اختلافات رائے اورہماری درخشاں روایات

09:20 AM, 16 Jul, 2025

عصرِ حاضر کے ہر ترقی یافتہ معاشرے میں یہ خوبی ہے کہ اس کے ہاں اگر اختلافات پیدا ہو جائیں توانہیں نہ صرف برداشت کیا جاتا ہے بلکہ اس کا اظہار تہذیب اور شائستگی کے دائرہ میں رہ کر کیا جاتا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کا منشا یہ ہے کہ کسی کو بھی اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کی اجازت ہے البتہ دوسرے کی تذلیل وکردار کشی اور تہمتیں لگا کر نقصان پہنچانے کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ اختلافات کا ہونا ایک قدرتی امر ہے اور یہ انسانی زندگی کا حصہ ہے۔ لوگوں کے درمیان اختلافات کا پایا جانا فطری ہے کیونکہ ہر شخص کی اپنی سوچ‘ رائے اور تجربات ہوتے ہیں۔ یہ اختلافات مسائل، افکار یا نظریات میں ہو سکتے ہیں۔اختلاف کا مقصد محض تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے اصلاح ہونا چاہئے ۔اگر اختلاف درست نیت، درست سوچ اور خیر خواہی کی بنیاد پر کیا جائے تو اس سے افکار و نظریات کی کئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو طبعی اور فطرتی طور پر مختلف پیدا کیا ہے لیکن اِس انفرادی فر ق اور اختلاف کے باوجود امت میں اجتماعیت اور اتحاد مطلوب ہے۔اس لئے عقائد اور افکار و نظریات کے اختلاف کو کسی صورت میں بھی فتنہ و فساد اور ملی وحدت کا شیرازہ پارہ پارہ کرنے کا سبب بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر اختلاف مخالفت یا دشمنی کا روپ دھار لے تو احترامِ انسانیت کا جنازہ اٹھنے لگتا ہے، انسانی معاشرہ فتنہ و فساد کی نظر ہو جاتا ہے اور الفت و محبت کی جگہ تعصب، ہٹ دھرمی اور شدت پسندی لے لیتی ہے اور قوم طبقاتی تقسیم میں منقسم ہو جاتی ہے۔ایسا اختلاف جو کسی قوم کی وحدت کو ختم کرنے کا سبب بنے اس کو اختلاف ِشر قرار دیا گیا ہے اور اختلافِ شر کے نتائج انتہائی بھیانک اور خطرناک ہیں ۔ لیکن ایسا اختلافِ رائے جو خیر اور نیک نیتی پر مبنی ہو جس سے افکار و نظریات اور فہم و فراست کے نئے دریچے وا ہوتے ہوں ، جو بہتر سے بہتر تر کی تلاش کیلئے کیا جائے تو وہ قابل تحسین بھی ہے اور رحمت بھی۔اس کی مثال یوں دیتا ہوں حضرت امام بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور نبی کریم ؐ غزوہ احزاب سے واپس تشریف لائے تو آپ ؐ نے ہم سے فرمایا کوئی شخص بنو قریظہ میں پہنچے بغیر عصر کی نماز نہ پڑھے۔ جب راستے میں عصر کا وقت ہوا تو صحابہ کرامؓ میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ بعض صحابہ کرام ؓنے کہا کہ ہم عصر کی نماز اس وقت تک نہیں پڑھیں گے جب تک ہم بنو قریظہ پہنچ نہیں جاتے۔ بعض نے کہا کہ ہم عصر کی نماز پڑھیں گے کیونکہ آپؐ نے ہم سے اس کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ان کی رائے یہ تھی کہ اس ارشاد سے حضور نبی کریم ؐ کا منشا یہ تھا کہ وہ بنو قریظہ میں جلدی پہنچو۔آپ ؐ کا یہ منشا نہیں تھا کہ بنو قریظہ میں ہی نمازِ عصر پڑھنا خواہ نماز قضا ہی ہوجائے۔ سو انہوں نے اس حدیث پاک کی منشا اور مفہوم پر عمل کیا۔ دوسرے صحابہ کرامؓ نے حدیث پاک کے ظاہری الفاظ پر عمل کیا کہ نمازِ عصر بنو قریظہ میں پہنچ کر ہی پڑھنی ہے۔ دونوں کی رائے مختلف تھی لیکن چونکہ خیر پر مبنی تھیں اس لئے آپ ؐ نے ان میں سے کسی فریق کو ملامت نہیں کیابلکہ دونوں کی رائے کو عزت و احترام عطا فرمایا۔
