بھکاری انڈسٹری

09:04 AM, 16 Jan, 2026


کچھ برس قبل ایک ملاقات میں جاوید چوہدری صاحب سے میں نے سوال کیا کہ کیا ہمارے لوگ ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے فوراً جواب دیا " لوگ ٹھیک ہوتے نہیں ہیں، ٹھیک کرنا پڑتا ہے جب ہم فیصلہ کر لیں گے کہ لوگوں کو ٹھیک کرنا ہے تو لوگ ٹھیک ہو جائیں گے"۔
جس بے باکی اور اعتماد سے انھوں نے جواب دیا تھا اس سے ظاہر تھا کہ یہ بات ان کی کئی دہائیوں پر مشتمل فکری ریاضت کا نتیجہ ہے۔ 
ارباب اختیار کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ پھر پالیسی بنتی ہے اور اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ آغاز میں لوگ شور مچاتے ہیں۔ کئی طرح کی سازشی تھیوریاں بنا کر پیش کرنے لگتے ہیں، ان میں بہت سے افراد اپنے مفادات کو ٹھیس پہنچتی دیکھ کر حکومت کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں لیکن بعد میں یہی سب اس کے ثمرات سمیٹتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کے اطلاق اور اس ضمن میں کی جانے والی سختی پر بھی بہت شور مچایا گیا۔ کئی ٹاک ٹاکرز نے مظلوم قانون شکنوں کی ویڈیوز بنا بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کیں لیکن اگر آپ اب بھی ٹریفک کے حالات کا جائزہ لیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ٹریفک قوانین میں مزید سختی کی ضرورت ہے۔ یہ اور ایسے تمام مسائل ہمارے سماجی رویے کی پیدوار ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے ہاں ٹریفک کی روانی میں گاڑیوں سے زیادہ مسائل بھکاریوں نے پیدا کیے ہیں۔ آپ سگنل پر رکیں یا کسی دکان پر، کہیں خریداری کے لیے جائیں یا کسی اور کام سے، بھیک مانگے والے گینگ آپ کا کام دشوار ضرور بنائیں گے۔ یہ گینگ تعداد میں اتنے زیادہ ہیں کہ آپ قارون کا خزانہ اور حاتم طائی کا دل بھی مستعار لے لیں تو ان سے نمٹ نہیں سکتے۔ 
پاکستان میں بھکاریوں کی بڑی تعداد ایک معاشرتی اور معاشی مسئلہ بن چکی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں بھکاریوں کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ (38 ملین) تک پہنچ چکی ہے، جس میں خواتین، مرد اور بڑی تعداد میں بچے شامل ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق ان افراد کی کمائی ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ کراچی میں اوسطاً روزانہ 2 ہزار روپے، لاہور میں 1400، اور اسلام آباد میں 950 روپے، جبکہ سرکاری سطح پر ملک بھر میں ہر بھکاری تقریباً 850 روپے روزانہ وصول کرتا ہے۔ اگر ہم ان اعداد کو اجتماعی طور پر دیکھیں تو پاکستان میں بھکاری روزانہ تقریباً 32 ارب روپے عوام کی جیبوں سے لے رہے ہیں، جو سالانہ تقریباً 11.7 ٹریلین روپے (تقریباً 42 ارب ڈالر) بنتے ہیں۔ 
جوان لڑکے لڑکیاں، صحت مند بزرگ اور بچے اس کام میں مگن نظر آتے ہیں۔ ایک طرف، بھیک مانگنا غربت اور بے روزگاری کی نمائندگی کرتا ہے، تو دوسری طرف اس نے ایک منظم “بھکاری انڈسٹری” کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ہر گینگ کا اپنا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں مخصوص گینگ اپنے ورکرز بھیجتا ہے۔ بعض رپورٹس میں بچوں، عورتوں، اور معذوروں کو بھیجا جاتا ہے۔ بعض افراد بچوں کو معذور بنا کر ایسے جگہوں پر بھیجتے ہیں جہاں بھیڑ زیادہ ہوتی ہو۔ اب اے ٹی ایم مشینوں کے باہر بھکاری کرسی رکھ کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ بڑی شاہراہوں پر جہاں کوئی گڑھا بن جائے وہاں بھی یہ آ دھمکتے ہیں اگر کسی سڑک پر گڑھا نہیں بنا تو یہ اپنی مدد آپ کے تحت یہ اہم ذمہ داری انجام دیتے ہیں اور سڑک توڑ کر وہاں بوریا بستر لگاتے ہیں تا کہ ہر رکنے والی گاڑی سے چنگی ٹیکس وصول کیا جا سکے۔ یہ صورت حال نہ صرف اخلاقی اعتبار سے تباہ کن ہے بلکہ انسانی حقوق کے لیے بھی خطرناک ہے۔ 
اس کا ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ بھکاریوں کی یہ انڈسٹری صرف پاکستان میں ہی مسائل کا سبب نہیں بن رہی۔ بہت سے افراد زیارت کے بہانے دوسرے ممالک ممالک میں جاتے ہیں اور وہاں بھیک مانگنے پر گرفتار کیے جاتے ہیں، جس سے ملک اور قوم دونوں کی بد نامی ہوتی ہے۔ صرف سعودی عرب نے ہی چند ماہ میں لاکھوں پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے الزام میں واپس بھیجا ہے۔ ہمارے ہاں شہریوں اور انتظامیہ دونوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ بار بار کریک ڈاو¿ن کے باوجود یہ مسئلہ برقرار ہے، جس کا تعلق نہ صرف بے روزگاری سے ہے بلکہ منظم جرائم پیشہ گروہوں سے بھی ہے۔ بھکاری گینگ انسانی ہمدردی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور مستحق سفید پوش افراد کا حق مارتے ہیں۔ بعض رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ کچھ افراد غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں، جس سے قانون و نظم کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ بھکاری انڈسٹری کو ختم کرنے کے لیے قوانین کو مزید سخت کرنے اور ان کا اطلاق یقینی بنانے کی ضرورت ہے ورنہ یہ گینگ ہمیں ورثے میں کروڑوں بھکاری دے کر جائیں گے جن کی وجہ سے ملکی معیشت شدید مشکلات کا شکار رہے گی اور معاشرہ جرائم کا شکار ہو گا۔ 

مزیدخبریں