وفات سے وصال تک

09:19 AM, 16 Jul, 2025

گزشتہ کالم میں تاریخ کے حوالے سے ایک سہوسرزد ہو گیا … تاریخ کا سہو تاریخی ہوتا ہے۔ سو اس سہو کا ازالہ لازم ہے، اور انہی صفحات میں اس کی تصحیح لازم تر ہے۔ پاکپتن سے ثقلین مشتاق نے اس غلطی کی نشاندہی کی ہے۔ ہم نے اپنا لکھا ہوا کالم مکرر پڑھا … غلطی رقم ہو چکی تھی۔ نوجوان کا شکریہ ادا کیا اور اپنی تصحیح کر لی۔ تصوف کے حوالے سے دو عظیم شخصیات مولانا جلال الدین رومیؒ اور یونس ایمرےؒ کی تاریخِ فراق اور تاریخِ وصال لکھنے میں سہو ہو گیا۔ مولانا رومیؒ کا یومِ پیدائش 30 ستمبر 1203ء ہے اور یومِ وصال 17 دسمبر 1273ء ہے، جبکہ حضرت یونس ایمرےؒ کا سنِ ولادت 1238ء اور سنِ وصال 1320ء ہے۔ یوں مولانا رومؒ جنابِ یونس ایمرےؒ سے تقریباً تیس برس عمر میں بڑے ہیں … مولائے رومؒ ہر لحاظ سے بڑے ہیں … نام میں، مقام میں، پیغام میں … اور پھر پیغام کی ہمہ گیریت میں بزرگ تر ہیں۔ ہم نے غلطی سے الٹ لکھ دیا تھا، اس کے لیے قارئین سے معذرت کے طالب ہیں۔ ہم بزرگوں کا یومِ پیدائش اور یومِ وفات نہیں لکھتے، بلکہ یومِ فراق اور یومِ وصال لکھنا زیادہ قرینِ حقیقت سمجھتے ہیں۔ مثنوی مولانا رومؒ کا پہلا شعر سند رہے:
بشنو این نی چون شکایت می کند
از جدایی ھا حکایت می کند
(سنو! سنو! یہ بانسری کیا شکائت کر رہی ہے، یہ دراصل اپنی اصل سے جدائی کی داستان بیان کر رہی ہے)
اپنی اصل سے شعوری جانکاری رکھنے والے لوگ ہی جانتے ہیں کہ جزو کا کُل سے کیا تعلق ہے۔ ایک ہے، سب ایک ہے … اور چشمِ بصیرت کی ایک سے جدائی چشمِ بصارت میں تعدد کو جنم دیتی ہے۔ وحدت اور کثرت کے تعلق سے واقفِ حال عارفوں کا یومِ پیدائش ان کا یومِ فراق ہوتا ہے اور یومِ وفات درحقیقت ان کا یومِ وصال ہوتا ہے۔ بس! یہ قال نہیں، حال ہونا چاہیے۔ سنی سنائی بات نہیں، بیتی ہوئی بات ہونی چاہیے۔ جو بات بیت جائے، وہی اپنی ہوتی ہے … باقی سب باتیں، سنی سنائی باتیں … پرائی باتیں ہوتی ہے۔ سنی سنائی بات گواہی نہیں بنتی۔ گواہ تو عینی شاہد ہی ہو سکتا ہے … اور یہ لوگ شاہدین میں سے ہیں … عینی شاہد ہیں … انعام یافتہ ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کا راستہ فاتحۃ الکتاب میں صراطِ مستقیم بتایا گیا ہے … اور جس پر چلنے کی دعا کی جاتی ہے۔
جنابِ یونس ایمرےؒ کے ہاں پُرکیف حاضری کے بعد اب ہم مولانا رومؒ کے شہر قونیہ کی طرف 
عازمِ سفر ہو گئے۔ راستے میں ایک جگہ پٹرول پمپ سے فیول لیا۔ چائے کا کپ پیا۔ بیٹا اپنی گاڑی کی صفائی کے لیے واشنگ ایریا تک چلا گیا، اور ہم باہر لگی کرسیوں پر بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لینے لگے۔ ایک بڑے میاں ہمارے لباس کی تراش خراش دیکھ کر جان لیا کہ ہم مقامی نہیں۔ اس نے ترکی میں کچھ پوچھا۔ ہمارا حال یہ کہ ’’زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم‘‘ … اس کے پورے جملے میں فقط ایک لفظ ’’مملکت‘‘ سمجھ میں آیا۔ محسوس ہوا کہ پوچھ رہے، کس ملک سے ہیں۔ ہم نے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتایا ’’پاکستان‘‘۔ اس نے بھی جواب میں ادب سے سینے پر ہاتھ رکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔ ترکی واحد ملک ہے جہاں پاکستان اور پاکستانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وگرنہ باقی ہر جگہ ہماری شناخت کا جو حال ہے، اسے بُرا حال ہی کہہ سکتے ہیں۔ اکثر لوگ اپنا پاسپورٹ یعنی بین الاقوامی شناخت تبدیل کرنے اور کرانے میں کوشاں رہتے ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہم خود کو درست کرنے کی بجائے کسی درست حال ملک کی شہریت اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسے خود غرضی ہی کہا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری میں ’’عزت‘‘ حاصل کرنے کا ایک شارٹ کٹ راستہ ہم نے ڈھونڈ لیا ہے۔ باوقار ملک اور معاشرے اپنی شناخت کو ترک نہیں کرتے بلکہ اسے قابلِ قدر بناتے ہیں … یہ ایک لمبا اور محنت طلب راستہ ہے، لیکن دیرپا اور نسلوں تک کام آنے والا راستہ یہی ہے۔
