جنگ یا امن کے حوالے سے دیکھیں تو حالات دم بدم بدل رہے ہیں۔ ایک طرف جنگ کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں تو دوسری طرف جنگ رکوانے کی کوششیں بھی منطقی انجام کو پہنچ رہی ہیں۔ فیصلے کا انحصار ایک شخص کی ذہنی صحت پر جس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے، اس طوطے کی جان جس کی مٹھی میں ہے وہ اسرائیل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، امریکی حکومت اس کے سربراہ اور سی ای اے وی کچھ کرتے ہیں جو اسرائیل چاہتا ہے۔ موجودہ امریکی صدر اسرائیل کے سامنے بے حد بے بس نظر آتے ہیں، شاید اس کی واحد وجہ ایشین فائلز ہیں جن کے بارے میں قوی اطلاعات موجود ہیں کہ یہ فائلز اگر کسی بھی وقت سامنے آگئیں تو ٹرمپ کا سیاسی کیرئیر اور کاروبار دونوں زمین بوس ہو جائیں گے، ان کی بنیاد پر ٹرمپ اسرائیل کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں، ہوتے رہیں گے۔ جنگ کے خواہش مند ملک امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور بھارت ہیں۔ جنگ ہوتی ہے تو ان ملکوں کے وارے نیارے ، ان کا اسلحہ فروخت ہو گا۔ بھارت کا اسلحہ تو فروخت نہیں ہو گا لیکن وہ اپنی پرانی پرخاش کے سبب یہی خواہش رکھتا ہے۔ پاکستان، ایران، چین، روس، ترکی، سعودی عرب ، قطر کے علاوہ بعض دیگر اسلامی ممالک جنگ نہیں چاہتے، انہیں خبر ہے کہ نئی جنگ کا مقصد صرف ایران کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس کے بہانے متعدد مسلمان ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان کرنا ہے تاکہ یہ آپس میں لڑ لڑ کر کمزور ہوتے رہیں، ان کا اسلحہ خریدتے رہیں اور معاشی بدحالی کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لئے بڑی طاقتوں کے دست نگر رہیں اور کسی مرحلے پر سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہ بنیں۔
جنگ رکوانے کے سلسلے میں سعودی عرب، قطر اور اومان کا کردار شاندار ہے۔ اس حوالے سے امیر قطر کا وزیراعظم کو آنے والا فون نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اسی فون میں کسی اور طرف سے آیا ہوا کوئی اہم پیغام بھی ہو سکتا ہے۔ آئندہ دو روز میں واضح ہو گا کہ اس فون کے بعد پاکستانی قیادت کس کس ملک کی کس کس شخصیت سے رابطہ کرتی ہے۔ پاکستان اور اس کے دوست ممالک خصوصاً سعودی عرب نے امریکہ اور جنگ کے خواہش مند ممالک کو اہم ترین بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جنگ کی صورت میں جو تباہی آئے گی اس کا اثر امریکہ اور یورپ تک جائے گا، جن کی اقتصادیات پہلے ہی کافی متاثر ہو چکی ہیں۔ ایران صرف آبنائے ہرمز بند کر کے دنیا کی اس راستے سے ہونے والی تیل کی تیس فیصد تجارت کو بند کر کے جنگ کے خواہش مندوں کو مفلوج کر دے گا۔ یہ بات سب سمجھتے ہیں لیکن آج سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ اپنا ایک روپے کا نقصان کر کے مخالف کو چوّنی کا نقصان پہنچایا جا سکتا ہے تو جو کرنا ہے کر گزرو نتائج کی پروا نہ کرو۔
ماڈرن جنگ وارفیئر کیرم بورڈ کے کھیل کی طرح ہے، جس ڈاٹ کو آپ گھر پہنچانا چاہتے ہیں، اسے براہ راست نشانہ نہیں بھی بناتے ، نشانہ کوئی اور ڈاٹ ہوتی ہے۔ گھر کوئی اور ڈاٹ پہنچتی ہے۔ جنگ شطرنج کے کھیل سے بھی مماثلت رکھتی ہے جس مہرے کی چال چلنا مقصود ہو کبھی کبھار اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جاتا۔
