دو ماہ قبل کی بات ہے۔ یو بی جی کے چیئرمین ایس ایم تنویر نے میرے ساتھ ایک طویل انٹرویو میں جہاں ملکی معاشی حالات پر بات کی جہاں انہوں نے ٹریڈ باڈیز کے مستقبل کے بارے میں بات کی وہاں انہوں نے یو بی جی کے آنے والے کل اور آنے والی لیڈرشپ کے بارے بڑی مثبت اور دلیل کے ساتھ آنے والے نوجوانوں کو کیوں آگے نہیں آنا چاہئے اور آنا ہے تو پھر ان کے مقاصد کیا ہونے چاہئیں۔ گزشتہ دنوں ٹریڈ باڈیز کے لئے ایک بڑی اور حیران کن خبر اس وقت سامنے آئی جب مومن علی کو یو بی جی کا سینئر وائس چیئرمین نامزد کر دیا گیا۔ اس خبر کے دو پہلو۔ ایک یہ کہ فیڈریشن کی سطح پر ہونے والے اس فیصلے کے تمام ٹریڈ باڈیز کو یہ واضح پیغام دے دیا گیا کہ اگر آنے والے کل کو اپنی سیاست، اپنی باڈی اور مستقل قریب میں تاجر برادری کے لئے نمایاں تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ ان میں نوجوان قیادت کا زیادہ عمل دخل ہوگا اور وہ اپنی تجربہ کار قیادتوں کے زیر سایہ بہترین کردار اور بڑے فیصلے کر سکیں گے۔ اس سے پہلے کہ بات کو آگے لے کر چلوں میں ایس ایم تنویر سے کی گئی گفتگو کو اپنے کالم کا ضرور حصہ بنانا چاہوں گا۔ میں نے ان سے سوال کیا تھا کہ آپ یو بی جی کے مستقبل کو کہاں دیکھ رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میری عمر 55سال ہو گئی ہے اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں مزید پانچ سال اور سیاست میں رہوں گا۔ اب مجھے اگلے پانچ سال میں اپنی ہی زندگی میں اختیارات کے تقسیم کرنے کے فارمولے کے تحت ینگ یو بی جی کو آگے لانا ہے اور اس سلسلے میں اب بولڈ فیصلے کرنا ہوں گے اور باصلاحیت لوگوں کو آگے لا کر ناصرف ان کی تربیت کرنا بلکہ ہمارے بعد انہوں نے ہی ہماری جگہ لینی ہے تو پھر انتظار کس بات کا لہٰذا ینگ یو بی جی میں چاروں صوبوں میں جو قیادتیں کام کر رہی ہیں ان کے بڑوں سے کہوں گا کہ وہ ابھی سے اپنے بچوں کو میدان میں اتاریں ان کے لئے یو بی جی کا بڑا پلیٹ فارم موجود ہے میرے پاس مومن جیسے باصلاحیت بچے ہیں جو ناصرف ٹریڈ باڈیز کے ماحول کو سمجھتے بلکہ ان کے اندر ایسی صلاحیتیں ہیں کہ وہ ہم سے بہتر فیصلے کر سکیں۔
ایس ایم تنویر کا یہ موقف کہ جب تک آپ اپنی باڈی کے اندر اصلاحات نہیں لائیں گے تو موروثی سیاست کے داغ لگتے رہیں گے۔ پوری دنیا میں ایک نظام موجود ہے اور جس نے بھی اس نظام سے فائدہ اٹھایا وہ کامیاب رہا۔ اب نظام کیا ہے وہ یہ کہ آپ نے جتنا کام کرنا تھا کر لیا جو حاصل کرنا تھا وہ کر لیا اب آگے بھی تو اپنی باڈی کو لے کر جاتا ہے اورآنے والے کل میں کس طرح آپ نے زندہ رہنا ہے اس لئے یہ سب کو سوچنا ہوگا یہ میرے اکیلے کا فیصلہ نہیں ہم سب کی متفقہ رائے ہونی چاہئے کہ آنے والے کل کے لئے اگر آپ نے مضبوط راستوں کا تعین کرنا ہے تو پھر ابھی سے نوجوانوں کو آگے لے کر آئیں۔