دین اسلام تو ہمیں دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک اور باہمی اختلافات کو برداشت کرنے کا درس دیتا ہے ۔ امام ابن کثیر اور دیگر کئی مفسرین اور مؤرخین نے لکھا ہے کہ جب حضور نبی کریم ؐ کے پاس نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا تو عصر کا وقت ہو چکاتھا، مسجد نبویؐ میں داخل ہوئے اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرنے لگے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم نے انہیں روکنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ ؐ نے منع فرمادیا کہ انہیں کرنے دو۔ اندازہ لگائیں! دشمن ہیں، مخالف ہیں اپنے الگ عقائد اور نظریات رکھتے ہیں لیکن حضور نبی کریم ؐنے ہمیں عملاً یہ سبق سکھا دیا کہ اپنے مخالف کے عقائد و نظریات کا بھی قدر خیال رکھنا چاہیے۔ یہ سیرت النبی ؐ کے وہ روشن باب ہیں جن کے نور سے ہم اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں ۔ آج ایک دو شہر نہیں بلکہ پورا معاشرہ تشدد، بے رحمی، دنگا فساد اور اخلاقی بحران کی لپیٹ میں ہے جس کی ایک بد ترین شکل سوشل میڈیاپر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک بزرگ کی ویڈیو وائرل ہوئی جو انتہائی ناشائستہ اور غیر مناسب الفاظ استعمال کر رہا تھا ۔ اس ویڈیو کو بہت زیادہ دیکھا گیا اور یہی اخلاقی گراوٹ ہے کہ اس کو پسند بھی کیا گیا حالانکہ دین اسلام ہمیں تحمل ، برداشت اور بردباری کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاق کا بھی درس دیتا ہے لیکن جب اختلافات میں آپ حد سے نکل جائیں اور گالی گلوچ پر اتر آئیں تو یاد رکھیں آپ حق پر ہونے کے باوجود بھی لوگوں کی نظر سے گر جائیں گے۔ نبی کریمؐ نے تو بدترین دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا تھا۔ یہ گالی گلوچ ، غیر مناسب جملے ہماری روایت نہیں ہے۔ اس شدت پسندی کو ختم کرنے کیلئے ہمیں سیرت النبیؐ سے رہنمائی لینی چاہئے۔
ہم دیکھتے ہیں دنیا کے بیشتر ممالک میں کسی بھی شہری کے لیے اپنی پسند کی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرنا عام سی بات ہے لیکن اس پسندیدگی کو بنیاد بنا کر کسی دوسری سیاسی جماعت کے حامی کو ذاتی بنیادوں پر ہدفِ تنقید بنانا، لڑنا جھگڑنا اور یہاں تک کہ مخالف سیاسی نظریہ رکھنے والوں سے بات چیت کرنا ہی چھوڑ دینا شاید پاکستان میں ہی ہوتا ہے۔ دوسروں کیلئے عدم برداشت، بدتمیزی اور لڑائی جھگڑا، یہ تمام وہ رویے ہیں جنھوں نے پاکستان میں عوام کو تقسیم کر رکھا ہے اور بظاہر وقت کے ساتھ یہ رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ کو درست لگنے والی ہر چیز درست نہیں ہو سکتی نہ ہی آپ دنیا میں سب سے سمجھدار یا واحد دانشور ہیں۔ آپ نہ تو کسی بھی چیز کا مکمل علم رکھتے ہیں اور نہ ہی کامل سمجھداری۔ اپنی سمجھ کی حدود کا ادراک ہونا بہت ضروری ہے۔ اختلاف کو احترام کے ساتھ اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے برداشت کیجیے اور اپنا دامن اتنا تنگ مت کیجیے کہ مخالفین کی جانب سے دی گئی دلیلوں سے کچھ سیکھ نہ سکیں۔ خدارا‘سیاسی اختلافات کو سیاست میں ہی رہنے دیجیے، اپنے طرزِ عمل سے معاشرہ میں بگاڑ مت پیدا کیجیے۔ 

مزیدخبریں