وزیراعظم کا پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

07:49 PM, 16 Jul, 2026

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی قائم رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی یقینی بنائیں۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور کفایت شعاری سے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی معیشت، ایندھن کی دستیابی اور ممکنہ چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہر ممکن ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنی چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایسی جامع حکمت عملی مرتب کی جائے جس پر ضرورت پڑنے کی صورت میں فوری عمل درآمد ممکن ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت اس وقت مستحکم سمت میں گامزن ہے، تاہم بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے باعث پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بروقت نمٹا جا سکے۔

انہوں نے گزشتہ قومی کفایت شعاری مہم کے دوران عوام کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں نے ایندھن اور توانائی کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا، جس سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو معمول کے مطابق برقرار رکھنے میں مدد ملی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کی بروقت پالیسیوں اور مؤثر انتظامات کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کا نظام متاثر نہیں ہوا، جبکہ عام صارفین، موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کو بھی ریلیف فراہم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی سبسڈی نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کو عوام پر کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور لوگوں کو اضافی مالی بوجھ سے بچانے میں مدد دی۔

وزیراعظم نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے مستقبل میں پاکستان کی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سطح پر کفایت شعاری کو فروغ دیا جائے اور دستیاب وسائل کو انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں اور موجودہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں، جبکہ مستقبل میں بھی ایندھن کی بلا تعطل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

مزیدخبریں