اسرائیل کی طرف سے ایران کو یہ پیغام بھیجا جا رہا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ یہ آپ کی اور امریکہ کی جنگ ہے۔ یہ ترکیب کبھی بچے آزمایا کرتے تھے۔ دنیا کے ساتھ ساتھ ایران بھی خوب سمجھتا ہے کہ اسرائیل سر ہے اور امریکہ دھڑ۔ سر دھڑ سے جدا نہیں ہو سکتا۔ اسرائیل چشم تصور سے اپنی وہ تباہی دیکھ رہا ہے جو ایک روز میں دو ہزار میزائل اس پر گرنے سے آئے گی۔ یہاں آج بھی ماضی کا اہم سوال سامنے کھڑا ہے۔ اسرائیل کے دفاع کے لئے راستے میں جاہل مسلمان ممالک کارویہ کیا ہو گا۔ وہ راستے میں ان میزائلوں کو پہلے کی طرح روکنے کا فرض انجام دیں گے یا عقل کے ناخن لیں گے۔ اس وقت کویت میں پانچ امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ شام میں تین، عراق میں دو، اردن اور مصر میں ایک ایک، بحرین میں دو جبکہ اسرائیل اور سعودی عرب میں ایک ایک فوجی اڈہ موجود ہے جبکہ سب سے بڑا فوجی اڈہ قطر کی الحدید بیس ہے جہاں امریکہ کا بہترین اور جدید ترین جنگی سازو سامان اور پندرہ ہزار فوجی موجود ہیں۔ یہاں بمبار فائٹر طیارے میزائل سسٹم اور بھاری سامان منتقل کرنے والے فضا میں ری فیولنگ کرنے والے طیارے جنگ کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں، بعض اسلامی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود فضائی اڈے ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، نہ ہی اس کی فضائی حدود استعمال ہوں گی۔ یہاں اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ملک امریکہ کو اس کے ارادوں سے کیسے باز رکھ سکیں گے۔ یہ ممالک امریکی اشارے پر اسرائیل کے ایک میزائل مارنے کے بعد کانپ رہے تھے۔ یہ میزائل قطر پر فائر کئے گئے تھے۔ جب وہاں حماس سے مذاکرات جاری تھے۔ خبریں تو دی گئی ہیں کہ امریکہ بڑی تیزی سے قطر کی بیس سے اپنا سامان سمیٹ رہا ہے تو اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ صرف وہی سامان اٹھایا جا رہا ہے جس کی ممکنہ جنگ میں وہاں ضرورت نہیں پھر جس مقصد کے لئے یہ فوجی اڈہ بنایا گیا تھا وہ مقصد اسے بند کر کے پورا نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ خبر صرف ایک چال ہے تاکہ ایرانی میزائل قطر کی امریکی بیس کی طرف نہ آئیں۔
امریکی صدر دنیا کو ہر وقت حیران کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ وہ ایسے وقت میں ایران پر حملہ کر کے دنیا کو حیران کر دیتے ہیں جب ایران، امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر موجود تھا۔ وہ سر پر کھڑی جنگ کو کچھ دیر کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کر کے بھی دنیا کو حیران کر سکتے ہیں۔ وہ ہر بات کا کریڈٹ خود لینے کی ایک نفسیاتی بیماری کا شکار ہیں۔ اسی کے تحت وہ اپنے آپ کو دنیا کا عقلمند ترین اور بہادر ترین فرد بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ درحقیقت وہ کیا ہیں دنیا جان چکی ہے۔
جنگ شروع ہوئی تو امریکہ، ایران میں پچاس مختلف جگہوں کو نشانہ بنائے گا جن میں بجلی کی ترسیل کا نظام، فوجی اڈے، تیل کے ذخائر، شہروں میں موجود اہم عمارتیں ہیں جبکہ اسرائیل کے تمام بڑے شہر، بندرگاہیں، فوجی تنصیبات، دفاعی نظام، فوجی ہوائی اڈے، اہم فوجی دفاترایران کے طاقتور میزائلوں کی زد میں ہوں گے۔ ایران اس مرتبہ پہلے سے زیادہ بڑے اور خطرناک میزائل فائر کرنے کی تیاری مکمل کر چکا ہے جو اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اسرائیل کے ہر شہری کے چہرے پر موت کا خوف ہے۔ اسرائیل کی تیس فیصد آبادی اسرائیل سے نکل چکی ہے۔ اس کے ائیرپورٹس پر بھاگنے والوں کا اژدھام ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم یونان میں جا بیٹھے ہیں۔ ایران میں عوام اب پرسکون ہیں اور جارحیت کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ سگنل زرد ہے، دنیا منتظر ہے، یہ سرخ ہوتا ہے یا سبز۔
زرد سگنل
09:05 AM, 16 Jan, 2026