شہدا کی حُرمت اور پنجاب اسمبلی کی قرارداد

09:33 AM, 17 Jul, 2026

کیا پاکستان صرف محلات، منڈیوں اور ایوانوں سے پہچانا جاتا ہے یا اس کی حقیقی شناخت وہ قبریں ہیں جہاں وہ لوگ آسودہ خاک ہیں جنہوں نے اپنے آج کو قوم کے کل پر قربان کیا تھا؟ دنیا کی کوئی ریاست ایسی نہیں جس کے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے اُن شہیدوں کی قربانیوں کی کہانیاں نہ ہوں جن کو سنا کر آنے والی نسلوں کے خون کو گرمایا جا سکے اور جن کے لہو نے اس کے جغرافیے کو دوام نہ بخشا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر مہذب قوم اپنے شہدا کو محض ایک عسکری اصطلاح نہیں بلکہ اپنی اجتماعی شناخت کا حصہ سمجھتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ بھی انہی قربانیوں سے بھری پڑی ہے جس میں 1948، 1965، 1971 کارگل اور دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد اور حالیہ پاک بھارت جنگ شامل ہے۔ ہر دور میں ایسے افراد سامنے آئے جنہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ان میں فوج کے جوان بھی تھے، فضائیہ اور بحریہ کے اہلکار بھی، پولیس، رینجرز، فرنٹیئر کور، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد بھی اور وہ عام شہری بھی جو دہشت گردی کی اندھی لہرکے پاگل پن کا شکار ہوئے۔ یہ قربانیاں محض عسکری تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ پاکستان کے اجتماعی حافظے کا سرمایہ ہیں۔ اسی لیے جب قومی سلامتی، فوج یا شہدا سے متعلق کوئی بیان سامنے آتا ہے تو وہ ایک معمولی سیاسی بحث نہیں رہتی بلکہ اخلاقی، دینی اور قومی سطح پر زیرِ غور آتی ہے۔ ایسے موضوعات پر اختلافِ رائے ممکن ہے، مگر اختلاف کے ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے کہ قومی سطح کے رہنماﺅں کا بیانیہ بھارتی یا ”را“ کا نہیں ہونا چاہیے۔
اسلام نے شہادت کو محض میدانِ جنگ میں موت کا نام نہیں دیا بلکہ اسے نیت، مقصد اور اللہ کی رضا سے وابستہ کیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم شعور نہیں رکھتے۔“ یہ آیت صرف ایک عقیدہ بیان نہیں کرتی بلکہ ایک اخلاقی سبق بھی دیتی ہے کہ شہدا کے بارے میں گفتگو احترام، احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے بھی اعمال کا معیار نیت کو قرار دیا۔ رسول اللہﷺ کے زمانے میں مجاہدین کو مالِ غنیمت ملتا تھا، جس کی تقسیم کا اصول خود قرآن مجید نے سورہ انفال میں بیان کیا۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں بیت المال کا نظام قائم ہوا اور ریاستی ذمہ داریاں ادا کرنے والوں کے وظائف مقرر کیے گئے۔ حضرت عمرؓ کے دور میں سرحدوں پر تعینات اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے لیے باقاعدہ انتظامات کیے گئے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ریاستی خدمت اور معاشی کفالت کو ایک دوسرے کی ضد قرار نہیں دیا۔ آج کی دنیا ساتویں صدی کے قبائلی معاشرے سے مختلف ہے۔ جدید ریاست کے پاس مستقل سرحدیں، فضائی حدود، بحری مفادات، حساس تنصیبات، سائبر سکیورٹی اور داخلی امن کے متعدد تقاضے ہیں۔ ان ذمہ داریوں کے لیے تربیت یافتہ، منظم اور کل وقتی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے دنیا کی تقریباً تمام ریاستیں اپنی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو باقاعدہ تنخواہ دیتی ہیں۔ یہ تنخواہ کسی قربانی کی قیمت نہیں بلکہ ایک ریاستی انتظامی ذمہ داری ہے تاکہ وہ اپنی پوری توجہ اپنے فرائض پر مرکوز رکھ سکیں۔ حضرت عمر بن خطابؓ کا دور اسلامی ریاست کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی دور میں باقاعدہ فوجی رجسٹر (دیوان)، بیت المال، صوبائی انتظامیہ، عدالتی نظام اور ریاستی وظائف کا جامع ڈھانچہ قائم ہوا۔ سرحدوں پر تعینات سپاہیوں کے لیے وظیفے مقرر کیے گئے، ان کے اہلِ خانہ کی کفالت کو ریاستی ذمہ داری قرار دیا گیا اور یہ اصول اختیار کیا گیا کہ جو شخص ریاست کے دفاع کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کرتا ہے، اس کی معاشی ضروریات بھی ریاست پوری کرے گی۔ مولانا فضل الرحمان کی فوج مخالف تقریر نے خود اُن کے دینی علم پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ الفاظ گولی سے زیادہ دور تک سفر کرتے ہیں۔ ایک جملہ لاکھوں لوگوں کے دلوں میں امید پیدا کر سکتا ہے اور ایک جملہ برسوں سے زخم اٹھائے خاندانوں کو دوبارہ رنجیدہ بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ مولانا فضل الرحمان جو کل تک عمران نیازی کے فوج مخالف بیانیے پر شدید تنقید کرتے تھے اب اُسی بیانیے پر خودکھڑے ہو رہے ہیں لیکن یہ بیانیے بیچ کر نیازی کب کی اپنی دکان بڑھا چکے سو یہ اب بکنے والا نہیں۔
استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبد العلیم خان ہمیشہ پاکستان کے دفاع اورقومی سلامتی بارے کبھی پس و پیش سے کام نہیں لیتے سو مولانا فضل الرحمان کے پاک فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کی جانب سے حالیہ بیانات پر استحکام پاکستان پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی محمد شعیب صدیقی نے پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کرا کر اپنی قومی غیرت کا ثبوت دیا ہے۔ جس میں پاک فوج، سکیورٹی اداروں اور دیگر قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف دئیے گئے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور قومی سلامتی کے ضامن اداروں کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنانا نہ صرف انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل قرار دیا گیا ہے بلکہ اسے قومی مفاد، ریاستی یکجہتی اور اداروں کے وقار کے بھی منافی ہے۔ قرارداد میں پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ، ملکی دفاع، امن و استحکام اور قومی سلامتی کے لیے بے مثال قربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں پوری قوم قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ شعیب صدیقی کی قرارداد کے مطابق ایسے اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور منفی بیانیہ دشمن قوتوں کے مذموم عزائم کو تقویت پہنچا سکتا ہے جس سے قومی یکجہتی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز، گمراہ کن اور قومی مفاد کے منافی بیانات دینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور موثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قومی اداروں کے وقار، آئینی حیثیت اور عوامی اعتماد کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ یہ قرارداد یقینا عوامی امنگوں کی آئینہ دار ہے اور قوم فوج کی مخالفت کو موجودہ علاقائی اور عالمی تناظر میں پاکستان کی مخالفت سمجھتے ہیں۔ ایسی قوتوں کے ساتھ ہمیں آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہو گا کہ یہی فلاح کارستہ ہے۔ پاکستان 25 کروڑ پاکستانیوںکا ملک ہے جو اپنے اداروں سے محبت کرتے ہیں۔ یہاں ایسے سانپوں کی ضرورت نہیں جس کا تریاق کسی دوسری ریاست میں پڑا ہو۔

مزیدخبریں