چین پاکستان اقتصادی راہداری پر بھارت کا اعتراض غیر متعلق: چین

06:59 PM, 16 Jan, 2026

بیجنگ: چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے شکسگام وادی سے متعلق دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا حصہ ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پیر کو پریس کانفرنس کے دوران پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیرات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ چین کی سرحد میں شامل ہے اور چین اس علاقے میں کسی بھی طرح کی سرگرمی کے لیے مکمل طور پر آزاد ہے۔

یہ بیان بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے اس بیان کے بعد آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور بھارت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ بھارتی ترجمان نے مزید کہا تھا کہ 1963 میں چین پاکستان کے درمیان ہونے والے سرحدی معاہدے کو بھارت نے کبھی تسلیم نہیں کیا اور اسے غیر قانونی اور کالعدم قرار دیتا ہے۔

بھارتی ترجمان نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ بھارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو تسلیم نہیں کرتا، اور جموں و کشمیر کے تمام یونین ٹیریٹریز کو بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ سمجھتا ہے۔

چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی موقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کا تعین کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرحدی حد بندی خودمختار ممالک کا حق ہے اور اس پر کسی قسم کا سوال اٹھانا غیر ضروری ہے۔

ماؤ ننگ نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک معاشی ترقی کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سطح پر سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے، اور اس کا کشمیر کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

چین نے اپنے موقف کو دہرایا کہ نہ تو چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور نہ ہی CPEC کشمیر کے مسئلے پر چین کے موقف کو متاثر کرتے ہیں، اور چین کا موقف بدستور قائم ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات، جن میں اروناچل پردیش اور دیگر متنازعہ علاقے شامل ہیں، طویل عرصے سے جاری ہیں۔ تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحدی علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کئی اقدامات اٹھائے گئے تھے تاکہ تعلقات میں بہتری آئے۔

اس کے باوجود، چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش جیسے علاقوں پر اختلافات برقرار ہیں، اور چین اسے زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ بھارت ان دعووں کو مسترد کرتا آیا ہے۔
 
 

مزیدخبریں