اسرائیل کے ایران پر حملے اور ایران کے پلٹ وار کے نتیجے میں کس کا کتنا نقصان ہوا، اطلاعات یکطرفہ ہیں، میڈیا جن کے قبضے میں ہے وہ یہ تو چھپانے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ اسرائیل کے متعدد شہروں پر ایرانی میزائیل گرے ہیں۔ عمارتیں اور اہم دفاتر تباہ ہوئے ہیں لیکن وہ ان کے جانی نقصان پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں۔ عالمی میڈیا ان کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے بعض مسلمان ممالک بھی یہی کچھ کرتے نظر آتے ہیں۔ ذرا تصور کیجئے درجنوں میزائیل، درجنوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بنا دیں اور سینکڑوں لوگ نہ مریں یہ کیسے ممکن ہے؟
اسرائیل کے حملے میں ایرانی سول اور ملٹری قیادت جام شہادت نوش کر گئی، ایران نے اسے تسلیم کیا۔ درباری، وزیر، مشیر جرنیل دشمنوں سے ساز باز کر کے عین گھمسان کے دن میں مضبوط ترین قلعے کا صدر دروازہ کھول دیتے ہیں۔ یہ کہانی نئی نہیں پرانی ہے مگر داد دیجئے انہیں جو اتنے بڑے نقصان کے بعد بھی حواس باختہ نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اپنے وسائل کے مطابق اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ یاد رہے اسرائیل ایک ملک اس جنگ میں نہیں اس کے پیچھے امریکہ آدھے سے زیادہ یورپی ملک قریباً نصف اسلامی ملک اور بھارت کھڑے ہیں جو وسائل سے مالامال ہیں۔ حربی طاقت اور بے مثال عددی قوت بھی رکھتے ہیں، اس کے مقابل ایران گزشتہ چھیالیس برس سے پابندیوں کی زد میں ہے۔ امریکہ کی محبت اور خوف میں مبتلا ممالک اس کے ساتھ تجارت اور سفارتی تعلقات تو بہت دور کی بات ہے، اس کے قریب سے بھی نہیں گزرتے۔ گنتی کے چند ممالک کے علاوہ کسی اہم اسلامی ملک کے سربراہ نے ایران کا اس عرصہ میں دورہ نہیں کیا وہاں اگر کبھی کوئی گیا ہے تو ایران کی محبت میں نہیں گیا بلکہ ہنود و یہود کا پیغام لے کر گیا ہے یا ایران کو ان سے ڈرانے گیا ہے کہ ان طاقتوں کے سامنے اس طرح سرنڈر کر دے جس طرح بیشترممالک کر چکے ہیں۔
مسلمان ملکوں میں جارح کی مذمت کی بدعت کا کلچر عرصہ دراز سے دیکھنے میں آرہا ہے۔ یہ مذمت اس وقت نہیں ہوتی جب مسلمان ملک پر کوئی جارحیت کا ارتکاب کرے بلکہ اس وقت زیادہ شدت سے شروع ہو جاتی ہے جب ایران اپنے بل بوتے پر اس کا موثر جواب دیتا ہے۔ زبانی مذمت کوئی مدد نہیں ہوتی بلکہ اپنی ہمت سے جارحیت کا جواب دینے والے کو آزردہ کرتی ہے۔ زبانی جمع خرچ کرنے والوں اور مصیبت کی گھڑی میں ساتھ کھڑے ہونے کے دلاسے دینے والوں پر لازم ہے منہ بند رکھیں، اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہمت کریں، حوصلہ رکھیں اور عملی طور پر کچھ کر دکھائیں۔ جب میدان جنگ گرم ہو جاتے تو زبانی مذمت کی نہیں، جان مال اور سامان جنگ سے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جنگ کے زخمیوں کو اپنے یہاں بلا کر علاج کی سہولتیں پہنچانا یا اس کا وعدہ کرنا کوئی کارنامہ نہیں ہے جو قومیں زخم کھانے کا حوصلہ رکھتی ہیں جو جارح کے سامنے سرنڈر نہیں کرتیں وہ اپنے زخموں کا خود علاج بھی کر سکتی ہیں۔
