ذکر کچھ اہم بحری اداروں کا !

09:08 AM, 16 Feb, 2026

پاکستان نیوی کی قیادت میں کراچی کا دورہ نہایت دلچسپ اور معلوماتی ثابت ہوا۔ایک طرف تو کراچی میں میل ملاقاتوں، دعوتوں اور سیر و تفریح کا سلسلہ جاری رہا۔ دوسری طرف پاکستان نیوی کے نہایت اہم اداروں کے دوروں کے مواقع میسر آئے۔میں نے کچھ اداروں کے نام سن رکھے تھے۔ ان کے بارے میں کچھ معلومات بھی میرے پاس تھیں۔تاہم پہلی مرتبہ تفصیلا ان اداروں کے کردار کے متعلق آگہی ہوئی۔ مثال کے طور پر پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA)  کا دورہ کرنا اوربریفنگ لینا نہایت عمدہ اور معلوماتی تجربہ تھا۔پتہ چلا کہ یہ بحری ایجنسی ایک خاموش اور ناقابل شکست قوت کی شکل میں پاکستان کے سمندری افق پر موجود ہے۔ یہ دراصل پاکستان کی سمندری حدود میں قانون نافذ کرنے والی فورس ہے۔پاکستان کی سمندری حدود کی نگرانی کرنا، ان حدود میں کسی غیر قانونی داخلے ، غیر ملکی کشتیوں یا ماہی گیروں کو روکنا، منشیات ، اسلحہ،غیر قانونی سامان اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کرنا اس ایجنسی کی ذمہ داری ہے۔اس کے علاوہ پاکستانی ماہی گیروں کے تحفظ، سمندر میں حاثات کی صورت میں فوری امداد  اور لاپتہ کشتیوں اور افراد کی تلاش اور بازیابی بھی اس ایجنسی کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس نے سینکڑوں اینٹی اسمگلنگ آپریشنز کئے ہیں۔ اربوں روپے مالیت کی شراب، منشیات اور غیر قانونی سامان ضبط کر کے ٹھکانے لگایا ہے۔ سینکڑوں غیر قانونی داخلے روکے ہیں اور قیمتی جانیں بچائی ہیں۔ اگرچہ مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ یہ ادارہ غیر قانونی ماہی گیری اور اسمگلنگ وغیرہ کی روک تھام میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔تاہم ایجنسی کے دورے اور بریفنگ سے معلوم ہوا کہ کس طرح پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکار ، افسر اور جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔
ایک صبح ہم نے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس کا دورہ کیا۔ یہ ادارہ پاکستان بحریہ کی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ کمرشل سرگرمیوں میں بھی مصروف عمل ہے۔ پتہ یہ چلا کہ برسوں پہلے (غالبا 1950 میں) جب شپ یارڈ کی بنیاد رکھی گئی تھی تو مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو شپ بلڈنگ کے شعبے میں خود کفیل بنایا جا سکے۔ تاہم وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اس نے ترقی کی اور اپنا دائرہ کار مزید پھیلایا۔ اب یہ شپ بلڈنگ اور انجینئرنگ کمپلکس بن چکا ہے جو مختلف دفاعی اور تجارتی منصوبوں کی تکمیل میں سرگرم عمل ہے۔ شپ یارڈ میں جنگی بحری جہاز اور تجارتی کارگو جہاز بنائے جاتے ہیں، جہاز مرمت کئے جاتے ہیں، میری ٹائم سیکیورٹی ویسلز بنائے جاتے ہیں۔ دوست ممالک ترکی اور چین کے اشتراک سے کئی بڑے اور اہم بحری دفاعی منصوبوں پر کام ہواہے۔ پتہ چلا کہ اس ادارے نے پاکستان کو غیر ملکی اور بیرونی انحصار سے نکال کر دفاعی خود انحصاری کی راہ اختیار کی ہے۔اس طرح یہ ادارہ پاکستان کے بحری دفاع اور صنعتی ترقی میں بخوبی اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ ہم نے یہاں کا دورہ کیا تو دیکھا کہ بحری جہاز یہاں مرمت کیلئے موجود تھے۔یہاں آبدوز کی تیاری کا عمل جاری تھا۔ زندگی میں پہلی بار مجھے براہ راست آبدوز دیکھنے کا موقع ملا۔ گوادر سے تعلق رکھنے والی ہماری ساتھی مریم صبا نے اصرار کیا کہ وہ آبدوز کو چھونا چاہتی ہے۔ اس کی خواہش کی تکمیل کیلئے اسے ایک سیڑھی کے ذریعے آبدوز تک رسائی دی گئی ۔ اس نے اس زیر تکمیل آبدوز کو چھوکر اپنی برسوں پرانی آرزو پوری کی۔ کراچی شپ یارڈ محض جہاز بنانے اور مرمت کرنے کا کارخانہ نہیں ہے، یہ پاکستان کی دفاعی خود مختاری ، صنعتی اور تکنیکی مہارت کی علامت ہے۔ امید ہے کہ آنے والے سالوں میں پاکستان بحری دفاع کے حوالے سے خود انحصاری کی منازل مزید تیزی سے طے کرئے گا ۔ انشااللہ
کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کا دورہ بھی معلوماتی رہا۔میں نے اس ادارے کانام پہلی مرتبہ سنا تھا۔ معلوم ہواکہ پاکستان کی سمندری یا بحری تجارت میں اس ادارے کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہ ادارہ ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ (یعنی کراچی پورٹ) کی انتظام کاری اور آپریشنز وغیرہ کا ذمہ دار ہے اور پاکستان کی بحری تجارتی سرگرمیوں کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی پورٹ کے ذریعے روزانہ اربوں روپے مالیت کی تجارتی سرگرمیاں اور لین دین ہوتا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اس تجارتی عمل کو یقینی بناتا ہے۔ پورٹ پر ہونے والی تجارتی شپنگ، لوڈنگ ، ان لوڈنگ کی نگرانی اس ادارے کی ذمہ داری ہے۔یہ اتھارٹی پاکستان کی درآمدات اور برآمدات کیلئے ٹرمینل، کنٹینرز، کولڈ اسٹوریج، وئیر ہاوسز وغیرہ کی فراہمی بھی یقینی بناتی ہے۔
ہمیں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کا دورہ بھی کروایا گیا۔ یہ پاکستان کی تجارتی جہاز رانی کا مرکزی ادارہ ہے۔ مجھے ان دونوں اداروں کے متعلق کوئی معلومات نہیں تھیں۔ سچی با ت ہے کہ میں نے ان کے نام بھی پہلی بار سنے تھے۔  بریفنگز سے کچھ معلومات حاصل ہوئیں۔ تاہم ہمارے ساتھ موجود کراچی کے بزنس مین ساتھیوں نے نہایت عمدہ سوالات کئے ، ان سے ان اداروںکے کردار کو سمجھنے اور مزید بہتری کی گنجائش کے حوالے سے اچھی معلومات ملیں۔  ایک اہم بات یہ سمجھ آئی کہ اگرچہ یہ تمام ادارے اپنی اپنی جگہ متحرک ہیں، تاہم یہ ایک مربوط طریقے سے ، باہمی تعاون کیساتھ کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کراچی پورٹ ٹرسٹ کی معاونت کے بغیر شپنگ کارپوریشن پوری طرح بروئے کار نہیں آسکتی۔ بالکل اسی طرح سیکیورٹی اور ریسکیو وغیرہ کے حوالے سے میری ٹائم ایجنسی کی ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سب ادارے مل کر ملک کے بحری دفاع، بحری تجارت اور بحری معیشت کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔سچ یہ ہے کہ پاکستان کا سمندر، ہمارے بحری ادارے، ہماری بحریہ، یہ سب قومی دفاع ، صنعت و تجارت کا نہایت اہم ستون ہیں۔ 
کراچی میں نیوی کی تربیت اور انتظام کاری کی کمان کمانڈر کراچی(COMKAR) کے سپرد ہوتی ہے۔ کراچی کے تربیتی یونٹس، ساحلی انتظام اور دفاعی آپریشنز  وغیرہ کمانڈر کراچی کی نگرانی میں انجام پاتے ہیں۔ یہ نیوی کے تمام شعبوں، افسران، آپریشنز، منصوبہ بندی وغیرہ کی نگرانی اور راہنمائی کرنے والے افسر ہیں۔ کمانڈر کراچی نے اس تربیتی ورک شاپ کے شرکاء کیلئے ایک پرتکلف عشائیے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ہم سب اپنی اپنی مخصوص میزوں پر بیٹھے گفتگو کرتے رہے۔ نیوی کا بینڈ کھانے کے دوران عمدہ دھنیں بجاتا رہا۔ پتہ چلا کہ نیوی کے تمام باورچیوں اور ملازمین کوایک ہی جگہ کھانا پکانے وغیرہ کی تربیت دی جاتی ہے۔ 
نیوی کے ایک اعلیٰ افسر ہماری میز پر موجود تھے۔ ان سے اچھی گفتگو رہی۔ انہیں میرے میڈیا سے متعلق پس منظر کا علم ہوا تو وہ پاکستانی میڈیا کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔ وہی گفتگو جو عمومی طور پر ہم سب نیوز میڈیا کی سنسنی خیزی سے عاجز آ کر کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نیوز میڈیا سے دور رہتے ہیں۔ کبھی کبھا ر پرانے ڈرامے دیکھتے ہیں اور پرانے گیت سنتے ہیں۔ 
 یہ ایک نہایت عمدہ شام تھی۔ کمانڈر کراچی اور دیگر افسران سے مل کر، ان سے گفتگو کر کے اچھا لگا۔ ان تمام دنوں میں ایک بات میں مسلسل سوچتی رہی۔ خیال آیا کہ نیوی جو ہمارا ایک اہم ادارہ ہے ، یہ قومی میڈیا پر دکھائی کیوں نہیں دیتا۔اس کی خبریں بھی ہمیں شاذ و نادر ہی سننے کو ملتی ہیں۔ہماری بری اور فضائی فوج کے کئی بہادر ہیروز ہمیں یاد ہیں۔ کھانے کی میز پرمیں نے اپنے ذہن پر زور دیا تاہم مجھے نیوی کا کوئی بھی ہیرو یاد نہیں آ سکا۔میں نے سوچا کہ نجی ٹی وی چینلوں کو تو خیر ریٹنگ سے فرصت نہیں، سرکاری ٹی وی پر بھی پاکستان نیوی سے متعلق کوئی ڈاکیومنٹری ، وغیرہ میری نگاہ سے نہیں گزری ۔ معلوم نہیں کیوں ہم نے آج تک قومی میڈیا پر اس اہم ادارے کی اس طرح پذیرائی نہیں کی جس طرح کہ ہونی چاہیے تھی۔ 
ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر 

مزیدخبریں