2014 میں نریندر مودی کے وزیرِاعظم بننے کے بعد بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سب سے زیادہ نشانہ مسلمان بنے، جنہیں ملازمت، تعلیم، رہائش اور ووٹنگ جیسے بنیادی حقوق میں امتیاز کا سامنا ہے۔ تاہم حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیحی برادری بھی اب اسی نفرت اور تشدد کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔
بھارت میں مسیحیوں کی آبادی محض 2.3 فیصد ہے، اس کے باوجود انتہا پسند ہندو حلقوں کی جانب سے انہیں جبری تبدیلی مذہب کا الزام لگا کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت کی 12 ریاستوں میں ایسے قوانین نافذ ہیں جو مبینہ طور پر ’جبر، دھوکے یا لالچ‘ کے ذریعے مذہب کی تبدیلی کو جرم قرار دیتے ہیں، جبکہ عملی طور پر ہر قسم کی تبلیغ کو مشکوک بنا دیا گیا ہے۔
کرسمس، جو آزادی کے بعد سے بھارت میں سرکاری تعطیل ہے، حالیہ برسوں میں تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ اتر پردیش کے وزیرِاعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جیسے رہنما کھلے عام کرسمس کی تعطیل کے خلاف بیانات دے چکے ہیں۔اسی ریاست میں کرسمس ایو کے موقع پر گرجا گھروں کے باہر ہجوم جمع ہوئے اور مسیحی مشنریوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگائے گئے۔
مدھیہ پردیش میں ایک بی جے پی رہنما کی جانب سے چرچ میں داخل ہو کر کرسمس تقریب میں خلل ڈالنے اور ایک نابینا خاتون پر تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور میں شاپنگ مال میں کرسمس کی سجاوٹ توڑی گئی اور سانتا کلاز کی مورتیاں نقصان کا شکار بنیں۔ اس نوعیت کے واقعات بی جے پی کے زیرِانتظام متعدد ریاستوں میں رپورٹ ہوئے۔
بھارت میں ہندوتوا نظریات کے زیر اثر بی جے پی اور آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے باعث مسلمانوں کیلئے مذہبی آزادی اور شناخت شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔ مختلف بھارتی رہنماو¿ں اور انتہا پسند تنظیموں کے حالیہ بیانات نے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے لیے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔ بھارتی جریدے ”دی ہندو“کے
مطابق ویسٹ بنگال کے علاقے مرشد آباد میں ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے بابری مسجد کے نام سے ایک نئی مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے، جس کے بعد ریاست میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دوسری جانب "دی ٹائمز آف انڈیا”کے مطابق بی جے پی نے مغربی بنگال میں بابری مسجد جیسے نام اور ماڈل پر مسجد کی تعمیر کی کھل کر مخالفت شروع کر دی ہے۔ بی جے پی لیڈر رامیشور شرما نے مسلمانوں کو سخت دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان بابری مسجد کی بنیاد کھودیں تو وہ ان ہی کی قبریں بنانے کیلئے استعمال ہوں گی۔انہوں نے واضح اعلان کیا کہ ویسٹ بنگال میں بابری مسجد ہرگز تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی۔ انتہا پسند ہندو تنظیم اتسو سمیتی کے صدر چندر شیکھر تیواری نے بھی مسلمانوں کے مذہبی حق پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بابر کے نام سے منسوب کسی مسجد کو برداشت نہیں کریں گے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق چند تنظیمیں بابری مسجد کی طرز پر تعمیراتی منصوبے کیلئے کروڑوں روپے کے عطیات جمع کر چکی ہیں، جس سے دونوں برادریوں کے درمیان مزید کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بی جے پی رہنماو¿ں کے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات نہ صرف بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ملک کے سیکولر تشخص کے لیے بھی شدید دھچکا ہیں۔بھارتی مسلمانوں نے مودی حکومت کی سخت پالیسیوں کے باوجود اپنے بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
امریکی اراکین کانگریس نے بھارت کو مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت شدید تشویش والا ملک قرار دینے کا مطالبہ کر دیا۔امریکا کے ری پبلکن رکن کانگریس گلین گروتھمین، امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی چیئرپرسن وکی ہرزلر اور نائب چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے وزیرخارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دیا جائے۔امریکی اخبار میں مشترکہ طور پر لکھے گئے مضمون میں تینوں رہنماو¿ں نے کہا ہے کہ چین کی صورتحال سے تو لوگ واقف ہیں تاہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں لوگوں کے مذہبی عقائد پر ظالمانہ ڈکٹیشن بدترصورتحال اختیار کررہی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ایک جنوب ایشیائی خصوصاً پاکستانی امریکن مسلمان امریکا کے اس انتہائی اہم کمیشن میں لیڈنگ کردارادا کررہے ہیں۔ ڈاکٹرآصف محمود کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے اور وہ پاکستان کے شہر کھاریاں سے امریکا منتقل ہوئے تھے۔امریکی رہنماو¿ں نے لکھا کہ1928سے بھارت کی 12 ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کیخلاف قوانین نافذ ہیں، تاہم حکام ان قوانین کو سیکڑوں لوگوں کی ناجائز گرفتاریوں کیلئے استعمال کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ مذہبی رہنما لوگوں کو مسیحیت یا اسلام قبول کرانے میں ملوث ہیں، بعض صورتوں میں مذہبی فسادات اور تشدد بھی سامنے آتا ہے۔امریکی رہنماو¿ں نے اس ضمن میں ریاست گوا کی مثال دی، جہاں وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ وہ ایسے قوانین نافذ کرنا چاہتے ہیں جن سے ”love jihad“کو روکا جائے جبکہ یہ الفاظ ہندو نیشنلسٹ سازشی نظریات پر مبنی ہیں کہ مسلم مرد ہندو لڑکیوں کو شادی کے بہانے مسلمان بنانا چاہتے ہیں۔اسی طرح اتر پردیش میں مسیحی پادری اور اسکی بیوی پربے بنیاد الزام لگایا گیاکہ انہوں نے ہندو پڑوسیوں کو تعلیم اور غذا کے پروگرام کے بہانے مسیحیت قبول کرانے کی کوشش کی۔
امریکی رہنماو¿ں نے کہا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی آزادی سلب کی جارہی ہے اور بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، نوبت یہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں جبراً تبدیلی مذہب پر سزائے موت تجویز کی جارہی ہے۔تینوں امریکی رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ بھارت اپنا تعلق امریکا سے مضبوط بنانا چاہتا ہے اس ضمن میں اینٹی کنورژن قوانین کا خاتمہ کرکے بھارت یہ ثابت کرسکتا ہے کہ وہ مشترکہ اقدام پر کاربند ہے۔
بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ خاص طور پر مسیحی برادری، جو آبادی کا ایک نہایت قلیل اور غریب طبقہ ہے، حالیہ ہفتوں میں منظم حملوں، دھمکیوں اور تضحیک آمیز کارروائیوں کا نشانہ بنی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتِ حال بھارت کے سیکولر تشخص اور آئینی اقدار پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔
بھارت ،مذہبی انتہا پسندی کا فلیش پوائنٹ
09:04 AM, 16 Jan, 2026