یہ تھی ایس ایم تنویر کی گفتگو بی جی میں مومن علی کو وائس چیئرمین کا عہدہ دے کر انہوں نے نوجوانوں میں ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ اگر 2024ء کے لاہور چیمبر کے ہونے والے انتخابات کو دیکھتے ہیں تو پوری انتخابی مہم میں نوجوان زیادہ کام کرتے نظر آئے اور انہی نوجوانوں نے بڑے بڑے برج الٹے۔ بڑی بڑی شخصیات کو شکست دی اور لاہور چیمبر میں جہاں تجربہ کار لیڈر آئے وہاں ای سی میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جہاں وہ سیکھ رہے ہیں وہاں وہ معاملات کو بھی ساتھ لے کر چل رہے ہیں اور یہی حکمت عملی ہونی چاہئے کہ آج ہی سے اپنے ساتھ نوجوانوں کو مکمل اختیارات دے کر میدان میں اتاریں۔ آج ایسے فیصلے کریں گے تو آپ کی ٹریڈ باڈی مضبوط سے مضبوط تر ہوگی اورآپ کی سیاست بھی محفوظ رہے گی۔ مومن علی کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس نوجوان میں بڑی سکل ہے اس لئے کہ اس کے گھرانے کا تعلق گزشتہ پانچ عشروں سے پاکستان بھر کی ٹریڈ باڈیز کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ملک افتخار علی اور ملک شہزاد علی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں اور مومن علی کی خوش قسمتی کہ اس کو میرے نزدیک ایس ایم تنویر نے بڑے لیڈر ہونے کی سند پر آج ایک بڑا فیصلہ کرکے مہر ثبت کر دی ۔ ظاہر ہے انہوں نے جہاں اپنے دعوے کی تکمیل کی وہاں دوسروں کے لئے بھی دروازے کھول کر خوبصورت پہل کرتے ہوئے خوبصورت مثال قائم کر دی اور یہی لیڈرشپ ہوتی ہے کہ سب کو گلے اور سینے کے ساتھ لگائو… کل ان کا تھا تو آج ان کا ہے آج آپ کے سامنے وہ ٹریڈ باڈیز بھی ہیں جنہوں نے لاہوری تخت کی خاطر اختیارات کو نہیں چھوڑا اور یہی اختیارات ان کو لے ڈوبے۔ یہاں میں پیاف کے میاں شفقت گروپ کا بھی ذکر کرتا چلوں کہ انہوں نے تجربہ کار سیاست کے لیڈروں کے سائے تلے دو نوجوانوں کو سینئر وائس چیئرمین اور وائس چیئرمین کے عہدے دینے کی اچھی روایت قائم کی۔ ان کے بعد فائونڈر نے بھی موروثی سیاست کی چھاپ ختم کرکے اختیارات تو تقسیم کئے مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہاں بھی تجربہ کار لیڈروں کے ساتھ نوجوانوں کو بڑے عہدے دیتے۔ وہ کیا عبدالمجیدسالک نے کہا…
چراغ زندگی ہوگا فروزاں، ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصل بہاراں، ہم نہیں ہوں گے
جئیں گے جووہ دیکھیں گے بہاریں زلف جاناں کی
سنوارے جائیں گے گیسوئے دوراں ہم نہیں ہوں گے
کہتے ہیں کہ زندگی میں بعض فیصلے آپ کو بہت آگے لے جاتے اور ان کے اثرات وقت کے ساتھ نمودار ہونا شروع ہوتے ہیں۔ مومن علی کے کاندھوں پر جو بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے امید ہے کہ وہ اپنی گھریلو ٹریڈ قائم روایات اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین اور جامع فیصلے کریں گے اور اپنے انتخاب کو عملی دھارے میں لاکر کیا وہ نوجوانوں کو یو بی جی میں متحرک کرسکیں گے اس کا فیصلہ آنے والا کل کرے گا۔
اور آخری بات…
مومن علی کے نوجوان کندھوں پر جو بھاری ذمہ داری ڈالی گئی اس پر ایک شعر میری تمام گفتگو کا احاطہ کرے گا۔
قلزم ہستی سے ابھرا ہے مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی
اختیارات کی تقسیم، مومن علی کا نیا امتحان
09:21 AM, 16 Jul, 2025