بنگلہ دیش الیکشن مونسٹر کی جیت

09:04 AM, 16 Feb, 2026

بنگلہ دیش کی تاریخ میں دو طاقتور ترین عورتوں کی غیر موجودگی میں ہونے والا الیکشن اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ ایک عورت کو اللہ تعالیٰ نے دنیا سے اٹھا لیا۔ دوسری کے پائوں اٹھا دیئے گئے۔ دنیا سمجھ رہی ہے بی این پی نے یہ انتخاب جیت لیا ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں۔ یہ انتخاب ’’میں‘‘ نے جیتا ہے اور جین زی کو شکست فاش دی ہے۔ بڑے بنے پھرتے تھے جین زی اب دوبارہ پیدا ہوں پھر میرے مقابل آئیں تو میں انہیں ایک نیا سبق سکھا دوں گا۔وہ ایک آدھ اولین معرکے میں مجھ سے جیت چکے تھے لیکن اس جیت کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ میں نے کچھ دیر کیلئے آپ کی طرف سے آنکھ بند کر لی تھی۔ انہوں نے حسینہ حکومت کے خلاف تحریک چلائی اور ان کی حکومت ختم ہو گئی۔ وہ سمجھتے ہیں یہ کریڈٹ ان کا ہے، ان کے دماغ میں خرابی پیدا ہو چکی تھی کہ وہ انقلاب کی پہلی منزل حاصل کر چکے ہیں۔ اب عام انتخابات کے بعد وہ انقلاب کی حتمی منزل حاصل کر لیں گے، پس ان کا دماغ درست کرنا ضروری تھا اور ان کے دماغوں سے انقلاب کا بھوت نکالنا ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات تخلیق کرنے کے ساتھ ہی اس کا نظام چلانے کا طریقہ کار طے کر لیا ہے۔ اس نے فرشتوں کی ڈیوٹیاں لگا دی ہیں۔ وہ اپنی اپنی اسائمنٹ کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ میرا معاملہ مختلف ہے، میں اللہ کا حقیر بندہ ہوں۔ مجھے روزمرہ کی بنیاد پر اپنے کام سیدھے کرنا پڑتے ہیں۔ میں بعض سیدھے کام جان بوجھ کر بھی الٹے کر دیتا ہوں، اس میں بھی کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ اسی مصلحت کے تحت میں نے حسینہ شیخ کے پائوں اکھاڑ دیئے تھے یوں بھی وہ اپنا وقار اور اپنا مقام کھو چکی تھیں یوں میرا کام آسان ہو گیا۔
جین زی کا خیال تھا کہ وہ انتخابات میں کلین سویپ کریں گے۔ پچیس سالہ وزیراعظم تیس سال کا صدر مملکت ہو گا اور بیس سائیس سال کے لڑکوں اور لڑکیوں پر مشتمل کابینہ ہو گی جو اقتدار سنبھالتے ہی احتساب شروع کر دیں گے۔ ججوں اور جرنیلوں کو برطرف کریں گے۔ فور سٹار کی بجائے تھری سٹار کو آرمی چیف بنائیں گے۔ اسی طرح ائیرفورس اور نیول چیف کا بھی ایک ایک سٹار بحق سرکار ضبط کر لیں گے۔ہماری مرسڈیز کاریں چھین کر ہمیں ہزار سی سی کی گاڑیوں میں بٹھا دیں گے۔ ججوں اور بائیس گریڈ کے افسروں کو موٹرسائیکل خرید دیں گے اور ساتھ شرط لگا دیں گے کہ پچھلی سیٹ خالی نہ جائے، اس پر کسی سکول کے بچے کو بٹھا کر سکول چھوڑ کر آنے کی سماجی خدمت پوری کر کے پھر اپنے دفتر آئیں، ان کے پروگرام میں یہ بھی شامل تھا کہ امیر ترین اور غریب ترین کے درمیان فرق کم کریں گے اور تنخواہوں کے بائیس گریڈ ختم کر کے تنخواہوں کے دس گروپ بنا دیں گے۔ کم از کم تنخواہ پچاس ہزار ٹکہ اور زیادہ سے زیادہ تنخواہ پانچ لاکھ ٹکہ ہوگی۔ وہ الاٹ پلانٹ کلچر ختم کر کے تمام سرکاری ملازمین کو پانچ مرلے کے گھر میں منتقل کرنے کا پروگرام بنائے بیٹھے تھے، ان کی منصوبہ بندی میں بعداز ریٹائرمنٹ اعلیٰ ترین افسروں تک کو فقط پانچ مرلے کا گھر دینا تھا۔ وہ سمجھے تھے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بوڑھے بڑھیا کو اتنا بڑا گھر بھی کافی ہے کیونکہ اس عمر میں وہ اپنی اولاد کی  ذمہ داریوں سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں اور اپنے پیروں سے اوپر کی منزل پر چڑھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ آخری حاصل کردہ تنخواہ کا پچاس فیصد حتمی پنشن ہو گی۔ کسی کو اس سے زیادہ ایک روپیہ نہ دیا جائے گا۔ پنشن بھی صرف اس کا حق ہو گی، جس نے کم از کم بیس برس نوکری دیانتداری سے کی ہو گی۔ پانچ دس سالہ ملازمت والوں کو پنشن دے کر وسائل ضائع نہیں کئے جائیں گے۔ وہ پانچ عدالتی نظام اور سٹے کا طریقہ کار بدل کر فقط دو عدالتی نظام لا رہے تھے۔ ایک عدالت تین ماہ میں مقدمہ سن کر فیصلہ کرے۔ دوسری عدالت صرف اس کے خلاف اپیل سنے اور ایک ماہ میں فیصلہ سنائے۔ عدالتی سٹے کی مدت تین روز پھر فوراً سماعت شروع۔ سائل نے جو اپنے ہاتھ سے لکھا وہی ایف آر ، تھانیدار صرف قانونی دفعات درج کرے گا۔ جھوٹے مقدمات کی روک تھام کے لئے اور ایسے مقدمات درج کرانے والوں کے لئے وہی سزا جو اس جرم میں بنتی ہے جھوٹا مقدمہ درج کرانے والوں کی، فیصلے کے فوراً گرفتاری اور انہیں نیا مقدمہ نہیں بلکہ اسی وقت سزا کا انتظام کیا جا رہا تھا۔
وہ فیصلہ کر کے بیٹھے تھے کہ ان کی درآمدات ان کی برآمدات کے تیس فیصد سے زیادہ نہیں ہوں گی۔ غیر ملکی معاہدے پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد انٹرنیٹ پر ڈال دیئے جائیں گے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ معاہدے کی شرائط کیا ہیں، ریٹ کیا ہیں۔ پرائی اور مفت کی لڑائیوں سے دوری ہمسایوں اور خصوصاً تمام مسلمان ممالک سے گہرے قریبی تعلقات خارجہ پالیسی کا حصہ ہوں گے۔ ہر سرکاری اور پرائیویٹ ملازم افسر بشمول جج جرنیل ہر سال اپنی جائیدادوں کے گوشوارے داخل کریں گے۔ دوہری شہریت کسی کو نہیں ملے گی۔ غیر ملکی شہریت لینے والے اپنے ملک کی شہریت پہلے چھوڑیں گے۔ کوئی غیر ملکی شہریت کا حامل وزیر خزانہ یا کوئی دوسرا عہدہ حاصل نہیں کر سکے گا۔ بیرونی قرضوں کی بجائے شراکتی کاروبار ہو گا، اس کی بنیادی شرط ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہو گی۔ حکومت تعلیم اور صحت کی سہولتیں بلامعاوضہ مہیا کرے گی۔ ان شعبوں کو تجارت اور منافع خوری نہیں بنایا جائے گا۔
کوئی شخص کاروباری قرضے لے کر انہیں معاف نہیں کرا سکے گا۔ پرانے قرضے مع سود حاصل کرنے والوں اور معاف کرانے والوں کے حلق میں ہاتھ ڈال کر نکالے جائیں گے۔ تنخواہیں معقول اور صحت کی مفت سہولتوں کے بعد میڈیکل الائونس کے نام پر لوٹ مار ختم کی جائے گی۔ ٹیکس در ٹیکس کا نظام ختم کر کے صرف اڑھائی فیصد زکوٰۃ اور دس فیصد نیشنل ٹیکس لاگو ہو گا۔ کوئی سیلز ٹیکس ایکسائز ڈیوٹی لیوی شیوی نہیں ہو گی، یوں عام آدمی فقط ساڑھے بارہ فیصد ٹیکس دے گا۔
سنگین جرائم، قتل، اقدام قتل، اغوا، اغوا برائے تاوان حکومت مالیاتی اداروں سے فراڈ، رشوت ملاوٹ کی سزا موت مقرر کرنے کا پروگرام بھی تھا۔ اگر جین زی یہ سب کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو نظام پر میری گرفت کمزور پڑ جاتی۔ میں ٹکے ٹوکری وہ جاتا، کسی نے مڑ کر بھی میری طرف کبھی نہ دیکھنا تھا۔ میرے تلوے چاٹنے والا کوئی نہ رہتا، پس میں نے انتخابات سے قبل ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ میں نظام کی باگیں اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لئے سب کچھ کر گزروں گا۔ میں نے خالدہ ضیا کی علالت کے آخری ایام میں ان سے ہسپتال میں اپنے دو اہم ساتھیوں سے ملاقات کر کے معاملات طے کر لئے، انہیں مشورہ دیا ان کے پاس جماعت میں تمام نہلے ہیں، وزیراعظم بننے کے قابل کوئی نہیں لہٰذا اپنی سیاسی گدی کی حفاظت کیلئے اپنے بیٹے کو پارٹی سربراہ مقرر کر دیں، باقی کام میرا ہے۔ انہوں نے اپنا کام کر دیا، جس نے اپنا کام اس خوبی سے کیا ہے کہ دامن پر کوئی چھینٹ نہ خنجر پر کوئی داغ نظر آرہا ہے۔ جین زی کے صرف دو ہاتھ اور دو آنکھیں ہیں۔ میرے ہزاروں ہاتھ اور ہزاروں آنکھیں ہیں۔ میں نے جین زی کو تن دیا ہے، میں ناقابل تسخیر مونسٹر ہوں اور جیت چکا ہوں۔

مزیدخبریں