بین الاقوامی برادری میں ترک ’’خاندانی لوگ‘‘ ہیں۔ خاندانی لوگ احسان فراموش نہیں ہوتے۔ یہ لوگ آج سے ایک صدی قبل کیے گئے ہمارے ایک وقتی اور جذباتی احسان کو آج تک یاد رکھے ہوئے ہیں۔ تحریکِ خلافت میں جب برصغیر کے مسلمانوں نے ترکوں کی مالی اور افرادی معاونت کی تھی، یہ اسے ابھی تک نہیں بھولے۔
برخوردار عبدالرحیم عرف رومی جن دنوں چناکلے یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے، اپنی گزر اوقات کے لیے پارٹ جاب بھی کیا کرتے۔ کبھی کسی اکیڈمی میں ترک بچوں کو انگریزی پڑھاتے اور کبھی چناکلے کی مقامی عدالت میں اردو مترجم کے طور پر اپنی خدمات پیش کرتے۔ دراصل غیر قانونی طور یونان کے راستے یورپ جانے والے اسی شہر کے ساحل سے ڈنکی لگا کر یونان منتقل ہوتے ہیں۔ شومئی قسمت کہ ان میں اکثریت پاکستانیوں کی ہوتی ہے۔ جب یہ لوگ پکڑے جاتے ہیں تو انہیں پولیس عدالت میں پیش کرتی ہے۔ یہاں اردو تو کیا انگریزی بھی کوئی نہیں جانتا۔ چنانچہ شہر میں واحد پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہمارے رومی صاحب کی بطور مترجم گاہے گاہے ضرورت پیش آتی رہتی۔ ہمارا رومی ترکی زبان ترکوں ہی کے لب و لہجے میں بول بول کر اتنا ’’فصیح البیان‘‘ ہو چکا ہے کہ یہاں کے مقامی لوگ اس سے پوچھتے ہیں: ’’کس شہر سے ہو؟‘‘۔ جب یہ ترکی کے ’’شہر‘‘ کی بجائے پاکستان کا نام لیتا ہے تو اپنی زبان کی پذیرائی دیکھ کر ترک لوگ اس کی بلائیں لیتے ہیں۔ عدالت کی طرف سے بطور مترجم انہیں ایک چھوٹا سا چیک بطور معاوضہ مل جاتا۔ جب گورنمنٹ کی طرف سے کوئی چیک ملتا ہے تو ٹیکس کی کٹوتی کیساتھ رقم ملتی۔ یہاں ایک جج کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ ٹیکس کی کٹوتی کے بغیر بھی چیک ایشو کر سکتا ہے۔ ایک بار جب انہیں چیک ملا تو ٹیکس کٹوتی کے بغیر ہی مل گیا۔ وہ جج کے پاس گئے کہ شاید ٹیکس کاٹنا بھول گئے ہیں۔ جج نے ان کو پیار سے بٹھایا اور کہا ’’بیٹا! تمہارے بڑے یہ ٹیکس ادا کر چکے ہیں‘‘۔ اس کی مراد تحریک خلافت میں یہاں کام آنے ہمارے آباء و اجداد تھے۔
چناکلے میں ایک بہت بڑا گنجِ شہداء ہے … اس قبرستان کے ایک حصے میں ان لوگوں کی قبریں ہیں جو دوسرے ملکوں سے آ کر ان کے ساتھ شانہ بشانہ انگریز کے خلاف لڑے تھے۔ اس گنجِ شہداء میں ایک قطع ارضی پر ’’پاکستان‘‘ بھی لکھا ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ بھارتی حکومت نے واویلا کیا، کہ اس وقت ابھی پاکستان نہیں بنا تھا، اس لیے یہاں انڈیا لکھا جائے۔ لیکن اس احتجاج کو اس وقت کی ترک حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔ سیکولر ترکی نے سیکولر بھارت کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کہ یہاں آ کر شہید ہونے والے مسلمانوں کو انڈین کہا جائے، کہ اس وقت وہ جغرافیائی اعتبار سے انڈین تھے۔ یعنی یہ لوگ بھی مانتے تھے کہ اس وقت انڈیا کے رہنے والے مسلمانوں نے جغرافیائی حد بندیاں توڑتے ہوئے اپنے لیے اسلام کے نام ایک الگ وطن قائم کر لیا تھا، جسے اب پاکستان کہتے ہیں، اس لیے ان شہداء کی شناخت بطور پاکستان ہونی چاہیے۔ سبحان اللہ! کیا ہی تعجب انگیز بات ہے … کلمے کے ساتھ مرنے والا، کلمے کے نام پر مرنے والا اپنی الگ پہچان مرنے کے بعد بھی قائم رکھتا ہے … اور اسے دنیا بھی ببانگِ دہل تسلیم کرتی ہے۔ یہاں ہمارے دیسی سیکولر بھلے دو قومی نظریہ نہ مانیں، دنیا بھر کے سیکولر دو قومی نظریہ تسلیم کرتے ہیں۔ معاشی نظریے کی بنیاد پر شمالی کوریا اور جنوبی کوریا، مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی تقسیم … اور مذہبی نظریے کی بنیاد پر مشرقی تیمور کی انڈونیشیا سے علیحدگی، جنوبی سوڈان سے سوڈان کی علیحدگی ایک بین الاقوامی حقیقت ہے۔ گویا ایک ہی رنگ نسل اور زبان رکھنے والی قوم نظریے کی بنیاد پر الگ ریاست کا مطالبہ کرتی ہے … اور بین الاقوامی برادری کھلے دل سے اس تقسیم کو تسلیم بھی کرتی ہے۔ ہمارے ہاں ابھی تک کھلی حقیقتوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کی راہ میں دقت ہے۔

مزیدخبریں