سے گندم خریدنے سے ہی انکار کر دیا۔ گندم کے لیے ایک پرکشش کم از کم امدادی قیمت
کے اعلان کے بعد کسانوں کو دی گئی حمایت واپس لے لی۔ جس کے بعد کسانوں کو منڈی کے آڑھتیوں اور غیر منظم قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔کسان گندم دو ہزار روپے پر بیچنے پر مجبور ہوا۔بعد میں وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے تحت اجناس کی منڈی میں مداخلت ختم کرنے اور کم از کم امدادی قیمتیں نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ زرعی شعبہ کی بدحالی میں ن لیگ کی حکومت نے ہر دور میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ تشہیر کی عادی اتحادی حکومت نے معیشت کی کشتی کو بھی ڈبو دیا ہے۔ جاگیر داروں اور صنعتکاروں کو تحفظ دے کر آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر زراعت کے شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ زرعی انکم ٹیکس کا قانون چاروں صوبائی اسمبلیوں سے منظور کروایا گیا۔ سالانہ 56لاکھ سے زائد زرعی آمدن پر ٹیکس کی شرح 45فی صد ہوگی جبکہ سالانہ 50کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 10فی صد سپر ٹیکس بھی عائد ہو گا۔ کسان کی تباہی کی ذمہ دار حکومت کی غلط پالیسیاں اور زرعی شعبے کو نظرانداز کرنا ہے۔ بڑی فصلوں میں 13.5 فیصد کی نمایاں کمی کے باعث آئندہ سال خوراک کی درآمدات میں اضافے سے قیمتی زرمبادلہ پر دباؤ پڑے گا مگر کیا فرق پڑتا ہے۔ غریب عوام ہے نا ٹیکس دینے کیلئے، عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمیں تو ڈیفنس بجٹ بڑھانا تھا اس کو 20 فیصد تک لے جانا تھا کیونکہ وہ ہماری بقاء اور سالمیت کے لئے زیادہ ضروری ہے۔ عوام تو گھاس بھی کھا لے گی۔ وزراء ، مشیروں ، ایم این ایز چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کی تنخواہوں اور مراعات پر ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ کرنا ضروری ہے کیونکہ خود کو قانون سے بالاتر رکھنے کے لئے قانون سازی جو کرنی ہے انہوں نے۔ کمال کا ملک ہے ویسے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ اس ملک میں عوام کی حیثیت کیا ہے؟ یہ ایک بڑا سوال جو جنم لے رہا ہے۔ ایک لاوا پک رہا ہے جو جلد پھٹ سکتا ہے۔ مالی دباؤ، پیداوار میں کمی اور لاگت میں اصافہ، کسان اک ہیجان سے گزر رہا ہے اور کوئی بھی بڑی فصل کاشت کرنے کو تیار نہیں۔ کسان اور زراعت کی زبوں حالی پر بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ
ہوتی نہیں جو قوم حق بات پر یکجا
اس قوم کا حاکم ہی بس ان کی سزا ہے
کسانوں کے لئے مشکلات
09:38 AM, 16 Jun, 2025