غزہ میں غیرت کا مظاہرہ کرنے والے گزشتہ ڈیڑھ برس میں اس کی سینکڑوں مثالیں پیش کر چکے ہیں۔ چھپن اسلامی ممالک نہایت خاموشی سے ایک ایک ارب ڈالر ، ایک بمبار ، ایک ایک فائٹر جہاز اور درجن بھر میزائیل ایران کو کسی بھی اس کے حلیف ملک خصوصاً چین یا روس کے ذریعے منتقل کر دیں، اپنے تکنیکی ما ہرین کو بلا سرحد پار کرائے ان کی خدمات منتقل کر دیں تو یہ جنگ صرف ایک روز میں ختم ہو سکتی ہے جو عالم اسلام کے بڑے دشمن کو ہمیشہ کیلئے ختم کر سکتی ہے لیکن یہ سب وہ نہیں کر سکتے جو دنیا کو ایٹمی تباہ کاریوں سے ڈراتے رہیں۔ اپنے ہاتھ میں ایٹم بم پکڑ کر کانپتے رہیں، اس کے لئے اس حوصلے کی ضرورت ہے جو اس وقت صرف ایرانی قیادت اور ایرانی قوم کا اثاثہ ہے۔ باقی سب تو اس حالت میں ہیں جو لٹے پٹے قافلے میں شامل افراد کی ہوتی ہے، ان کی زبانیں گنگ، حلق خشک، نظریں ویران ویران نظر آتی ہیں۔ انہیں آپ کچھ بھی کہیں وہ بار بار پوچھیں گے آپ نے کیا کہا مجھے ، سمجھ نہیں آئی۔ المیہ در المیہ اس قافلے کے مسافر اپنے گھر بیٹھے بیٹھے لٹ گئے بلکہ بخوشی لٹے اور آئندہ بھی لٹتے رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ عراق پر امریکہ اور چھالیس ملکوں کی یلغار کو یاد کیجئے اس کی کوریج کی اجازت صرف امریکی ٹی وی سی این این کو
دی گئی تھی جو ہر روز امریکہ اور الائیڈ فورسز کی کامیابیوں کی داستان سناتا تھا۔ ایک ملک کا چھیالیس ملکوں سے مقابلہ کوئی مقابلہ نہ تھا، اس کا نتیجہ وہی ہونا تھا جو جنگ کے پچیس برس بعد امریکہ نے تسلیم کیا اس نے جھوٹی کہانی کو بنیاد بنا کر عراق پر حملہ کیا۔ امریکہ کے اعتراف سے قبل پوری دنیا بشمول اسلامی دنیا عراق کے پاس ’’کیمیائی ہتھیاروں‘‘ پر یقین کئے بیٹھی رہی اور اس کے موقف کو مضبوط کرتی رہی۔ آج بھی امریکہ اسرائیل اور اس کے حواریوں نے ایران کے حوصلے پست کرنے کے لئے کچھ کہانیاں گھڑی ہیں جن میں کوئی حقیقت نہیں، کہتے ہیں ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل تباہ کر دیا ہے، حیرت ہے ایٹمی تنصیبات تباہ ہو گئیں، خطے میں کہیں تابکاری نظر نہیں آرہی۔ اب تک تو ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتر جانا چاہئے تھا۔ ایک کتا نہ مرا۔
دوسری کہانی، اسرائیل اور اس کے گماشتوں نے ایران کے اندر گھس کر اپنی لیب تیار کر لی اور وہاں بیٹھ کر ڈرون اسمبل کرتے رہے پھر انہیں سٹور کرتے رہے اور وقت آنے پر انہوں نے اسے نکال لیا اور حملہ آور ہو گئے، یہ سب ہوتا رہا۔ ایران کو پتہ نہ چلا، چین اور روس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی معلوم نہ ہوا، ان کے سیٹلائٹ جو خطے کے ایک ایک انچ کی نگرانی کر رہے ہیں وہ بھی میٹھی نیند سوتے رہے، کیا یہ ممکن ہے یقینا نہیں اس جھوٹ کے پائوں نہیں، یہ پکڑا جا چکا ہے۔
اسرائیل ایران جنگ کا نتیجہ کچھ بھی ہو تاریخ میں یہ واقعہ ایک ہی انداز میں زندہ رہے گا۔ چھپن ہٹی کٹی مشنڈی بہنوں کا ایک غیرت مند بھائی تھا، نام اس کا ایران تھا، یہ بہنیں ہر وقت اپنے ہار سنگھار میں مصروف رہتیں، جب بھی ان کی آبروریزی کیلئے کوئی ہاتھ ان کی طرف بڑھتا تو ایران پوری طاقت سے درمیان میں آجاتا۔ کاغذوں میں موجود اسلامی امہ میں سے ایران کا جرأت مندانہ کردار نکال دیں تو پیچھے کچھ نہیں بچتا،یمن کے حوثیوں کے پیچھے، حزب اللہ اور حماس کے ساتھ بھی صرف وہی کھڑا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی تو امریکہ اور یورپ کے ساتھ اسرائیل کی سانسیں بھی بند ہو جائیں گی۔ آئیے ایک بچگانہ بات کر کے دل کو خوش کریں۔ ایٹم بم رکھنے والے ملکوں کو چاہئے وہ خود کو اسے چلانے سے رہے یہ بطور تحفہ ایران کو دے دیں۔ وہ اسے چلانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ ایران درحقیقت دفاع پاکستان کا آخری مورچہ ہے، اسے مضبوط کرنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان کی باری آچکی ہے۔ ریت میں سر دینے سے کچھ نہ ہو گا۔ بلی نہیں بلیاں جھپٹنے والی ہیں۔
پاکستان کی باری آچکی ہے؟
09:36 AM, 16 Jun, 2025