نفرتیں اتنی ہیں میرے شہر میں

09:37 AM, 16 Jun, 2025

دنیا کے ہر خطے میں انتہا پسندی ، عدم برداشت اور شدت پسندی ایک نہ ایک صورت میں پنپتی رہتی ہے مگر جب یہ وبا کسی قوم کے ذہن ، مزاج اور معاشرت میں جڑیں پکڑ لے ، تو وہ صرف ایک فکری کجی نہیں رہتی بلکہ ایک ناسور بن جاتی ہے جو نہ صرف معصوم جانیں نگلتی ہے بلکہ پوری تہذیب ، ثقافت اور انسانیت کو دیمک کی مانند چاٹتی چلی جاتی ہے ۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک طرف عوام غربت ، مہنگائی ، بیروزگاری اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہیں وہاں شدت پسندی نے ایک اور زخم کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ چاہے مذہب کے نام پر ہو ، قومیت کی بنیاد پر ہو یا سوشل میڈیا پر ابھرنے والی آوازوں کے خلاف ، انتہاء پسند ذہن ہر اختلاف کو دشمنی سمجھتا ہے اور ہر سوال کو بغاوت ۔آئے روز یہاں کسی نا کسی تفریحی پلیٹ فارم سے شہرت پانے والے لوگ صرف اس وجہ سے قتل کر دیے جاتے ہیں کہ ان کا انداز ، طرز ِ زندگی یا شہرت کسی کے مذہبی ، اخلاقی یا خود ساختہ اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ ایک فرد یا گروہ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ قاضی بنے ، جلاد بنے اور موت کے پروانے بانٹے؟ ہر بارایسے کسی سانحہ کے بعد اٹھنے والے مذمتی بیانات اور واویلے کے بعدحکومتی سطح پر اس سانحے کو آخری واقعہ قراردیتے ہوئے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کی یقین دہانی کرواتے نظر آتے ہیں۔مگر ہر دفعہ ان تمام واقعات کی روک تھام میں حکومتی اور ریاستی حکمتِ عملی ناکام نظر آتی ہے۔بقول شاعر 
نفرتیں اتنی ہیں میرے شہر میں 
پیار کے لفظوں سے خوف آتا ہے اب
گولیوں پر رقص کرتا تھا جو دل 
اک پٹاخے سے بھی ڈر جاتا ہے اب
شدت پسندی صرف بارود سے نہیں پھیلتی یہ زبان کے زہر ، سوشل میڈیا کی مہمات ، مسلکی تعصب اور تعلیمی اداروں میں پھیلائی جانے والی نفرت سے بھی پروان چڑھتی ہے ۔جب روشنی دیواروں سے سر ٹکڑا کر لوٹ آئے ، جب خاموشیاں سوالوں سے گہری اور طویل ہو جائیں ، جب لب ہلنے سے بھی پہلے آنکھیں خوف سے 
لرزنے لگیں تو یہ کسی فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا بحران ہوتا ہے ۔ایسے میں فکری بلندی ، علمی کشادگی پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں ۔شدت پسندی محض جسموں کو ہلاک نہیں کرتی یہ اذہان کو یرغمال بناتی ہے ، عقل پر قفل ڈال دیتی ہے ، سوالات پر پہرے بٹھا دیتی ہے اور مکالمے کو کفر کا ہم معنی بنا دیتی ہے ۔ جب معاشرہ دلیل کے بجائے تضحیک ، مکالمے کے بجائے فتوے اور محبت کے بجائے نفرت کو تر جیح دے تو وہاں عقل و شعور کے دروازے بند اور قبرستان آباد ہونے لگتے ہیں ۔ویسے تو ہمارے آئین میں مذہبی آزادی موجود ہے مگر اس کا تحفظ صرف کاغذوں تک محدود ہے ۔شدت پسندی کا آغاز ہمیشہ بندوق سے نہیں ہوتا ، یہ ایک فکری تدریجی ذہنی انجماد ہے۔ ایسا انجماد جو پہلے شعور کو سلب کرتا ہے ، پھر ضمیر کو اور آخر میں پورے معاشرے کو گونگا ، بہرا اور اندھا بنا دیتا ہے ۔زمانہ گواہ ہے کہ ہر قوم کی بقا اس کے شعور ، رواداری اور تحمل میں مضمر ہوتی ہے مگر جب معاشرے میں برداشت کا پیمانہ چھلکنے لگے اور رائے کے لیے گنجائش باقی نہ رہے ، تو وہاں فضا میں وہ خاموشی اترتی ہے جو آنے والے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔یہ دھرتی جو صوفیائے کرام کی محبت بھری تعلیمات کی پرورش گاہ تھی ، آج نفرت کی عفریت کے پنجوں میں گرفتار ہے ۔ کبھی یہاں لفظوں کے پھول جھڑتے تھے، آج گولیوں کی زبان بولی جاتی ہے ۔ہماری تہذیب کی رگوں میں کبھی حسنِ اظہار کا خون دوڑتا تھا ، جہاں مکالمہ عبادت سمجھا جاتا تھا ، اور اختلاف ایک جمالیاتی تنوع کی علامت تھا ۔کبھی یہاں اختلافِ رائے کو فکری بالیدگی کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن اب ۔۔ہم ایک ایسی فکری تاریکی میں زندہ ہیں جہاں زبانیں زہر اگلتی ہیں اور خاموشی بزدلی بن چکی ہے۔ اختلاف پر قتلِ عام روا ہے ،اب یہاں لوگوں کوصرف اس وجہ سے قتل کر دیا جاتا ہے کہ اس نے زندگی کو اپنی مرضی سے گزارنے کی جسارت کی ۔یہ سر زمین خدا کی رحمت ہے مگر ہم نے اسے اپنے غصے ، خوف اور زخموں کی تجربہ گاہ بنا دیا ہے ،ہم نے مسجدوں میں اللہ کو قید کیا ،مزاروں پر دکانیں چمکائیں ،ہم نے قلم کو زبان کا دشمن اور سوال کو ایمان کا قاتل بنا دیا ۔گزشتہ کئی سالوں سے ہمارا معاشرہ عدم برداشت کی آخری حدودکو چھو رہا ہے۔ پاکستان میں سیاسی اور مذہبی شدت پسندی بھی اپنے بام عروج پر ہے۔انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست اور سیاسی رویوں میںروزِ اول سے ہی عدم برداشت،نفرت اور شدت پسندی کے ایسے کانٹے بچھائے جا تے رہے ہیں جنہیںچنتے چنتے ہماری نسلیں بیت جائیں گی۔ شدت پسندی صرف ایک طبقے یا فرد کا مسئلہ نہیں ہے یہ پوری قوم کی اجتماعی بربادی کی بنیاد ہے ہوگا یہ فقط ایک جرم نہیں بلکہ تہذیبی زوال کی علامت ہے ،وہ کیفیت جہاں دل پتھر اور ذہن قفس بن جاتے ہیں ، جہاں دلیل دم توڑتی ہے اور جذبات کو تلوار بنا کر عقل کے گلے پر رکھ دیتا جاتا ہے ،ایک ایسا فکری افلاس جس میں فرد اپنے اپنے سچ کو کائنات کا واحدپیمانہ سمجھ بیٹھتا ہے۔ آج جو سیاسی شدت پسندی ہمارے معاشرے میں دیکھنے کو مل رہی ہے وہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ خطرناک اورخوفناک ہے۔ سوشل میڈیا نے شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کا کام پہلے سے کئی گنازیادہ آسان کر دیا ہے۔تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے سوشل میڈیا ونگز اوربڑے بڑے نامور گروپ بنا رکھے ہیں جو سماجی رابطے کی مختلف ویب سائٹس اورایپس کے ذریعے بڑے ہی منظم انداز میںکام کرتے ہیں۔ان کا کام ہی مخالف جماعت کے رہنمائوںکی کردار کشی اور الزام تراشی کرنا ہے۔ہمارے ہاں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کا رجحان بھی بہت زیادہ ہے۔بات کرنے والا اپنی بات مکمل کر کے چپ ہو جاتا ہے مگرحمایتی اس بات کے دفاع میں تمام تر حدود کو عبور کرتے نظر آتے ہیں۔اشتعال انگیز اور نفرت و تضحیک سے بھرے بیان کو ہمارے سیاسی رہنما عوام میں جوش اور ولولہ پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ایک جمہوری معاشرے میں سیاسی قائدین کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے اور انہیں اپنی اس ذمہ داری کا ہر وقت احساس ہونا چاہیے۔ضرورتِ وقت ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کے لیے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے جس میں سیاست دانوں کو پابند کیا جائے کہ وہ مثبت سیاست کریں گے اور ان کا مطمع نظر ہمیشہ ہی ملک اور مذہب کا وقار ۔

مزیدخبریں