صدمے پر صدمہ

09:19 AM, 16 Jul, 2025

پچھلا غم ابھی غلط نہ ہوا تھا کہ اگلی خبر نے دل پر ایک اورچرکا لگا دیا یعنی صدمے پر صدمہ۔ سوال یہ ہے کہ پاکستانی آخر کب تک ان صدمات سے دوچار رہیں گے۔ حکومت کے معاشی ترقی کے تمام دعوے ایک جانب ، حقیقت حال تو یہ ہے کہ معاشی استحصال کی چابک سے پاکستان کے سوختہ بال باسیوں پر آئے روز وہ ضربات لگائی جا رہی ہیں کہ اس سے رسنے والا لہو اب خشک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔ پہلی ضرب کی تکلیف ابھی کم نہیں ہوتی کہ پہلے سے بھی زیادہ سخت دوسری ضرب پورے وجود کو ہلا کے رکھ دیتی ہے۔ یوں ان میں مزید دکھ سہنے کی ہمت نہیں رہی ہے۔ ارباب اختیار معیشت کی بہتری کے دعوے دار ہیں جبکہ عوام کی معاشی حالت تسلسل کے ساتھ پستی کی طرف گامزن ہے۔
ابھی بجٹ کو آئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ پٹرول کی قیمتوں میں لگ بھگ 10 روپے اضافے سے منی بجٹ کی شنید سنا دی گئی۔ اب اس کمبخت پٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر پانچ سے چھ روپے کہ ممکنہ اضافے کی خبر نے پاکستانیوں میں خوف و ہراس کیفیت پیدا کر دی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت ہو رہا ہے جب دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔  جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں چینی پہلے ہی 200 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے۔ اشیا خورونوش کی قیمتوں کو گویا پر سے لگے ہوئے ہیں۔ بجلی کے ہوش ربا ٹیرف نے عام آدمی کا جینا دو بھر کیا ہوا ہے۔ اس کی آہ و فغاں کوئی آسمان تک پہنچ رہی ہے۔ مہنگائی سے تنگ آ کر لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ زیادہ دن نہیں ہوئے جب ایک  نوجوان نے سرکاری اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں اپنے والد پر تشدد اور گرفتاری سے دل برداشتہ ہو کر تیزاب پی لیا تھا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی رہے ارباب اختیار تو ان کی سماعتوں پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ 
حکمران اشرافیہ کی بے حسی اور سفاکیت بھی ایک لحاظ سے منفرد ہے۔ عوام کو تکلیف دے کر انہیں گویا لذت محسوس ہوتی ہے۔ حکومت سے جب عوام کی ابتر صورتحال کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو ان کا پہلا جواب یہ ہوتا ہے انہوں نے سیاست کو ڈبو کر ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا ہے یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ 16 ماہ کی حکومت نے اگر ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا تھا تو اس کا تعلق موجودہ حکومت کے دورانیے سے کیوں ہے۔ موجودہ حکومت نے تو معیشت اور عوام کی حالت زار کو بہتر کرنا تھا تاہم اس وقت وہ اس میں بری طرح ناکام ہے۔
تاجر برادری حکومتی پالیسیوں پر سیخ پا ہے تو دوسری جانب عوام دہائیاں دے رہے ہیں حکومت آئی ایم ایف سے قرضے لے کر اس کا سارا بوجھ عام پاکستانیوں پر منتقل کر رہی ہے۔ پارلیمنٹیرینز ہوں یا بیوروکریسی یا پھر ججز سب نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں کئی سو گنا اضافہ کر لیا ہے جبکہ ہم پاکستانیوں کی آمدنیوں پر بھی بھاری ٹیکس عائد ہیں اور ان کی بینک ٹرانزیکشن پر بھی حکومت من چاہے انداز میں ہاتھ صاف کر رہی ہے۔
اگرچہ آئی ایم ایف کی جانب سے ملک کی "اب تک کی مضبوط کارکردگی" کے لیے تعریفی الفاظ حکومت کی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کو 'ثابت' کرتے ہیں، لیکن ان کی تعریف کو چٹکی بھر نمک کے ساتھ لیا جانا چاہیے۔ حکومت کی معاشی کارکردگی کے لیے ان کی تعریف بنیادی طور پر آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے نسبتاً مضبوط نفاذ پر مبنی ہے، جس نے درحقیقت معیشت کو دہانے سے نکالنے میں مدد کی ہے۔ لیکن انہوں نے ترقی اور عام لوگوں پر بہت بھاری قیمت بھی عائد کی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے سال میں معیشت مستحکم ہوئی ہے۔ افراط زر نیچے ہے، مالیاتی خسارہ کم ہوا ہے، شرح مبادلہ مستحکم ہے۔ اس استحکام کا بہت زیادہ کریڈٹ آئی ایم ایف پروگرام کو جاتا ہے۔ لیکن اس استحکام اور بہتر بنیادی اصولوں کا بہت زیادہ حصہ تیل اور اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی، اور اندرون ملک ترسیلات زر میں اضافہ ہے  نہ کہ صرف آئی ایم ایف کے منصوبے پر عمل درآمد۔
دوسری طرف برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہے۔۔ پیداوار اور ساختی اصلاحات سست روی کا شکار ہیں۔ محصولات میں اضافے کے باوجود جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر ٹیکس وصولی اب بھی دنیا میں سب سے کم ہے۔ٹیکس کی بنیاد کو بڑھانے کے لیے بھی ناقص کوششوں کی بھی کاروباری طبقہ مزاحمت کر رہا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ معیشت اب بھی صرف ایک جھٹکا بھی نہیں سہہ سکتی۔جیسے تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات میں کمی ایک اور سنگین بحران سے پیدا کرسکتی ہے۔ 
ایسے میں عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے چینی کی ٹیکس فری درآمد پر شدید اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے قرض پروگرام کی سنگین خلاف ورزی پر جواب طلب کرلیا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کے ٹیکس فری درآمد کی اجازت دے کر پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی امپورٹ کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام 7 ارب ڈالر کے معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے جس میں ٹیکس چھوٹ اور ترجیحی مراعات نہ دینے کا تحریری وعدہ شامل تھا، اس کے جواب میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں غذائی ایمرجنسی ہے مگر آئی ایم ایف نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔

مزیدخبریں