ملک دشمن عناصر کی جانب سے جنوبی بلوچستان کے ضلع کیچ کو ایک عرصے تک محرومی اور بے روزگاری کے من گھڑت بیانیے کے ساتھ جوڑا جاتا رہا۔ تاہم حالات اس کے بالکل برعکس ہیں یہاں روزگا رکے امکانات کی کوئی کمی نہیں بلکہ ان مواقع کو منظم سمت دینے، نوجوانوں کی رہنمائی کرنے اور معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک فکری لڑی میں پرونے کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی جانب سے کیچ میں منعقد کیے گئے مسلسل تین اہم سیمینارز ایک مربوط سماجی و فکری حکمت عملی کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کا مقصد نوجوانوں، خواتین اور عام شہریوں کو ترقی اور استحکام کے اجتماعی سفر میں شریک کرنا ہے۔ کیچ میں چند روز قبل ’’جنوبی بلوچستان میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع‘‘ کے موضوع پر منعقد سیمینار سوئم نے ایک ایسے تاثر کو چیلنج کیا جو برسوں سے نوجوان ذہنوں پر بوجھ بن کر مسلط رہا ہے۔ (کہ جنوبی بلوچستان میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔) اس سیمینار کا بنیادی مقصد اس منفی سوچ کا ازالہ کرنا اور نوجوانوں کو یہ باور کرانا تھا کہ ان کے اپنے جنوبی بلوچستان میں روزگار کے بے شمار امکانات موجود ہیں، ضرورت صرف رہنمائی، مہارت اور خود اعتمادی کے فروغ کی ہے۔ اس سیمینار میں مقامی سیاسی قیادت، قبائلی عمائدین، سول انتظامیہ، سکیورٹی اداروں کے نمائندگان، اساتذہ، ڈاکٹرز، دانشوروں، میڈیا نمائندگان اور تربت کے مختلف کالجز اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سیمینار کے پینل میں صوبائی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی، سیکرٹری سپورٹس اینڈ امور نوجوانان درا بلوچ، معروف کاروباری شخصیت حاجی برکت بلیدی، فاؤنڈر جھونم انٹرپرائز مصطفیٰ احمد زئی، فاؤنڈر نیبل فوڈز ثاقب وحید اور کوفاؤنڈر دزگوار سٹور ماریہ معظم شامل تھے۔ پینل ممبران کی گفتگو کی اہمیت اس لیے بھی دو چند ہو گئی کہ ان کا تعلق جنوبی بلوچستان سے ہے اور انہوں نے محدود وسائل میں جدوجہد کر کے اپنی پہچان بنائی۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ جنوبی بلوچستان میں چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں نمایاں گنجائش موجود ہے۔ نوجوان اگر جدید ہنر سیکھیںاور تسلسل کے ساتھ محنت کریں تو ایک خوشحال مستقبل ان کا منتظر ہے۔ مزید روایتی کاروبار کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل شعبوں میں میسر مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ سیمینار کے پینل ممبران کی ذاتی جدوجہد اور کامیابیوں نے نوجوانوں کے حوصلے بلند کیے اور یہ پیغام دیا گیا کہ مشکلات کسی بھی معاشرے کا حصہ ہوتی ہیں، مگر وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو حالات کو جواز بنانے کے بجائے انہیں بدلنے کا عزم رکھتی ہیں۔ اس موقع پر آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کو تلقین کہ وہ تعلیم اور ہنر کے حصول پر توجہ مرکوز رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی بلوچستان میں روزگار اور ترقی کے مواقع موجود ہیں، نوجوانوں کو مشکلات سے گھبرانے کے بجائے محنت، مستقل مزاجی اور لگن کو اپنا شعار بنا کر کامیابی کی منازل طے کرنا ہوں گی۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کیچ میںمنعقد ہونے والا ’’معاشرتی ترقی میں بلوچ خواتین کا کردار‘‘ کے موضوع پر دوسرا اہم سیمینار تھا۔ اس سیمینار کا مقصد بلوچستان کی خواتین کی معاشی و سماجی اہمیت اور علاقائی ترقی میں ان کے کردار کو اجاگرکرنا تھا۔ سیمینار کے پینل میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، صوبائی وزیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید، سابق رکن بلوچستان اسمبلی مسز ماہ جبین شیران اور University of Balochistan کی پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ حبیب شامل تھیں۔ مقررین نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ بلوچ خواتین نے تعلیم، طب، بیوروکریسی، سیاست اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور وہ معاشرتی استحکام کی مضبوط ستون ہیں۔ سوال و جواب کے سیشن میں طالبات کی پُر اعتماد گفتگو اس بات کی علامت تھی کہ نئی نسل کی خواتین اپنے حقوق اور ذمہ داریوں دونوں سے آگاہ ہیں۔ آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرتی ترقی ایک منظم ارتقائی عمل ہے، جس میں بلوچ خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔ آج بلوچ خواتین اپنی محنت، عزم اور صلاحیتوں کے بل پر قومی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ ترقی کے اس سفر میں اپنے اخلاقی و ثقافتی اقدار کو برقرار رکھیں، مشکلات کے سامنے ہمت نہ ہاریں، میسر مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے نبھائیں۔ اسی سلسلے میں تیسرا اہم سیمینار ’’ترقی اور سکیورٹی ایک مشترکہ ذمہ داری‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کا مقصد عوام میں یہ شعور اجاگر کرنا تھا کہ امن و امان کا قیام، قانون کی بالادستی اور دہشت گردی و جرائم کا خاتمہ صرف ریاستی اداروں کی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور امن کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ سیمینار کے پینل میں صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، صوبائی وزیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید اور ڈائریکٹر بلوچستان تھنک ٹینک ڈاکٹر سراج بشیر شامل تھے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ علاقے میں دیرپا امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے عوام کی بھرپور شمولیت اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔ اس موقع پر آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے کہا کہ ایف سی بلوچستان (سائوتھ)، سکیورٹی کے ساتھ ساتھ فلاحی اور سماجی شعبوں میں بھی سرگرم ہے، جن میں بیواؤں کے لیے گھروں کی تعمیر، سکولوں، مدارس اور بنیادی صحت مراکز کی بحالی، فری میڈیکل کیمپس، سولر سسٹم اور آر او پلانٹس کی فراہمی، کھیلوں کی سرگرمیاں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جرگوں اور کھلی کچہریوں کا انعقاد شامل ہے۔ سیمینار کے اعلامیے میں کیچ سول لیزان کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، جو باہمی رابطے اور مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر مثبت کردار ادا کریں گے۔ ان تینوں سیمینارز کو مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک واضح پیغام ابھرتا ہے کہ جنوبی بلوچستان میں ترقی کا عمل صرف سرکاری منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ فکری بیداری، سماجی ہم آہنگی اور عوامی شرکت سے جڑا ہوا ہے۔ نوجوانوں کو روزگار کی سمت دینا، خواتین کو معاشرتی کردار میں مزید فعال بنانا اور امن و امان کے قیام کو اجتماعی ذمہ داری کے طور پر تسلیم کرنا۔ یہ سب عناصر مل کر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں جو خود اعتمادی اور استحکام کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے۔
ایف سی بلوچستان(سائوتھ)کاکیچ میں تیسرا اہم سیمینار
09:05 AM, 16 Feb, 2026